لاہور (تبصرہ /عقیل انجم اعوان )طارق محمود مرزا کی تصنیف خو شبو کا سفر محض یورپ کے مناظرِ فطرت، طرزِ معاشرت یا تہذیبی رنگارنگی کا بیان نہیں بلکہ ایک ایسے مسافر کی آنکھ سے دیکھی گئی دنیا ہے جو قدم جہاں بھی رکھتا ہے وہاں اپنی روح کا چراغ ساتھ لے کر چلتا ہے۔ یہ سفر نامہ اپنے اسلوب کی سادگی، بیان کی شائستگی اور مشاہدے کی گہرائی کے باعث اردو ادب کے اُس سنہری سلسلے سے جا ملتا ہے جس میں مستنصر حسین تارڑ کی سی مسافرانہ جستجو، قدرت اللہ شہاب کی طرح باطنی نظر اور ابنِ انشا کی مانند حاضر دماغی کی لطافت کہیں نہ کہیں اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ مگر طارق محمود مرزا کا انداز کہیں بھی تقلید نہیں کرتا؛ وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں اور قاری کے سامنے یورپ کی وہ تصویریں رکھتے ہیں جو عام مسافر کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔

یہ کیفیت ہی اس کتاب کی اصل روح ہے کہ مصنف مشاہدہ بھی کرتا ہے مگر محض دیکھتا نہیں، سنتا بھی ہے مگر صرف کانوں سے نہیں، محسوس بھی کرتا ہے مگر سطحی انداز سے نہیں۔ اسی لیے خوشبو کا سفر کے صفحات قاری کو اپنے حصار میں ایسے باندھ لیتے ہیں جیسے کوئی اچھا قصہ گو اپنے سامع کے ذہن میں زمان و مکان کی قید توڑ کر ایک نئی دنیا آباد کردے۔
یورپ کا سفر: محض جغرافیہ نہیں، ایک داخلی کائناتطارق محمود مرزا کے سفر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ یورپ کو صرف یورپ کے طور پر نہیں دکھاتے بلکہ ہر شہر، ہر گلی، ہر عمارت اور ہر موسم کو انسانی جذبات کے آئینے میں ڈال کر دیکھتے ہیں۔ وہ پیرس کے کسی کیفے میں بیٹھے ہوں یا وینس کی نہروں کے کنارے چلتے ہوئے کوئی غمگین گیت سن رہے ہوں، ان کا قلم ہر منظر کو تاثر کی اُس خوشبو سے معطر کر دیتا ہے جو سفر نامے کو محض معلوماتی تحریر نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے ادب کا درجہ عطا کر دیتی ہے۔وہ تاریخی مقامات کا بیان محض تاریخ بتانے کے لیے نہیں کرتے بلکہ اس کے پس منظر میں انسانی تہذیب کی تہیں کھولتے ہیں۔ مثلاً وہ روم کے کھنڈرات کو دیکھ کر صرف یہ نہیں کہتے کہ یہ قدیم سلطنت کا ورثہ ہے بلکہ یہ بھی دکھاتے ہیں کہ طاقت اور فتوحات کے غرور کو وقت کیسے پیوندِ خاک بنا دیتا ہے۔
اس تناظر میں ان کا طرزِ فکر قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سفر صرف راستوں کا نہیں ہوتا، انسان کے باطن کا بھی ہوتا ہے۔اسلوب: سادگی میں کلاسیکیت کی چمککسی اچھے سفر نامے کی پہلی پہچان زبان کی روانی اور اسلوب کی دلکشی ہے۔ طارق محمود مرزا کی نثر کلاسیکی اردو ادیبوں کا سا وقار رکھتی ہے۔ نہ کہیں بے جا تکلف، نہ غیر ضروری فلسفہ، نہ جذبات کا شور۔ جملوں کی تراش خراش میں نفاست ہے اور بیان میں وہ ٹھہراؤ ہے جو قاری کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے۔
ان کی تحریر میں مزاح بھی ہے مگر شائستہ، جذبات بھی ہیں مگر متوازن، تنقید بھی ہے مگر اخلاقی حدود کے اندر۔ وہ یورپ کے کسی عجیب و غریب منظر کو بیان کرتے ہوئے بھی اپنی نثر کی تہذیبی بنیاد نہیں کھو دیتے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو اردو کے کلاسیکی سفرنامہ نگاروں—شبلی، رشید احمد صدیقی اور ابنِ انشا—کی تحریروں میں دکھائی دیتی ہے، اور خوشبو کا سفر اسی ادبی وراثت کا جدید تسلسل محسوس ہوتی ہے۔مشاہدے کی قوت: ایک حساس دل کی آنکھ سے دیکھنامصنف کے مشاہدے میں باریکی ہے۔ وہ محض کسی منظر کی خوبصورتی ہی نہیں پکڑتے بلکہ اس کے پیچھے موجود انسانی جذبات اور تہذیبی اشاروں کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ وہ کسی چرچ کی خاموشی بیان کرتے ہیں تو صرف گنبد اور دیواروں کا ذکر نہیں کرتے بلکہ اس خاموشی میں چھپے صدیوں کے دکھ، امیدیں اور دعاؤں کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔اسی طرح وہ یورپ کے لوگوں کے طرزِ زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی ظاہری آزادی کے ساتھ وہ تنہائی بھی محسوس کرتے ہیں جو مغربی معاشرت کا ایک بنیادی پہلو ہے۔
وہ ایک ہجوم کے درمیان موجود اس فرد کو بھی دیکھتے ہیں جو اندر سے خالی ہے، اور ایک خاموش پارک میں بیٹھے اس بوڑھے کو بھی جو اپنی ماضی کی یادوں میں کھو کر زندگی کی آخری ڈور تھامے ہوئے ہے۔ یوں خوشبو کا سفر صرف مناظر کا سفر نہیں رہتا بلکہ انسانی روح کی تصویریں بھی بننے لگتی ہیں۔یورپ کی تہذیب کا ادبی تجزیہکتاب میں یورپ کی ترقی، قوانین کی پاسداری، شہری شعور اور سماجی نظم و ضبط کا ذکر تو ملتا ہے، مگر مصنف ان سب کو اندھی عقیدت کے ساتھ بیان نہیں کرتے بلکہ ایک علمی اور تہذیبی زاویے سے جانچتے ہیں۔ وہ مغرب کی سائنسی ترقی کو تسلیم کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ روحانی خلا کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ وہ یورپی معاشرے کی خوشحالی کا اعتراف بھی کرتے ہیں مگر اس خوشحالی کی قیمت میں شامل تنہائی، رشتوں کی کمزوری اور گھریلو نظام کی شکستگی پر بھی بات کرتے ہیں۔
یہ توازن ہی کسی اچھے سفرنامے کی بنیاد ہوتا ہے کہ مصنف نہ تو اپنے وطن کی اندھی تعریف میں دوسروں کی تہذیب کو کمتر سمجھے اور نہ غیر ملکی نظام سے مرعوب ہو کر اپنی اقدار کا انکار کرے۔ خوشبو کا سفر اسی توازن کی بہترین مثال ہے۔عکسِ پاکستان: وطن سے محبت کا نرم سا اظہارہر اچھا مسافر جب دنیا دیکھ لیتا ہے تو آخرکار اپنے وطن کی مٹی ہی اسے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ طارق محمود مرزا بھی یورپ کے حسین مناظر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں مگر اُن کے دل کی دھڑکن پاکستان کے لیے ہی چلتی رہتی ہے۔ وہ کسی صاف ستھری سڑک یا منظم ٹریفک کو دیکھ کر اپنے ملک کے مسائل کو یاد ضرور کرتے ہیں مگر یورپ کے مقابلے میں پاکستان کو کمتر نہیں دکھاتے۔
وہ وطن کے دکھ جانتے ہیں مگر اس کی محبت ان کی تحریر کے ہر موڑ پر محسوس ہوتی ہے۔یہ وہ لطیف احساس ہے جو قاری کو بھی اپنے وطن کی قدر یاد دلاتا ہے اور سفر نامے کی روح کو مزید گہرائی دیتا ہے۔خوشبو کی علامت: کتاب کا عنوان اور اس کا ادبی مفہومکتاب کا عنوان خوشبو کا سفر ایک علامتی حسن رکھتا ہے۔
خوشبو کا سفر بے سمتی کا سفر نہیں، یہ اُس روشنی کا سفر ہے جو دلوں کو معطر کرتی ہے۔ طارق محمود مرزا نے سفر کو خوشبو سے تشبیہ دے کر یہ بتا دیا ہے کہ سفر محض جگہ بدلنے کا نام نہیں بلکہ تجربات، احساسات اور مشاہدات کی اس خوشبو کا نام ہے جو انسان کی شخصیت کو معطر کر دیتی ہے اور اس کے اندر نت نئے رنگ بھر دیتی ہے۔یہ عنوان اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ یورپ کی گلیوں میں بھٹکتے ہوئے مصنف نے صرف مناظر نہیں دیکھے بلکہ وہ خوشبو بھی محسوس کی ہے جو انسانیت، تہذیب، تاریخ اور فن میں بکھری ہوئی ہے۔تحریر کا بہاؤ اور قاری پر اثرکتاب کے سلسلے وار ابواب یوں آگے بڑھتے ہیں جیسے کوئی دریا اپنے بہاؤ کے ساتھ قاری کو ساتھ لیے چلے۔
کہیں منظر اپنی پوری رعنائی کے ساتھ سامنے آتا ہے، کہیں کوئی مکالمہ چاشنی پیدا کرتا ہے، کہیں یادیں اور احساسات ذہن کو نرم کرتے ہیں، کہیں نکتہ آموزی سوچ کو گہرا کرتی ہے۔ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مصنف کے ساتھ یورپ کے راستوں پر چل رہا ہے۔مصنف جگہ جگہ ایسا جملہ لکھ جاتے ہیں جو دل پر نقش ہو جاتا ہے۔ کبھی وہ زندگی کی فلسفیانہ حقیقت بیان کرتے ہیں، کبھی رشتوں کی نزاکت، کبھی تہذیب کی تبدیلیاں اور کبھی انسان کی داخلی تنہائی۔
یہی وہ نقطے ہیں جو خوشبو کا سفر کو محض سفر نامہ نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے ادبی معنویت عطا کرتے ہیں۔اختتامیہ: اردو ادب میں ایک خوبصورت اضافہخوشبو کا سفر کو اردو ادب کے سفر نامہ نگاری کے سلسلے میں ایک معتبر اضافہ کہنا بالکل درست ہوگا۔ اس میں کلاسیکی ادب کی مہک بھی ہے، جدید احساسات کی تازگی بھی، مشاہدے کی گہرائی بھی اور نثر کی شائستگی بھی۔
یہ کتاب نہ صرف یورپ کو سمجھنے کا ایک خوبصورت وسیلہ ہے بلکہ انسان کو خود اپنی ذات، اپنی زمین اور اپنی تہذیب سے دوبارہ جوڑنے کا بھی ایک مضبوط ذریعہ ہے۔یہ سفرنامہ ان لوگوں کے لیے بھی دلچسپ ہے جو یورپ کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں، اور ان لوگوں کے لیے بھی جو محض ادب کی لذت چاہتے ہیں۔ کیونکہ اس میں وہ سب کچھ ہے جو ایک اچھی کتاب کا سرمایہ ہوتا ہے: حسن، معنویت، محبت، تہذیب، تجربہ اور احساس۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خوشبو کا سفر ایک ایسی ادبی خوشبو ہے جو قاری کے ذہن و دل میں دیر تک مہکتی رہتی ہے۔



