انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

فکری شدت پسندی کیخلاف سرگرم قافلہ حق

شاہد جاوید ڈسکوی/ دستک

تکفیریت اور فکری شدت پسندی کے ہولناک طوفان نے جب امتِ مسلمہ کی شیرازہ بندی کو تار تار کرنا شروع کیا تو فکر و دانش کے ایوانوں میں اس سچائی کا اعتراف ازسرِ نو زندہ ہوا کہ کسی قوم کی تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ دلیل کی جگہ تعصب اور اختلاف کی جگہ تکفیر کو اپنا شعار بنا لیتی ہے۔ تاریخِ اسلام کے سنہری باب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ علمی و اجتہادی اختلاف کبھی نزاع و پیکار کا باعث نہیں بنا بلکہ اسے فکر و نظر کی بالیدگی، عقل کی کشادگی اور اسلامی تہذیب کا درخشندہ حسن سمجھا جاتا تھا۔ ائمہ کرام، مجتہدین اور متکلمین کے مابین شدید ترین نظریاتی و علمی تفاوت کے باوجود”ادب الاختلاف“ کا ایک ایسا اخلاقی و مقدس معیار قائم تھا جس میں مخالفت کے باوجود احترام کا قدسیانہ رشتہ قائم رہتا تھا لیکن عصرِ حاضر کے اخلاقی زوال، سطحی علمیت، اور نفسانی انا نے گفتگو کے ان تمام شائستہ قرینوں کو پامال کر کے معاشرے کو عدمِ رواداری، فتویٰ بازی اور تکفیر کی ہولناک آگ میں دھکیل دیا ہے۔اگر تکفیریت اور تشدد پسندی کی جڑوں کا گہرا اور نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل غذائیت کسی پختہ علمی بنیاد سے نہیں بلکہ جذباتی بے اعتدالی، عدمِ برداشت، نفسانی انا اور اخلاقی تربیت کے شدید فقدان سے حاصل ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے غصے اور انا کو شریعتِ مطہرہ کے تابع نہیں کرتا تو وہ مخالفت کو ذاتی دشمنی بنا لیتا ہے اور علمی دلیل کا جواب گالی، تشدد اور تکفیر سے دینے لگتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوۂ حسنہ اور آپؐ کی مبارک سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ کس طرح غصے اور اشتعال کے طوفان کو حلم، بردباری، صبر اور عفو و درگزر کی شائستگی میں ڈھالا جائے اور شدید ترین مخالفت یا عناد کے مواقع پر بھی حق، انصاف اور عدل کا دامن مضبوطی سے تھاما جائے۔ جب کسی فرد یا معاشرے میں غصے پر ضبط اور مخالف کے احترام کا نبوی جذبہ بیدار ہو جاتا ہے تو تکفیری سوچ کی نفسیاتی اور اخلاقی بنیادیں خود بخود منہدم ہونے لگتی ہیں اور شدت پسندی کا بیانیہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔
اس ہمہ گیر فکری و اخلاقی بحران سے نمٹنے اور ملک و ملت کو شدت پسندی کے عذاب سے بچانے کے لیے ریاستِ پاکستان کی سطح پر اہم قانونی، انتظامی، فکری اور بیانیاتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جن میں نیشنل ایکشن پلان اورپیغامِ پاکستان کا متفقہ بیانیہ و فتویٰ انتہائی بنیادی اور تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ ریاست نے جب یہ محسوس کیا کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کی بنیادیں نفرت انگیز بیانیے اور تکفیری سوچ میں پنہاں ہیں تو نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان نے جہاں ایک طرف ملک سے شدت پسندی، کالعدم تنظیمی ساختوں، نفرت انگیز تقاریر اور تکفیری و اشتعال انگیز مواد کی اشاعت و ترویج کے خلاف ریاست کے سخت انتظامی و قانونی عزم کو ظاہر کیا، وہاں اس نقطے کو بھی روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیا کہ شدت پسندی کے اس دیرینہ مسئلے کو صرف فوجی کارروائیوں، پولیس آپریشنز یا عارضی قانونی اقدامات سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے فکری، نظریاتی اور تعلیمی محاذ پر بھی جامع اور پائیدار اصلاحات ناگزیر ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے اسی فکری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام، مفتیانِ عظام، اور دینی و علمی اداروں نے کامل اتفاقِ رائے سے پیغامِ پاکستان کے عنوان سے ایک تاریخی، جامع اور متفقہ بیانیہ و فتویٰ مرتب کر کے پیش کیا۔ اس تاریخی دستاویز نے پاکستان کے اندر تکفیریت، باہمی تکفیر کی وبا، فرقہ وارانہ نفرت اور شریعت یا نفاذِ اسلام کے نام پر ریاست یا اس کے شہریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں اور مسلح جدوجہد کو قطعی طور پر غیر اسلامی، باطل اور حرام قرار دیا۔ پیغامِ پاکستان نے اسلام کے اصل، امن پسند، رحیمانہ، عادلانہ اور روادارانہ چہرے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے تکفیری بیانیے کی تمام بنیادوں کو اکھیڑ کر رکھ دیا۔ اس متفقہ فتوے نے یہ واضح پیغام دیا کہ کسی بھی فرد، تنظیم یا غیر ریاستی گروہ کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ وہ خود ساختہ علم یا تقوٰی کے زعم میں آ کر قانون کو ہاتھ میں لے، دوسروں پر کفر کے فتوے صادر کرے یا معاشرے میں انارکی پھیلائے۔ان ہی فکری و ریاستی کاوشوں، قوانین اور فتاویٰ کو کاغذوں کے بند خانوں سے نکال کر عملی میدان میں اتارنے اور عوام الناس تک پہنچانے کے لیے وزیرِ اعظم کی ہدایت اور فیلڈ مارشل کے وژن کے تحت قومی پیغامِ امن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کا بنیادی نصب العین ملک گیر سطح پر مذہبی ہم آہنگی، باہمی رواداری، امن اور یکجہتی کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی اس پیغام کی علامت بن کر ابھری ہے کہ پاکستان سلامتی، بھائی چارے اور باہمی احترام کا مظہر ہے۔ اس کمیٹی کی قيادت وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ (چیئرمین) کر رہے ہیں جبکہ اس کی سرپرستی ممتاز مذہبی رہنما مفتی عبدالرحیم فرما رہے ہیں اور اس کے کوآرڈینیٹر پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین سفیر امن حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ہیں۔ اس کمیٹی میں تمام مکاتبِ فکر کے اکابر و جید علماء شامل ہیں، جو ملک کے طول و عرض میں امن، اتحاد اور پیار و محبت کی شمع روشن کر رہے ہیں۔اسی سلسلۂ تحرک کے تحت قوم کو متحد کرنے اور تعصبات کے خاتمے کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی نے حال ہی میں خیبر پختونخوا کا دو روزہ جامع و اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے علاقے کے تمام سرکردہ علماء کرام، مشائخ اور علمی شخصیات کے سامنے پیغامِ امن، باوقار ادبِ اختلاف اور باہمی احترام کا مقدمہ رکھا۔ خیبر پختونخوا کے دینی و علمی حلقوں کی جانب سے اس بیانیے کی پور زور پذیرائی اور مکمل حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست، علماء اور عوام ایک صفحے پر ہیں اور نیشنل ایکشن پلان و پیغامِ پاکستان کا فکری سفر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہےتاہم ان تمام ریاستی دستاویزات، قوانین، متفقہ فتاویٰ اور کمیٹیوں کے متحرک دوروں کے حقیقی، پائیدار اور دیرپا ثمرات اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب پاکستان کے تمام دینی مدارس، جامعات، سکولوں اور تمام علمی مراکز میں ان نبوی اصولوں اور باوقار ادبِ اختلاف کی عملی، تربیتی اور نصابی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ تکفیری جراثیموں اور فکری شدت پسندی کا حتمی، دائمی اور مکمل قلع قمع صرف اور صرف سنتِ نبوی ؐ کے اسی تعمیری، رحیمانہ اور شفقت سے بھرپور اخلاقی سانچے کو اپنانے سے ہی ممکن ہے جو شدید ترین مخالفت میں بھی عدل و انصاف قائم رکھنے اور شدید ترین فکری اختلاف کے باوجود انسانیت اور اخوتِ اسلامی کے احترام کا درس دیتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button