بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

پولیس اہلکاروں کے قاتل  اور ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑ ی غائب ،موبائل بند ،پھر پولیس کو سراغ کہاں سے ملا؟

 کون سی  چھوٹی سی غلطی  سے ہوا دہشت گردوں کا پورا منصوبہ بے نقاب؟  محمد نوید کی تفتیشی حکمت عملی نے کیسے کڑیا ں جوڑیاں:سی این این اردولمحہ بہ لمحہ  کارروائی سامنے لےآیا

لاہور :(رپورٹ :فیاض ملک)سی این این اردو  لاہور پولیس کی جانب سے پولیس شہدا  کے قاتلوں تک پہنچنے اور ان کو انجام تک پہنچانے  کی لمحہ بہ لمحہ کارروائی عوام  کے سامنے لے آیا۔لاہور میں پولیس اہلکاروں پر پے در پے فائرنگ کے افسوسناک واقعات کے بعد حملہ آوروں تک پہنچنے کے لیے لاہور پولیس کی تفتیشی ٹیموں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، انسانی انٹیلی جنس اور پیشہ ورانہ تفتیش کو بروئے کار لانے کی مثال سامنے آئی ہے۔سی این این اردو کے کالم نگار ،اینکر پرسن،سینئر کرائم رپورٹر اور معروف صحافی فیاض ملک کی رپورٹ کے مطابق  اس پورے آپریشن میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید نے اہم تفتیشی کردار ادا کیا، جبکہ ایل ڈبلیو ایم سی کی چھینی گئی گاڑی میں نصب ٹریکر حملہ آوروں تک پہنچنے کا فیصلہ کن سراغ ثابت ہوا۔
لاہور میں گزشتہ دنوں بادامی باغ اور نواں کوٹ کے علاقوں میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں تین پولیس جوان شہید جبکہ تین زخمی ہوئے۔ ان افسوسناک واقعات کے بعد لاہور پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری اور ان کے نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں۔
ذرائع کے مطابق بادامی باغ میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد موقع پر پہنچنے والے افسران کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ حملہ آور کون تھے، ان کا مقصد کیا تھا اور فائرنگ کے بعد وہ کس راستے سے فرار ہوئے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے تحقیقات کے دوران موقع سے ملنے والے شواہد، سابقہ معلومات اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کو سامنے رکھتے ہوئے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔
اسی دوران یتیم خانہ چوک میں بھی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اطلاع سامنے آئی، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید سمیت دیگر افسران فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات کو آگے بڑھایا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو مبینہ طور پر حملوں میں ملوث افراد کے نام ریحان بٹ، اس کے والد فیاض بٹ اور ان کے ساتھی طارق کے طور پر معلوم ہوئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوتے ہوئے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کی ایک گاڑی بھی اپنے قبضے میں لے گئے، جس میں اس وقت ڈرائیور موجود تھا۔
بظاہر گاڑی چھیننے کا واقعہ تفتیش کی ایک معمولی کڑی دکھائی دیتا تھا، تاہم بعد میں یہی تفصیل حملہ آوروں تک پہنچنے کا اہم ترین تکنیکی سراغ بن گئی۔گاڑی کا ٹریکر تفتیش میں اہم موڑ ثابت ہوا،ذرائع کے مطابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے فوری طور پر متعلقہ حکام سے ایل ڈبلیو ایم سی گاڑی میں ٹریکر کی موجودگی کی تصدیق کرائی۔ ٹریکر سے گاڑی کی نقل و حرکت کا پتا چلایا گیا اور پولیس ٹیموں نے اس کی لوکیشن کو مسلسل مانیٹر کرنا شروع کردیا۔
عام طور پر ایسے واقعات میں پولیس مشتبہ افراد کے موبائل فون، کال ڈیٹا، عینی شاہدین اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھاتی ہے۔ تاہم مبینہ حملہ آوروں نے بھی اپنے فرار کو یقینی بنانے کے لیے موبائل فونز کو یتیم خانہ چوک کے قریب پھینک کر ڈیجیٹل سراغ ختم کرنے کی کوشش کی۔
اس کے باوجود پولیس نے گاڑی کے ٹریکر کو بنیاد بنا کر حملہ آوروں کی ممکنہ نقل و حرکت کا سراغ جاری رکھا۔ لاہور پولیس نے اس کارروائی میں شیخوپورہ پولیس کو بھی شامل کیا اور دونوں اضلاع کی ٹیموں نے مل کر مشتبہ افراد کی تلاش شروع کی۔
ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی انٹیلی جنس کا استعمال بھی کیا گیا ،تفتیش کے دوران گاڑی کے ٹریکر سے حاصل ہونے والی معلومات کو زمینی انٹیلی جنس کے ساتھ ملایا گیا۔ اسی دوران ایل ڈبلیو ایم سی کے ڈرائیور سے بھی رابطہ کیا گیا، جس نے پولیس کو بتایا کہ حملہ آور گاڑی سے اتر چکے ہیں۔
ڈرائیور نے پولیس کو یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ممکن ہے حملہ آور گاڑی میں کوئی خطرناک چیز چھوڑ گئے ہوں۔ اس خدشے کے باعث گاڑی چھوڑ دی گئی، جس کے بعد پولیس کے سامنے ایک نئی صورت حال پیدا ہوگئی۔
اب ٹریکر پولیس کو گاڑی کی جگہ تو بتا رہا تھا لیکن حملہ آور گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ اس مرحلے پر صرف ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کے بجائے انسانی انٹیلی جنس کو بھی شامل کیا گیا۔
پولیس ٹیموں نے قریبی دیہات میں مقامی لوگوں سے معلومات حاصل کرنا شروع کیں اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ اسی دوران شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے ایک مقامی شخص نے متعلقہ پولیس افسر کو اطلاع دی کہ اس نے علاقے میں تین مشتبہ افراد کو دیکھا ہے۔اس اطلاع نے پولیس کے شبے کو مزید مضبوط کیا کہ حملہ آور ممکنہ طور پر اسی علاقے میں موجود ہیں۔
گاؤں کا محاصرہ، مشتبہ ٹھکانے تک رسائی حاصل کی گئی ،اطلاع ملنے کے بعد لاہور پولیس کے ایس پی فرحت عباس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شیخوپورہ پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی شروع کی۔ پولیس نے گاؤں اور اس کے اطراف کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق سرچ اینڈ سویپ آپریشن کے دوران بالآخر اس مکان کا سراغ لگا لیا گیا جہاں مبینہ طور پر ریحان بٹ، فیاض بٹ اور طارق نے رات کے وقت پناہ لے رکھی تھی۔
اس موقع پر پولیس افسران نے فوری کارروائی کے بجائے محتاط حکمت عملی اختیار کی۔ رات کے اندھیرے میں آپریشن کرنے کے بجائے صبح ہونے کا انتظار کیا گیا تاکہ پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کے ممکنہ جانی نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے۔
بعد ازاں صبح کارروائی کی گئی، جس کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کے مطابق مقابلے میں دو مبینہ حملہ آور ہلاک ہوگئے جبکہ تیسرا شخص طارق فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
جدید پولیسنگ میں ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کا امتزاج لائق تحسین رہا ،اس پورے واقعے میں ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ حملہ آوروں نے موبائل فونز کے ذریعے اپنے سراغ ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن جس گاڑی کو انہوں نے فرار کے لیے استعمال کیا، اسی میں موجود ٹریکر ان کی نقل و حرکت تک پہنچنے کا ذریعہ بن گیا۔
اس کارروائی سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ جدید پولیسنگ صرف نفری، اسلحے اور طاقت کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، انسانی انٹیلی جنس، شواہد کے تجزیے، بروقت فیصلہ سازی اور مختلف پولیس یونٹس کے درمیان مؤثر رابطے کا مجموعہ ہے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی قیادت میں تفتیشی ٹیم نے بظاہر مختلف اور ایک دوسرے سے جدا دکھائی دینے والے واقعات کو آپس میں جوڑتے ہوئے ایک ایسا تفتیشی راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں مشتبہ حملہ آوروں کے ٹھکانے تک رسائی ممکن ہوئی۔
 ایل ڈبلیو ایم سی گاڑی کے ٹریکر سے شروع ہونے والی تفتیش اور پھر انسانی انٹیلی جنس کے ذریعے مشتبہ ٹھکانے تک پہنچنے کا عمل لاہور پولیس کی تفتیشی صلاحیت اور ٹیم ورک کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button