لاہور، کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر لاہور، کراچی اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ لاہور اور کراچی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
کراچی میں احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
کراچی پریس کلب کے اطراف پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا۔ کارروائی کے بعد احتجاج منتشر ہوگیا۔
لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر کریک ڈاؤن
لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران پولیس نے کارکنوں اور پارٹی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
کارروائی کے دوران رکن پنجاب اسمبلی اویس ورک کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق رکن قومی اسمبلی مبین عارف جٹ اور رکن پنجاب اسمبلی احمر رشید بھٹی کو بھی گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کرنے کی کوشش وکلا کی مداخلت کے باعث ناکام رہی۔
صحافی بھی پولیس کارروائی کی زد میں آگیا
احتجاج کے دوران ایک نجی ٹی وی چینل کے کورٹ رپورٹر ناطق ریحان بھی پولیس کارروائی کی زد میں آگئے۔ اطلاعات کے مطابق لاٹھی چارج کے دوران وہ زخمی ہوئے۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
پی ٹی آئی رہنماؤں نے لاہور اور کراچی میں ہونے والی پولیس کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے پرامن احتجاج کے حق پر قدغن اور سیاسی انتقام قرار دیا۔ دوسری جانب حکومتی مؤقف اس خبر میں شامل نہیں تھا۔
راولپنڈی میں وکلا کی ریلی
ادھر انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کے زیر اہتمام راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس سے کچہری چوک تک ریلی نکالی گئی، جس میں وکلا نے شرکت کی اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت نہ مل سکی
دوسری جانب پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کی مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ میں اس حوالے سے درخواست پر سماعت جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کی۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جلسے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت سے متبادل مقام فراہم کرنے کی استدعا کی، جس پر سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متبادل جگہ کے لیے کوئی درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو ہدایت کی کہ متبادل مقام پر جلسے کی اجازت سے متعلق ہدایات آئندہ سماعت پر پیش کی جائیں۔



