انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

 آزادی کے 79سال بعد پاکستان کتنا آزاد ہے؟

تحریر:محمد قیصر چوہان

پاکستان کا معرض وجود میں آنا کوئی اچانک یا اتفاقی واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے اسباب و علل کا ایک طویل سلسلہ تھا۔14 اگست کا دن دو قومی نظریے کا حاصل ہے کہ برصغیر میں رہنے والے مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں تھیں اور ہیں، یہ تقسیم کل بھی تھی اور آج ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک دیکھ کر قائد اعظم ؒکی دور اندیشی پر یقین اور بڑھ جاتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی حب الوطنی ثابت کرتے کرتے تھک گئے لیکن انہیں انتہا پسند ہندو ریاست قبول کرنے کو تیار نہیں۔
 ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 27 کروڑ کے قریب ہے۔ لیکن وہ تعلیم، روزگار، صحت اور سیاسی نمائندگی کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں اور ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے عنوان سے حاصل ہونے والی مقدس سرزمین کی بد قسمتی اور بدنصیبی یہ رہی کہ یہاں سے انگریز تو چلے گئے لیکن کالے انگریز بڑی تعدداد میں بنا کر چھوڑ گئے اور ان کی نسل آج بھی اسی طرح ان کی وفادار ہے جس طرح ان کے غلام آباواجداد تھے، یہ طبقہ آج بھی انگریز کی ذہنی اور عملی غلامی سے نہیں نکل سکا ہے۔
ان میں سے تو بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو قوم سے غداری اور انگریز سے وفاداری کے عوض لی گئیں جاگیریں اور انعامات کا حق ادا کررہی ہیں اور ان ہی کی بڑی تعداد ہماری سیاست، صحافت اور اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ آج بھی یہ بحث چھیڑتے رہتے ہیں کہ پاکستان دو قومی نظریہ اور اسلام کی بنیاد پر بنا تھا یا معاشی وسماجی بنیادوں پر بنا تھا، یہ باتیں صرف اور صرف نئی نسل اور قوم کوگمراہ کرنے، اپنی منزل سے دور کرنے اور قیام پاکستان کے بلند مقاصد کو پس پش ڈالنے کے کھیل کا حصہ ہیں ہماری بد قسمتی یہ بھی ہے کہ یہی طبقہ 79سال سے برسر اقتدار ہے، جبکہ بانی پاکستان قائد اعظم قیام پاکستان کے مقصد کے حوالے سے بالکل صاف اور کھرا موقف رکھتے تھے ۔
اسی لیے مارچ 1940ءمیں لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوے آپ نے فرمایا تھا کہ: ”ہندو اور مسلم دو الگ مذہبی فلسفوں، سماجی روایات اور ادبیات سے تعلق رکھتے ہیں، یہ دونوں دو مختلف تہذیبوں کے نمائندے ہیں اور ان کے خیالات اور رسوم ہمیشہ متصادم ہی رہیں گی“۔ اس طرح آپ نے فرمایا تھا کہ ”مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد صرف کلمہ توحید ہے۔ نہ وطن ہے‘ نہ نسل ہے۔ ہندوستان کا جب پہلا فرد مسلمان ہوا تھا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا تھا، وہ ایک الگ قوم کا فرد بن گیا تھا۔
قائد اعظم کیا کمال کے قائد اور دور تک دیکھنے والے رہنماءتھے وہ اس وقت کے بدلتے سیاسی حالات اور جبر میں اپنے اصولی موقف پر شروع دن سے کوئی دو رائے نہیں رکھتے تھے، آپ کے الفاظ تھے ”ہم کوئی ایسا نظام حکومت قبول نہیں کر سکتے جس کی رو سے ایک غیر مسلم اکثریت محض تعداد کی بناءپر ہم مسلمانوں پر حکومت کرے اور ہمیں اپنا مال بردار بنا لے“۔ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ میں کون ہوتا ہوں پاکستان کے طرز حکومت کا فیصلہ کرنے والا؟ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے 14 سو سال پہلے قرآن مجید نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمدللہ قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور تا قیامت موجود رہے گا۔
 (جالندھر میں مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب‘ 12جون 1947ء) یہ باتیں قائد اعظم نے تحریک پاکستان کی جدوجہد کے دوران کوئی جذباتی طور پر نہیں کہہ دی تھیں بلکہ پاکستان کی بنیاد اور خیال اسلامی نظریہ حیات کے تصور کے ساتھ تاریخی طور پر موجود تھا ۔
پاکستان دو قومی نظریے کا حاصل تھا۔ دو قومی نظریہ اسلام ہے، اور اسلام کلمہ طیبہ پہ کھڑا ہے۔
کلمہ طیبہ اسلام کا اجمال ہے، اور باقی جو کچھ ہے اس اجمال کی تفصیل ہے۔ لیکن یہاں کہنے کی اصل بات یہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسانیت کی تاریخ میں کلمہ طیبہ سے زیادہ انقلابی اور آزادی بخش کلمے کا تصور محال ہے۔ کلمہ طیبہ کا پہلا جزو لا الٰہ ہے۔ اس کے ذریعے اسلام نے دنیا کے تمام جھوٹے خداﺅں کا انکار کردیا ہے۔ انسان طاقت کے بت کو پوجتا ہے، دولت کے بت کی پرستش کرتا ہے، اَنا کے بت کے آگے سر جھکاتا ہے، زمین اور جغرافیے کے بت کو پوجتا ہے، رنگ اور نسل کے بت کے آگے سجدہ ریز ہوتا ہے، خواہشات کے بتوں کے آگے سرنگوں ہوتا ہے۔
 لاالٰہ ان تمام بتوں کو ایک ہلّے میں منہدم کردیتا ہے۔جب انسان تمام جھوٹے خداﺅں کا انکار کرچکتا ہے تو وہ پھر الا اللہ کہنے کا حق ادا کرتا ہے۔ لا الٰہ کا حق ادا کیے بغیر الا اللہ کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ لیکن کلمہ طیبہ کا دوسرا جزو محمدالرسول اللہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سچے خدا پر ایمان لانے کے بعد انسان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق زندگی بسر کرنی ہوگی۔
اس اعتبار سے کلمہ طیبہ خدا مرکز اور رسول مرکز زندگی کا اعلان ہے۔ ان باتوں کا زیر بحث موضوع سے یہ تعلق ہے کہ پاکستان ایک انقلاب آفریں قوت کا پیدا کردہ ملک تھا اور اسے دنیا میں انسانی آزادی کا حقیقی مظہر بن کر ابھرنا تھا۔بہت سے لوگ پاکستان کو سیاسی آزادی کی علامت سمجھتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔ پاکستان روحانی آزادی کا مظہر ہے، اخلاقی آزادی کا مظہر ہے، تہذیبی آزادی کا مظہر ہے، تاریخی آزادی کا مظہر ہے، سیاسی آزادی کا مظہر ہے، معاشی آزادی کا مظہر ہے۔
 اسلامی تناظر میں آزادی اتنا اہم تصور ہے کہ جو فرد آزاد نہیں وہ گویا موجود ہی نہیں۔ یہ بات فرد کے بارے میں درست ہے تو ریاست کے بارے میں تو بدرجہ اولیٰ درست ہوگی۔ اقبالؒ کو ”مصورِ پاکستان“ کہا جاتا ہے، اور اقبالؒ نے آزادی کی شان میں جو ترانے لکھے ہیں اور غلامی کی جو مذمت کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
 قائداعظمؒ اسلام اور آزادی کے باہمی تعلق کو بہ خوبی سمجھتے تھے۔ ان کی نظر میں پاکستان صرف ”سیاسی وجود“ نہیں تھا، بلکہ وہ ابتدا ہی سے اس کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھ اور بیان کررہے تھے۔ قائداعظمؒ کے افکار اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ قائداعظمؒ نے ایک بار فرمایا تھا:”وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں؟ وہ کون سی چٹان ہے جس پر ا±ن کی ملت کی عمارت استوار ہے؟ وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کردی گئی؟ وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے۔
 مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے، ہم میں زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا، ایک رسول، ایک کتاب، ایک امت۔“ (اجلاس مسلم لیگ۔ کراچی 1943ئ)۔ایک اور مقام پر قائداعظم نے فرمایا: ”قومیت کی تعریف چاہے جیسے کی جائے، مسلمان اس تعریف کی ر±و سے ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس لیے اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی اپنی مملکت اور اپنی جداگانہ خودمختار ریاست ہو۔ ہماری تمنا ہے کہ ہماری قوم اپنی روحانی، اخلاقی، تمدنی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشوونما بخشے، اور اس کام کے لیے وہ طریقِ عمل اختیار کرے جو اس کے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے نصب العین سے ہم آہنگ ہو۔“ (اجلاس مسلم لیگ، لاہور 23 مارچ 1940ئ)۔
قائداعظم کے ان افکار سے ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کے ذریعے مسلمانوں کو صرف سیاسی طور پر آزاد نہیں دیکھنا چاہتے تھے، بلکہ وہ مسلمانوں کی روحانی، اخلاقی، تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی آزادی کے بھی خواہاں تھے۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی آزادی کے 76 سال بعد کتنا آزاد ہے؟بدقسمتی سے اس سوال کا جواب بہت افسوس ناک اور المناک ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا مگر پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں نے پاکستان میں اسلام کو کبھی غالب نہ ہونے دیا۔
1973ءمیں ملک کو ایک اسلامی آئین فراہم ہوگیا، مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے آئین کو اسلام کا قید خانہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ وہ اسلام کو آئین سے نکلنے ہی نہیں دیتے۔ چنانچہ نہ ہماری سیاست اسلامی ہے، نہ ہماری حکومت اسلامی ہے، نہ ہماری معیشت اسلامی ہے، نہ ہمارا عدالتی نظام اسلامی ہے، نہ ہمارا تعلیمی نظام اسلامی ہے، نہ ہماری معیشت اسلامی خطوط پر استوار ہے۔ کہنے کو ہم ایک اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرہ ہیں مگر معاشرے اور ریاست پر ”نفسِ امارّہ“ کا غلبہ ہے۔ نفسِ مطمئنہ کا دیدار کہیں اور کیا مذہبی طبقات تک میں نہیں ہوتا۔ معاشرے میں 99 فیصد لوگ نہ ”خدا مرکز“ زندگی بسر کررہے ہیں، نہ ”رسول مرکز“ حیات بسر کررہے ہیں۔
قائداعظم نے وقت کی واحد سپر پاور سلطنت برطانیہ اور ہندو اکثریت سے لڑ کر پاکستان حاصل کیا تھا، مگر قائداعظم کے انتقال کے چند برس بعد ہی پاکستان کے حکمران طبقے نے پاکستان کو امریکہ کا غلام بناکر کھڑا کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری سیاست امریکہ کے کنٹرول میں ہے۔پاکستانی معیشت پر امریکہ کی گرفت کا یہ عالم ہے کہ ہمارا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے، ہمارے محصولات کا پورا نظام آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں ہے، یہاں تک کہ پیٹرول کے نرخ بھی آئی ایم ایف کی ہدایت پر بڑھائے جاتے ہیں۔
یہ منظر نامہ مکمل طور پر امریکہ کی غلامی کا منظرنامہ ہے،ہیت متدرہ  طاقت کے بل پر پاکستان کے مالک بن کر بیٹھ گئے۔ چنانچہ پاکستان صرف امریکہ اور آئی ایم ایف کا غلام نہیں ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ  کا بھی غلام ہے  اسٹیبلشمنٹ ہماری سیاست ،ہمارے انتخابات کو کنٹرول کر تی ہے سیاسی جماعتوں کو بھی قابو کیا ہوا ہے ان  کی مرضی کے بغیر پاکستان میں پرندہ بھی پَر نہیں مار سکتا، سیاست دان  اسٹیبلشمنٹ  کی فیکٹری میں ڈھالے جاتے ہیں، صحافی  بھی ان  کے پروردہ ہیں۔دیکھا جائے تو یہ ہماری داخلی غلامی کا ایک شرم ناک منظر ہے۔ داخلی غلامی کا یہ منظر 1971ءمیں آدھا ملک نگل گیا۔
عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو ہم مغربی تہذیب کے غلام بنے ہوئے ہیں، ہمارا سیاسی نظام مغربی ہے، ہمارا معاشی ماڈل مغربی ہے، ہمارا تعلیمی بندوبست مغربی ہے، ہمارا عدالتی نظام مغرب کی نقل ہے، ہم مغرب کی تفریح پر گزارا کر رہے ہیں، ہم مغرب کی غذائیں استعمال کر رہے ہیں، مغرب کا لباس بروئے کار لا رہے ہیں، یہاں تک کہ ہماری خواہشیں، آرزوئیں، تمنائیں اور ہمارے خواب بھی مغرب سے آرہے ہیں۔ مغرب دولت کی پرستش میں مبتلا ہے، اور کون ہے جو ہمارے معاشرے میں دولت کو نہیں پوج رہا؟ اسلام کہتا ہے: فضیلت صرف اس کی ہے جس کے پاس تقویٰ یا علم ہو۔ لیکن ہمارے معاشرے میں تقویٰ اور علم کی کوئی حیثیت، کوئی اوقات اور بساط ہی نہیں ہے۔
 ہمارے معاشرے میں محترم اور عزت والا صرف وہ ہے جس کے پاس یا تو دولت ہے یا طاقت۔ پاکستان کے نظریے اور نصب العین کے اعتبار سے پاکستان کو دنیا کا آزاد ترین ملک اور ہمارے معاشرے کو دنیا کا آزاد ترین معاشرہ ہونا چاہیے تھا، مگر ہم بحیثیت ایک ریاست اور بحیثیت ایک معاشرے کے، سیکڑوں قسم کی غلامیوں میں مبتلا ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے یہاں آزادی ایک نعرے اور ایک خواب کے سوا کچھ نہیں۔
 آزادی یقینا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا احساس قدرت نے انسانوں ہی نہیں حیوانوں میں بھی ودیعت کیا ہے چنانچہ آزادی کی اس نعمت کا شکر پاکستان میں بسنے والے ہم 25کروڑ انسانوں پر واجب ہے، یوم آزادی پر جشن منانا بھی زندہ دل پاکستانیوں کا حق ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی آزاد ہو گئے ہیں، جن مقاصد کے حصول کی خاطر ہم نے تحریک آزادی برپا کی تھی، لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی۔اپنی، ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں اور عصمتوں کو پامال ہوتے دیکھا تھا۔اپنا سب کچھ، گھر بار، مال و متاع اور عزیز و اقارب چھوڑ کر اس پاک خطے کی جانب ہمارے آباءو اجداد نے ہجرت کی تھی کہ ہم اس خطے کو مکمل آزاد فضا میں اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے اور قرآن و سنت کی رہنمائی میں اسے دنیا بھر کے سامنے ایک مثالی اسلامی اور فلاحی ریاست کے نمونہ کی حیثیت سے پیش کریں گے، کیا ہم یہ مقاصد حاصل کر سکے ہیں؟ کیا یہ مملکت واقعی اسلامی و فلاحی مملکت کا نمونہ بن سکی ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔
گزشتہ 79 برس میں ہم نے اس مملکت خداداد میں سرمایہ دارانہ جمہوریت، سوشلزم اور سول و فوجی آمریت سمیت ہر طرح کے تجربات کئے ہیں لیکن اسلام، قرآن و سنت یا شریعت کو نظام حکومت کے قریب نہیں پھٹکنے دیا یہاں کے سلیم الفطرت اور نیک نہاد لوگوں کی انتھک اور ہمہ پہلو جدوجہد کے نتیجے میں ہماری مجالس قانون ساز نے ”قرار داد مقاصد“ تو منظور کر لی اور پھر نفاذ اسلام کے تقاضوں سے بڑی حد تک ہم آہنگ آئین بھی قوم کو نصیب ہو گیا مگر یہاں عملاً اقتدار پر قابض سرمایا دار و جاگیردار سیاست دانوں اور با اختیار سول و فوجی بیورو کریسی کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں نہ تو کبھی عوام کے حقیقی اور مخلص خدمت گاروں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے دیا گیا اور نہ ہی شریعت کی روشنی میں قانون سازی کے تقاضوں پر توجہ دی گئی۔
نتیجہ یہ ہے کہ آج79 سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں انگریز کے مسلط کردہ قوانین رائج ہیں، یہاں کی معاشی اور معاشرتی پالیسیاں عالمی سامراج کے تابع فرمان بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور عالمی بنک تیار کرتے اور جبراً ان پر عمل کرواتے ہیں کیونکہ ہم سر سے پاﺅں تک ان کے سودی قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں جن کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی ہمارے بیرونی آقاﺅں ہی کا تیار کردہ ہے۔
 یہاں تک کہ اب یکساں نصاب تعلیم کے نام پر جو کچھ ہماری آئندہ نسلوں کو پڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا ہمارے قومی اور ملی تقاضوں اور دین و شریعت سے دور کا بھی تعلق نہیں، نصاب اور نظام تعلیم کے ذریعے ہمیں انگریز کے بعد انگریزی کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے حالانکہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فوری بعد دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کی قومی اور دفتری زبان اردو ہو گی مگر ان کا ارشاد ہنوز تشنئہ تکمیل ہے آج سے تقریباً آٹھ برس قبل ملک کی اعلیٰ ترین فاضل عدالت نے بھی واضح فیصلہ سنایا تھا کہ پاکستان کے آئین کی رو سے یہاں کی قومی و دفتری زبان اردو ہے عدالت عظمیٰ نے تمام سرکاری اداروں کو پابند کیا تھا کہ تین ماہ کے اندر ہر طرح کی خط و کتابت اور سرکاری مراسلت میں لازماً اردو کو رائج کیا جائے مگر اس فیصلے کو چھ برس گزر چکے ہیں لیکن پاکستانی قوم سرکاری اور نیم سرکاری بلکہ نجی زندگی تک میں انگریزی کی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکی ۔
بانی پاکستان کے واضح حکم اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کی مسلسل خلاف ورزی جاری ہے اور تمام چھوٹے بڑے ادارے ”توہین عدالت“ کے مرتکب ہو رہے ہیں مگر انگریزی کی غلامی کی زنجیریں توڑنے پر آمادہ نہیں، دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ خود عدالت عظمیٰ اور اس کی ذیلی عدالتیں بھی تاحال اپنی کارروائی اور فیصلے انگریزی میں تحریر کر رہی ہیں۔ اس صورت حال میں توہین عدالت کی کارروائی کس کے خلاف اور کون کرے گا؟۔
 ذرا آگے بڑھئے تو یہ منظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہماری مسلح افواج کا نصب العین تو تحریک نظام مصطفی کے دباﺅ اور جنرل محمد ضیاءالحق شہید کی مہربانی سے ”جہاد فی سبیل اللہ“ قرار پا گیا تھا مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے ارباب اختیار کی کوتاہ فہمی کے سبب آج بھی  تعلیم و تربیت کے لیے رائج نظام ماضی کے غاصب حکمران انگریز بہادر کا مسلط کردہ ہے اور ہم ابھی تک انہیں کی روایات کو ایک مقدس امانت کے طور پر سینے سے لگائے ہوئے ہے۔
آج بھی اپنی نسبت اور تعلق خالد بن ولید، محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان یا دیگر مسلمان سپہ سالاروں اور مجاہدوں سے استوار کرنے کی بجائے انگریز کمانڈروں سے جوڑاجاتا ہے ، انہی کی تاریخ، روایات اور کارنامے ہمارے مسلمان سپاہیوں اور افسروں کو پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں اور انہی سے تعلق پر فخر کرنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو ”جذبہ جہاد“ ان میں پروان چڑھتا ہو گا اس کا اندازہ لگانا، مشکل نہیں۔ پورے ملک میں جس طرح شراب، سود اور جوا جیسے حرام کاموں کا ارتکاب کھلے بندوں جاری ہے اور ہمارے ورقی و برقی اور سماجی ذرائع ابلاغ صبح شام جس جانب قوم کی نئی نسل کو دھکیل رہے ہیں، اور جو کچھ اپنے قارئین، ناظرین اور سامعین کو دکھا، سکھا اور پڑھا رہے ہیں اس کے بعد معاشرے میں اگر بدکاری، چوری چکاری، ڈاکے، قتل و غارت جھوٹ، فریب، بدعنوانی، رشوت ستانی، عریانی اور بے حیائی کا دور دورہ ہے تو اس پرحیرت نہیں ہونا چاہئے کہ ہم جو فصل بوئیں گے اس کا کاٹنا عین فطری امر ہے۔
یوں حقائق کے آئینہ میں دیکھیں تو ہر جانب تاریکی کا راج ہے، اُمید کی کوئی کرن کہیں سے پھوٹتی دکھائی نہیں دیتی تاہم مایوسی اور نا امیدی کی بھی ضرورت نہیں کہ ہمارے خالق و مالک نے کسی بھی حال میں ہمیں اپنی رحمت سے مایوس نہ ہونے کا حکم دیا ہے، توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، آج بھی ہم اگر بحیثیت قوم اپنی فکری و عملی لغزشوں، چھوٹے بڑے گناہوں، غلطیوں اور کوتاہیوں کا کھلے دل و دماغ سے اعتراف کرتے ہوئے اپنے مالک حقیقی کی طرف رجوع کریں، تجدید عہد کرتے ہوئے مخلص، محنتی، باصلاحیت، دیانت دار و دین دار قیادت کی رہنمائی میں عزم صمیم کے ساتھ آگے بڑھیں تو ایک اسلامی ترقی یافتہ، خوش حال اور خود کفیل پاکستان کی منزل کا حصول ناممکن ہے نہ مشکل۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں نئی نسل کو یہ معلوم ہو کہ پاکستان کس طرح بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا، انگریزوں کے بعد ہندووں کے کتنے ظلم برداشت کیے ہیں، وہاں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم نئی نسل کو نظریہ پاکستان سے روشناس کرواتے ہوئے قیام پاکستان کے اصل مقاصد سے ہم آہنگ کریں۔ اور مملکت خداد کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی سعی کریں۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button