
جب فکر میں اضطراب جنم لیتا ہے تو اس کے بطن سے انتشار پیدا ہوتا ہے، اور جب یہی انتشار دل و دماغ پر قابض ہو جائے تو انصاف اور ناانصافی کے درمیان امتیاز کی صلاحیت مدھم پڑنے لگتی ہے، یہاں تک کہ یہ سوال ہی غیر متعلق محسوس ہونے لگتا ہے کہ انصاف غالب آیا یا نہیں۔
اسی انسانی کمزوری کو قابو میں رکھنے کے لیے کبھی اقوامِ عالم نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کا خواب دیکھا تھا—ایسا پلیٹ فارم جہاں انسانیت کو تباہی سے بچایا جا سکے، اور جہاں ریاستوں کے مابین تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے سایۂ عدل میں اس انداز سے حل کیا جائے کہ انصاف نہ صرف قائم ہو بلکہ نمایاں بھی نظر آئے۔ مگر 1945ء میں اس ادارے کی بنیاد رکھتے وقت جو فیصلے کیے گئے، وہ آج ازسرِ نو غور و فکر اور اصلاح کے متقاضی دکھائی دیتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ دو عظیم عالمی جنگوں، خصوصاً دوسری جنگِ عظیم کی راکھ سے ابھری، جس نے انسانیت کو ناقابلِ بیان دکھ اور اذیت سے دوچار کیا تھا۔ اس کے منشور کا آغاز ایک پُرعزم عہد سے ہوتا ہے کہ آئندہ نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا جائے۔ اس کے مقاصد واضح ہیں؛ اجتماعی کوششوں کے ذریعے عالمی امن و سلامتی کا قیام، اقوام کے درمیان مساوی حقوق اور حقِ خودارادیت کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کا فروغ، معاشی، سماجی، ثقافتی اور انسانی مسائل کے حل کے لیے تعاون، اور نسل، جنس، زبان یا مذہب کی تفریق کے بغیر انسانی حقوق کا احترام۔ گویا اس ادارے کا نصب العین مستقبل کی تباہ کاریوں کو روکنا، ہم آہنگی کو فروغ دینا، اور انسانیت کے وقار کو برقرار رکھنا تھا۔
لیکن پہلی جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والی مجلسِ اقوام اپنی کمزوری کے باعث طاقتوروں کی جارحیت کو روکنے میں ناکام رہی تھی۔ چنانچہ اقوامِ متحدہ کے معماروں نے ایک مضبوط ادارہ قائم کرنے کی کوشش کی، مگر اس میں طاقت کی حقیقتوں پر مبنی ایک سمجھوتہ بھی شامل کر لیا۔ سلامتی کونسل، جو اس کا سب سے بااختیار ادارہ ہے، پندرہ ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے پانچ—چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ—مستقل نشستوں کے ساتھ ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی کسی قرارداد کو روک سکتا ہے، خواہ باقی تمام ارکان اس کی حمایت کریں۔
یہ بندوبست بظاہر اس لیے کیا گیا تھا کہ 1945ء کی بڑی طاقتیں اس ادارے میں شامل رہیں، مگر اس نے خود مختار ریاستوں کے درمیان ایک ایسا درجہ بندی کا نظام پیدا کر دیا جو منشور میں درج مساوات کے اصول سے متصادم ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ویٹو بارہا ایسے اقدامات کی ڈھال بنتا رہا ہے جنہیں عالمی برادری روکنا چاہتی تھی۔ طاقتور مفادات اکثر انصاف اور انسانی حقوق پر غالب آتے رہے ہیں۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں ایک ریاست کے حق میں ویٹو کے مسلسل استعمال نے نہ صرف اکثریت کی آواز کو دبایا بلکہ اقوامِ متحدہ کے اس بنیادی اصول کو بھی مجروح کیا جس کے تحت سب کے لیے مساوی انصاف ہونا چاہیے تھا۔
1945ء کے بعد دنیا یکسر بدل چکی ہے۔ نئی طاقتیں ابھر چکی ہیں، وہ خطے جو کبھی حاشیے پر تھے آج وسیع آبادیوں اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حامل ہیں، اور عالمی جنوب بجا طور پر یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ ایک جنگ کے بعد تشکیل پانے والے ڈھانچے آج کی حقیقتوں پر کیوں مسلط رہیں۔ ویٹو اب اتحاد کی علامت کے بجائے ایک ایسی مراعت بن چکا ہے جو ادارے کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔ جب سلامتی کونسل مفلوج ہو جاتی ہے تو مظالم بے لگام ہو جاتے ہیں، جارحیت کو کوئی اجتماعی روک نہیں ملتی، اور چھوٹی ریاستیں خود کو اپنے ہی وجود سے متعلق فیصلوں میں محض تماشائی محسوس کرتی ہیں۔
اب وقت آ پہنچا ہے کہ اس ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے۔ سلامتی کونسل میں اصلاحات، خصوصاً ویٹو کے اختیار پر نظرِ ثانی، اب کوئی دور کا خواب نہیں بلکہ ایک فوری ضرورت ہے، اگر اقوامِ متحدہ کو اپنی معنویت اور اخلاقی قوت برقرار رکھنی ہے۔ مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں؛ مستقل ارکان کی تعداد میں توسیع تاکہ موجودہ عالمی حقیقتوں کی عکاسی ہو سکے، اجتماعی ظلم کے معاملات میں ویٹو کے استعمال پر رضاکارانہ پابندی، یا ایسے طریقہ کار کی تشکیل جس کے تحت ایک آواز عالمی ضمیر کو غیر معینہ مدت تک خاموش نہ رکھ سکے۔ جو بھی راستہ اختیار کیا جائے، مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ادارہ امن اور انصاف کے قیام میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
اس نازک گھڑی میں یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ بعض اوقات سفارت کاری تنگ نظری سے بلند ہو کر امن کے وسیع تر مقصد کی خدمت کرتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں ایک تعمیری اور کلیدی کردار ادا کیا، ایک نازک جنگ بندی کے قیام میں مدد دی اور مکالمے کی راہ ہموار کی، ایسے وقت میں جب تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا تھا۔ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پاکستان نے اپنے تعلقات اور علاقائی فہم کو بروئے کار لا کر یہ ثابت کیا کہ پل باندھنے والی سفارت کاری کتنی اہم ہوتی ہے۔ یہ کاوش اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب عالمی نظام کی رسمی مشینری کمزور پڑ جائے تب بھی سنجیدہ ریاستیں کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کے دروازے کھولنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تاہم محض ثالثی اس گہرے مرض کا علاج نہیں۔ اقوامِ متحدہ کو اپنے قیام کے وعدے کی تکمیل کے لیے ارتقا پذیر ہونا ہوگا۔ ویٹو، جو کبھی عجلت سے بچاؤ کا ذریعہ تھا، اب اکثر ناانصافی کی ڈھال بن چکا ہے۔ اقوام کو اب بصیرت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1945ء کے ڈھانچے پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی—الزام تراشی کے جذبے سے نہیں بلکہ تجدید کے عزم کے ساتھ۔
اگر توازن اور انصاف کو بحال نہ کیا گیا تو متبادل راستہ واضح ہے؛ایک ایسی دنیا جہاں بے معنویت غالب آ جائے، جہاں فکر اور عمل میں انتشار بڑھتا جائے کیونکہ انصاف کے نظام اتنے کمزور ہو چکے ہوں کہ ان کی کوئی وقعت نہ رہے۔ انسانیت اس سے بہتر کی مستحق ہے۔ اقوامِ متحدہ کے عوام—جن کے نام سے یہ منشور مزین ہے—کو اب یہ تقاضا کرنا ہوگا کہ ان کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم اپنے اعلیٰ ترین اصولوں کی پاسداری کرے، اس سے پہلے کہ اضطراب دوبارہ جنم لے اور انصاف نظروں سے اوجھل ہو جائے۔



