انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

آپ زندہ ہیں یا مرگئے ۔۔۔؟

بے لگام / ستار چوہدری

اگر آپ محنت نہیں کرتے، محبت نہیں کرتے، کتاب نہیں پڑھتے، شاعری نہیں سنتے اورموسیقی سے بھی آپ کے دل میں کوئی کیفیت پیدا نہیں ہوتی، تو پھرآپ موت سے کیوں ڈررہے ہیں۔۔۔؟ آپ تو پہلے ہی مرے ہوئے ہیں ۔۔۔۔
بعض اوقات انسان کی سانسیں چل رہی ہوتی ہیں، دل بھی دھڑک رہا ہوتا ہے، وہ دفتر بھی جاتا ہے، کاروبار بھی کرتا ہے، کھانا بھی کھاتا ہے، دوستوں سے ہنستا بھی ہے، مگر اس کے باوجود وہ زندہ نہیں ہوتا۔ زندگی صرف جسم کا نام نہیں، احساس کا نام ہے۔ جس دن انسان کے اندر تجسس مرجائے، سیکھنے کی خواہش ختم ہو جائے، کسی کتاب کا صفحہ اسے اپنی طرف نہ بلائے، کسی شعر پردل نہ دھڑکے، کسی دھن سے روح میں ارتعاش پیدا نہ ہو، کسی خواب کے لیے محنت کرنے کا جذبہ باقی نہ رہے، تو پھر زندگی آہستہ آہستہ ایک مشینی معمول میں تبدیل ہو جاتی ہے۔۔۔ ہم ایک ایسے دورمیں داخل ہو چکے ہیں جہاں لوگ زندہ رہنے کی تیاری توبہت کرتے ہیں، مگر جینے کا ہنر بھولتے جا رہے ہیں۔ بہترگھر، بہترگاڑی، بہترعہدہ اوربہتر بینک بیلنس کی دوڑمیں انسان نے اپنے اندر کے انسان کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صبح سے شام تک بھاگتے ہوئے اکثر یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ آخری مرتبہ کسی کتاب نے ہمیں کب سوچنے پرمجبورکیا تھا، کسی نظم نے ہماری آنکھیں کب نم کی تھیں، یا کسی خوبصورت دھن نے ہمارے اندرامید کا چراغ کب روشن کیا تھا۔۔۔ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو صبح گھر سے نکلتے ہیں، شام کو واپس آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، موبائل اسکرول کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ پھراگلی صبح یہی سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ دن بدلتے ہیں، تاریخیں بدلتی ہیں، سال بدل جاتے ہیں، مگران کی زندگی میں کچھ نہیں بدلتا۔ انہوں نے جینا نہیں، صرف وقت گزارنا سیکھ لیا ہوتا ہے۔۔۔۔زندگی کا اصل حسن یہ نہیں کہ انسان کتنے سال جیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان سالوں میں کتنا محسوس کرتا ہے۔ ایک اچھی کتاب آپ کی سوچ کا دروازہ کھول دیتی ہے، ایک بہترین شعر آپ کے اندر سوئی ہوئی کیفیت کو جگا دیتا ہے، ایک خوبصورت دھن دل کی گرد صاف کر دیتی ہے، اور ایک سچی محبت انسان کو اپنے آپ سے بہتر بنا دیتی ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو انسان کو محض زندہ نہیں رکھتیں، بلکہ اسے زندہ دل بناتی ہیں،بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ جذباتی اورفکری قحط کا شکار ہوتا جا رہا ہے،شاید اسی لیے چہروں پر مسکراہٹیں تو دکھائی دیتی ہیں، مگرآنکھوں میں وہ چمک کم ہوتی جا رہی ہے جو صرف ایک بامقصد زندگی سے پیدا ہوتی ہے۔۔۔


یہ بھی ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم نے کامیابی کا مطلب صرف دولت، عہدے اورشہرت تک محدود کر دیا ہے۔ حالانکہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بے شمار ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے پاس نہ دولت کے انبار تھے، نہ اقتدارکی کرسی، مگروہ زندگی سے بھرپور تھے،وہ محنت کرتے تھے، محبت بانٹتے تھے، کتابوں سے دوستی رکھتے تھے، فنونِ لطیفہ سے لطف اندوز ہوتے تھے اور ہر نئے دن کو سیکھنے کا ایک نیا موقع سمجھتے تھے۔ اسی لیے وہ اپنے مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، صرف سانسوں کا چلتے رہنا زندگی نہیں، زندگی تو اندر کی روشنی کا نام ہے، اور جب یہ روشنی بجھ جائے تو انسان چلتا پھرتا وجود تو رہ جاتا ہے، مگر اس کی روح زندگی سے اپنا رشتہ کھو بیٹھتی ہے۔۔۔شاید اسی لیے حقیقی زندگی کا آغاز اس دن ہوتا ہے جب انسان کسی مقصد کے لیے محنت کرنا شروع کرتا ہے، کسی انسان سے بے غرض محبت کرنا سیکھ لیتا ہے، کتاب کو اپنا دوست بنا لیتا ہے، شاعری سے اپنے احساسات کو جلا بخشتا ہے اور موسیقی میں زندگی کی دھڑکن سن لیتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جو عمرمیں نہیں، زندگی میں اضافہ کرتے ہیں۔۔۔زندگی دراصل برسوں کا حساب نہیں، لمحوں کا معیار ہے۔ کچھ لوگ ساٹھ برس کی عمر میں بوڑھے ہو جاتے ہیں اور کچھ اسی برس کی عمر میں بھی نئے خواب دیکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے زندگی کو بوجھ سمجھا اور دوسرے نے نعمت۔ ایک نے وقت گزارا، دوسرے نے وقت کو معنی عطا کیے،اس لیے اگرآپ واقعی زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھیے۔ محنت کو اپنی عادت بنائیے، محبت کو اپنی فطرت، کتاب کو اپنا ساتھی، شاعری کو اپنی غذا اور موسیقی کو اپنی روح کی آواز بنائیے۔ ہر روز کچھ نیا سیکھیے، کسی کی مدد کیجیے، کسی کا ہاتھ تھامیے، کسی خواب کے لیے پسینہ بہائیے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو انسان کو محض زندہ نہیں رکھتیں، بلکہ اسے زندہ دل بناتی ہیں۔۔۔آخر میں مجھے وہ جملہ پھر یاد آتا ہے جس نے اس پوری تحریرکو جنم دیا۔۔۔۔’’اگرآپ محنت نہیں کرتے، محبت نہیں کرتے، کتاب نہیں پڑھتے، شاعری نہیں سنتے اورموسیقی سے بھی آپ کا کوئی تعلق نہیں، تو پھرآپ کو موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ موت صرف سانسوں کے رکنے کا نام نہیں۔ حقیقی موت تو اس دن واقع ہو جاتی ہے جب انسان کے اندرخواب دیکھنے، محسوس کرنے، سیکھنے اور محبت کرنے کی صلاحیت مر جائے، اس لیے اپنی سانسوں کی نہیں، اپنے احساسات کی حفاظت کیجیے، کیونکہ زندہ وہی ہے جس کے اندر زندگی ابھی باقی ہے ‘‘۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button