اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فارماسیوٹیکل شعبے میں 44 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 بزنس ٹو بزنس (B2B) معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، جدید ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ہیپاٹائٹس سے بچاؤ سمیت متعدد اہم شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام میں تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا، جسے پاکستان کے صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور چین کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی مشترکہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط معاشی شراکت داری کا عملی مظہر ہیں اور ان سے پاکستان میں فارما انڈسٹری کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، مقامی پیداوار میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام معاہدے جلد عملی شکل اختیار کریں گے اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد، مخلص اور آزمودہ دوست ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کے تحت تقریباً 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، توانائی اور مواصلاتی نظام میں نمایاں بہتری پیدا کی، جبکہ اب دونوں ممالک کے درمیان نجی شعبے کا تعاون اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ کو ایک وژنری رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں چین نے نہ صرف معاشی میدان میں حیران کن ترقی کی بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق، صنعت اور عالمی سفارت کاری میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی کامیابی پوری دنیا کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔
وزیراعظم نے خطے کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی نے عالمی امن اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے، تاہم پاکستان نے امن کے فروغ کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی سفارتی کوششوں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، جس میں چین سمیت دوست ممالک نے بھرپور تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات قابل ستائش ہیں اور تاریخ ان کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ وزیراعظم نے چین سے آنے والے تقریباً 300 رکنی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی شہری ہمارے معزز مہمان ہیں اور ان کی سیکیورٹی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بزنس ٹو بزنس تعاون کے فروغ کا واضح وژن پیش کیا ہے، جو دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان سرمایہ کاری اور صنعتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات مسلسل وسعت اختیار کر رہے ہیں اور فارماسیوٹیکل شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کاروبار میں آسانی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ کو مزید تیز کیا جائے اور اصلاحاتی اقدامات کی شفافیت جانچنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کرائی جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے 558 اصلاحات مکمل کی جا چکی ہیں، جن میں سے 71 پالیسی اقدامات پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ 272 اصلاحات پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق ان اصلاحات سے کاروباری برادری کو ضابطوں اور غیر ضروری کاغذی کارروائیوں میں کمی کے باعث 468.7 ارب روپے تک کی بچت متوقع ہے، جبکہ اس سے برآمدات، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
مزید برآں وزیراعظم نے اڑان اوورسیز پاکستان سمر سکالرز پروگرام کے تحت وطن آنے والے بیرون ملک زیر تعلیم پاکستانی طلبہ و طالبات سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی جامعات میں حاصل ہونے والا علم، تحقیق اور تجربہ ملکی ترقی، جدید معیشت اور خود انحصاری کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس نظام میں بہتری، قابل تجدید توانائی، زرعی ترقی اور برآمدات میں اضافے کی پالیسیوں کا مقصد پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خودکفیل معیشت بنانا ہے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سرمایہ کار دوست پالیسیوں، مضبوط سفارتی تعلقات اور معاشی اصلاحات کے ذریعے ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گا، جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری آئندہ برسوں میں مزید مضبوط اور وسیع ہوگی۔



