
ایک محاورہ زد عام ہے کہ ہنسائے کا نام ہے،رلائے کا کوئی نام نہیں۔ میں اکثر پنجاب پولیس کے لئے اس محاورے کو الٹ پڑھتا ہوں۔ پنجاب پولیس میں رلائے کا نام ہے،ہنسائے کا کوئی نام نہیں۔ویسے تو پولیس کی انفرادی زیادتیوں کے چرچے زد عام ہیں مگر پولیس کے اچھے کاموں پر تعریف کرنے میں عوام ہمیشہ کنجوسی کر جاتی ہے۔بلا شک و شبہ پولیس نظام میں ہزاروں حامیاں پائی جاتی ہیں جنھیں ڈیفنڈ نہیں کیا جا سکتا۔جس طرح ہر شعبے میں مختلف سوچ رکھنے والے،بدعنوان،کرپٹ،کریمنل مائنڈ لوگ پائے جاتے ہیں اسی طرح اس ادارے میں بھی کرپٹ،بدعنوان،کرمنل مائنڈ آفیسرز پائے جاتے ہیں جو کرپشن و بدعنوانی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتےاور آج کل تو ویسے بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایسے آفیسرز کی چاندی ہوئی پڑی ہے۔
جیسے ہی رات کے آٹھ بجے،سوئی پر سوئی چڑھی پولیس ملازمین باجماعت ہو کر اس جذبے اور شوق کیساتھ کاروباری مراکز کا رخ کرتے نظر آتے ہیں جیسے کہ شب برات کی رات لوگ نیکیاں کمانے مسجدوں کا رخ کرتے ہیں۔وہاں سے گاڑیاں بھر بھر کر دکانداروں کو پولیس اسٹیشن لاتے ہیں،پھر رات بارہ بجے کے بعد افسران بالا کی نظر میں کارکردگی ظاہر کرنے کیلئے کچھ دکانداروں کو قربانی کا بکرا بنا کر ان پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے،باقی سب دکانداروں کے لواحقین اپنے اپنے بندوں کی بولیاں لگا کر انھیں گھر لے آتے ہیں۔
ہماری عوام بھی اتنی سادہ ہے کہ روز اپنے رفیقوں کو وائلیشن کرتے پولیس وین میں بیٹھتا دیکھتے ہیں مگر ہمارے مزاج ایسے بگڑ چکے ہیں کہ ہمارا دل دوسروں پر عتاب مسلط ہوتا دیکھ کر بھی نصیحت نہیں پکڑتا۔ بدقسمتی سے پاکستانی عوام کو اج تک کوئی ایسا لیڈر میسر ہی نہیں ہوا جو ایک بے ہنگم ہجوم کو ایک بااخلاق قوم بنا سکتا۔ پولیس میں موجود ملازمین کوئی فرشتے تھوڑی ہیں وہ بھی تو اس عوام کا حصہ ہیں۔
یقیناً پولیس والوں کے دل سے حکمران جماعت کیلئے دعائیں نکلتی ہوں گی کہ بھلا ہو اس حکومت کا جسکی پالیسی کی بدولت ہماری دس کی دس انگلیاں گھی میں ہیں کیونکہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد جرائم میں کافی حد تک کمی آ چکی تھی،اسی بناء پر علاقائی پولیس اسٹیشنز معاشی طور پر شدید مندے کا شکار تھے مگر حکومتی سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کی بدولت پولیس اسٹیشنز کا معاشی نظام کافی بہتر ہو چکا ہے۔
حکومت کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن وقت کی ضرورت تھا،جبکہ اس پالیسی نے حکمران جماعت کو سیاسی طور پر بہت نقصان پہنچایا۔مگر بہرحال سیاست کی بجائے ریاست بچانا اولین ترجیح ہوتی ہے۔عوام کو رضاکارانہ طور پر اس حکومتی پالیسی کا حصہ بننا چاہئے ورنہ پولیس تو ایسی پالیسیوں پر عملدرآمد کروانے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے کیونکہ ایک تو تعمیل حکم ہو جاتا ہے دوسرا خرچہ پانی بن جاتا ہے۔
ویسے بھی حکومت کی جانب سے پولیس ادارہ ہمیشہ بنیادی ضروریات سے محرومی کا شکار رہتا ہے۔ایسے میں حکومت کی جانب سے ایسی پالیسیاں پولیس کے لئے آب حیات کا کام کرتی ہیں۔
پولیس کو معاشی استحکام ملتا ہے جس سے وہ اپنی بنیادی دفتری ضروریات پوری کرتی ہے۔مثلا پیٹرولنگ کیلئے جو ایک ماہ کا فیول دیا جاتا ہے وہ دس سے بار دن کی پیٹرولنگ کے بعد ختم ہو جاتا ہے بقیہ بیس دن کی پیٹرولنگ کیلئے ہر پولیس اسٹیشن کو فیول خود مینج کرنا پڑتا ہے۔آپ سب سمجھدار ہیں کہ ایک سرکاری ملازم اپنی تنخواہ میں سے پیٹرولنگ کیلئے فیول ڈلوانے سے تو رہا،وہ نا چاہتے ہوئے بھی عوام کی جیب کی طرف ہاتھ بڑھائے گا۔یوں کرپشن کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے اس کے علاؤہ سٹیشنری کے اخراجات، مقدمات کی انویسٹیگیشن کے اخراجات، مجرمان کی گرفتاری کیلئے ریڈ پر خرچ ہونے والے اخراجات، چالان جمع کروانے کے اخراجات اس کے علاؤہ اور بہت کچھ پولیس کو اپنی مدد آپ کے تخت خود مینج کرنا پڑتا ہے۔
جب آپ پولیس ادارے کو ساٹھ فیصد بجٹ دے کر سو فیصد کارکردگی کا تقاضا کریں گے تب بدعنوانیاں، بے ضابطگیاں،کرپشن جنم تو لیں گی۔ایسے بوسیدہ نظام میں آپ فرشتے کو پولیس وردی پہنا کر کرسی پر بٹھا دیں یاں تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ جائے گا یاں پھر وہ بھی کرپشن کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ آپ ماضی قریب میں بننے والی فرشتہ فورس میرا مطلب ہے پیرا فورس کو ہی دیکھ لیجیے۔
شروع شروع میں اس فورس نے نئی نویلی دلہن کی طرح اپنی ایماندارانہ اداؤں سے چیف منسٹر صاحبہ کو متاثر کیا،جیسے ہی پیرا فورس اس نظام کا حصہ بنی وہ بھی کرپشن زدہ ہو گئی۔ انکا طریقہ واردات دیکھ کر تو پولیس فرشتہ صفت نظر آنے لگی ہے۔پولیس تو دو تین ہزار میں بھی مان جاتی ہے جبکہ پیرا فورس کا آغاز ہی پندرہ بیس ہزار سے شروع ہوتا ہے۔
بہرحال میں اپنے موضوع کی طرف واپس آتا ہوں جیسا کہ میں نے آغاز میں کہا کہ رلائے کا نام ہے، ہنسائے کا کوئی نام نہیں۔ ہر دوسرا شہری پولیس کی جانب سے انفرادی زیادتیوں کا چرچہ کرتا ہے مگر کسی نے ان کارکردگیوں کا چرچہ نہیں کیا جن کی بدولت اجتماعی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔میں آج آپ کو پولیس کی ان کارکردگیوں پر توجہ دلاؤں گا جن کی بدولت اجتماعی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔جن میں سے سر فہرست ہے منشیات فروشوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں۔ ان کاروائیوں کا پولیس کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہاں مگر معاشرے کو اس کاروائی کے ثمرات اس صورت میں ملتے ہیں کہ ہزاروں ماؤں کے لال سسک سسک کر مرنے سے بچ جاتے ہیں۔
اسکے بعد ہے قحبہ خانوں کے خلاف کارروائی اس کاروائی کی بدولت معاشرے میں بے حیائی کم ہوتی ہے اور ماؤں کے بیٹے کافی حد تک بے حیائی سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔اسکے بعد ہے جوا خانوں کے خلاف کریک ڈاؤن۔ کیونکہ یہ جوا خانے کے اڈے ہی لڑائی جھگڑے،قتل و غارت گری،خودکشی اور ڈکیتی کا سبب بنتے ہیں۔ پولیس جوا خانوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرکے معاشرے کے نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسکے بعد ہے ڈکیتوں کے خلاف کارروائی۔ اس کاروائی کی بدولت عوام کی عزت،جان اور مال کافی حد تک محفوظ رہتا ہے۔ ان ساری کاروائیوں کا بظاہر پولیس کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا پرانی تنخواہ میں ہی ان سب چیلنجرز سے نمٹنا پڑتا ہے۔جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے،اپاہج ہونا پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو شہید بھی ہونا پڑتا ہے۔یہ ہے پولیس کا مثبت چہرہ جسکا نام نہیں ہوتا کیونکہ معاشرے میں رواج ہے کہ رلائے کا نام ہوتا ہے ہنسائے کا کوئی نام نہیں ہوتا۔میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ جہاں آپ پولیس کی زیادتیوں اور منفی رویوں کا ذکر کریں وہاں تھوڑا سا ان کارکردگیوں کا بھی ذکر کر دیا کریں جن کے ثمرات خالصتاً عوام کو اجتماعی طور پر حاصل ہوتے ہیں۔



