بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

یہ تو بس ٹریلر تھا

بے لگام / ستارچوہدری

افواہیں دم توڑ گئیں، پیش گوئیاں چند گھنٹوں میں جھوٹ کے پلندے ثابت ہوئیں، اندرکی خبریں دل کی خواہشیں نکلیں، باوثوق ذرائع سارے’’ دسترخوانی‘‘ نکلے۔۔۔ اور بے چارے’’ ڈاکیے ‘‘۔۔۔۔۔؟ دو دن سے تتے توے پربیٹھے ہوئے تھے،کسی نے بین ڈال رکھے تھے، کسی نے سینہ کوبی شروع کردی تھی۔۔۔
’’ کپتان نے معافی مانگ لی،کپتان پاؤں میں گر پڑے،ڈیل ہوگئی ‘‘۔۔۔۔ارے بھائی، ذرا سانس تو لے لو !! ابھی خبرپوری ہوئی نہیں تھی، مگر’’ ڈاکیا برادری ‘‘ نے پوری کہانی لکھ بھی دی، چھاپ بھی دی اورعوام میں تقسیم بھی کردی، اصل میں مسئلہ خبرکا نہیں تھا، مسئلہ خواہش کا تھا، جس کے دل میں جو خواہش تھی، اسے ’’اندر کی خبر‘‘ بنا کر پیش کردیا گیا۔ کسی کو کپتان جھکتا نظر آیا، کسی کو ڈیل کرتا، کسی کو معافی مانگتا اور کسی کو بنی گالہ کی خاموشی میں بیٹھا ہوا دکھائی دیا۔۔۔۔
 کمال یہ ہے کہ ان سب کے ذرائع بھی بڑے ’’باوثوق‘‘ تھے، ایسے باوثوق کہ پوچھیں تو نام نہیں بتائیں گے، مگر لہجہ ایسا ہوگا جیسے ابھی ابھی کابینہ کے اجلاس سے اٹھ کرآئے ہیں۔۔۔’’ باوثوق ذرائع کے مطابق‘‘بس یہ تین لفظ بول دو، پھرجو دل چاہے کہہ دو!!۔۔۔ چیخوں کی آوازاس لئے زیادہ تھی،اس بار تو ’’دسترخوانی قبیلے‘‘ کو لفافے بند ہوتے صاف نظرآرہے تھے۔۔۔لیکن رات گزری، صبح ہوئی، پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ جس کہانی پردو دن سے ماتم ہورہا تھا، اس میں جنازہ ہی نہیں تھا۔۔۔
نہ ڈیل تھی، نہ ڈھیل تھی، نہ معافی تھی، نہ کوئی ایسی شرط جسے لے کر اتنے دنوں سے ’’اندر کی خبریں‘‘ بیچی جارہی تھیں،تو پھر سوال وہی ہے جو سب سے پہلے پوچھا جانا چاہیے، اصل بات کیا تھی۔۔۔؟ اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب خبر سے نہیں، رات بھر کے اس پورے کھیل کو جوڑ کر ملے گا۔۔۔ کیونکہ اڈیالہ سے ہسپتال تک کا سفر صرف ایک مریض کی منتقلی نہیں تھا، اس کے ساتھ بہت سی کہانیاں بھی سفر کررہی تھیں۔۔۔۔کچھ سرکاری گاڑیوں میں، کچھ ٹیلی وژن اسکرینوں پر، کچھ یوٹیوب کی کھڑکیوں میں اور کچھ ان ’’باوثوق ذرائع‘‘ کی جیبوں میں، جن کے ذرائع سے زیادہ ان کی خواہشیں باوثوق نکلیں۔۔۔۔
حکومت اگرواقعی سمجھتی ہے کہ اس نے بہت بڑی ’’سمارٹ گیم‘‘ کھیلی ہے تو اسے ایک بارآئینے کے سامنے بیٹھ کراپنی چال ضروردیکھ لینی چاہیے،عدالت نے ایک راستہ دکھایا تھا، حکومت نے دوسرا راستہ نکال لیا،یہیں سے معاملہ طبی کم اورسیاسی زیادہ لگا،حکومت شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ اس طرح ایک تیرسے کئی شکارہوجائیں گے۔۔۔۔
توہین عدالت کا خطرہ بھی نہیں رہے گا، عمران خان کوہسپتال میں رہنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔۔۔ واہ جناب !! حکم بھی مان لیا، حکم بھی اپنی مرضی کا بنا لیا، لیکن سیاست میں کبھی کبھی کاغذ پربنائی گئی گیم میدان میں آکرالٹی پڑجاتی ہے، میرا خیال ہے،حکومت نے بہت بڑی غلطی کی ہے، ’’ڈاکیا برادری‘‘ ،حکومتی کارندوں،چمچوں،کڑچھوں نے اچھا خاصہ بیانیہ بنا لیا تھا کہ ’’ کپتان جھک گیا،معافی مانگ لی،ڈیل کرلی‘‘ حکومت نے اپنی ٹیم کو ہی گول کردیا، اول تو حکومت کو خود ہی عمران خان کو علاج کیلئے ہسپتال منتقل کردینا چاہیے تھا۔
سپریم کورٹ والا کام خود کردیتے،کچھ نیک نامی کمالیتے،ملک میں سیاسی بحران بھی ختم ہونے کا نام لیتا،چلیں کوئی اچھی روایت جنم لے لیتی،حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ بحال ہوجاتی،لیکن انتقام کی آگ آدمی کواندھا کردیتی ہے،ویسے بھی ن لیگی ’’ پہلوان ‘‘ مخالف کے ہاتھ پاؤں باندھ کوکشتی کرنے کے عادی ہیں۔
اتنے کم ظرف اورچھوٹی سوچ کے مالک، اس بات کی مخالفت کررہے،بھائی سے بہن کی ملاقات کا آرڈرغلط ہے، ڈاکٹروں سے معائنےکا آرڈرغلط ہے۔۔۔یہ ماننا پڑے گا کپتان ایسا سوال ہے جوہمیشہ آؤٹ آف سلیبس رہا۔۔انہوں نے ہربارتجزیہ نگاروں کے تجزیے۔۔سیاستدانوں کے دعوے،نجومیوں کی پیشن گوئیاں غلط ثابت کی ہیں۔۔۔
اصل کہانی کیا ہے۔۔۔۔ ؟حالات و واقعات سے لاعلم کپتان کومعلوم نہیں تھا ان کے ’’ کھوٹے سکے‘‘ ان کا ’’ سودا ‘‘ کرچکے،اٹھاسویں ترمیم کیلئے،اسی لئے تو ’’ عظمیٰ ‘‘ نے سولہ ستمبرتک اسپتال رکھنے کا حکم دیا تھا، اور پی ٹی آئی کے نمبرداروں نے بھی 27ستمبر کو لانگ مارچ کی کال دی تھی،جب احتجاج کرنا ہے تو اتنی لمبی تاریخ کیوں۔۔۔؟ اور دوسری بات جمعہ کو ہی سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کیوں نہیں دائر کی۔۔۔؟  یعنی کہ ’’ تیسری پارٹی ‘‘ سے ابھی ملاقات کرنی ہے ؟۔۔۔
 ستمبرمیں ہی ترمیم منظورکرانے کا ٹارگٹ ہے،اسی لئے تو میں بار بار لکھتا ہوں،ستمبر ستمگرہوگا، یہ ’’ شکاری‘‘ کا آخری ’’ شکار‘‘ ہے،جونہی کپتان کو ’’ سودے ‘‘ کا علم ہوا،وہ سیخ پا ہوئے اورواپس اڈیالہ چلے گئے۔۔۔۔بس دیکھتے جائیں،چند دنوں تک بہت بڑا میلا لگنے جارہا ہے۔۔۔آر،پارکا کھیل ہوگا،کپتان کے مستقبل کا فیصلہ اسی ماہ ہوگا۔۔۔۔
ایک اوراہم بات،آپ نے آڈیوکیسٹ دیکھی ہوگی،اس کے دو رخ ہوتے ہیں،دونوں طرف ریکارڈنگ ہوتی ہے،آپ ضرورت کے مطابق جس مرضی سائیڈ کو سن لیں، یہ جو ’’ یو ٹیومر ‘‘ ہیں،خان کے حامی اورمخالف،دونوں ایک ہی ’’کمپنی‘‘ کی آڈیو کیسٹ ہیں،وہ اپنی ضرورت کےمطابق یہ کیسٹ عوام کو سناتے ہیں،آسان الفاظ میں بتاتا ہوں۔
امریکا کی ایک کمپنی ہے ڈبلیو ڈبلیو ای،یہ ریسلنگ کرانی والی دنیا کی سب سے بڑی اورمشہورکمپنی ہے،ریسلنگ کرنےوالے دونوں پہلوان ان کے اپنے ہی ہوتے ہیں،رنگ میں خوب لڑتے ہیں،عوام اپنے اپنے پسندیدہ پہلوان کیلئے مرر ہےہوتے ہیں،نتیجہ کیا نکلتا ہے۔۔۔ ؟ وہی جو کمپنی چاہتی ہے،کوئی پہلوان اگرکمپنی کی مرضی کے بغیر کشتی کرلے تو پھراسے اصلی پہلوان سے لڑا دیتے ہیں،جہاں پھراسے مارپڑتی ہے اوروہ پھرآئندہ کیلئےمعافی مانگ لیتا ہے۔۔۔۔آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔۔۔
چلیں اس ڈرامے میں ایک قانون خاموشی سے منظورہوگیا،حکومت کو تھوڑا سا ڈرا بھی لیا گیا، افواہیں بھی مرگئیں، پیش گوئیاں بھی دفن ہوگئیں،اندرکی خبریں بھی بے نقاب ہوگئیں۔۔۔ مگراصل کہانی ابھی زندہ ہے۔۔۔اس کھیل میں نہ کوئی جیتا،نہ کوئی ہارا، یہ تو بس ٹریلر تھا،فلم تو ستمبر میں ریلیز ہونی ہے،انتظار فرمایئے۔۔۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button