
پاکستان صرف سرحدوں، خطوں اور جغرافیے کی حد بندیوں کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مقدس اور باوقار وعدہ ہے ایک ایسا خواب جسے لاکھوں انسانوں کی قربانیوں، لامتناہی محبتوں اور عدل و انصاف کی مٹی سے گوندھ کر تعبیر دی گئی تھی۔ جب بھی 11 اگست کا سورج اس پاک سرزمین پر اپنی زریں کرنیں بکھیرتا ہوا طلوع ہوتا ہے تو سچی بات یہ ہے کہ روح کے نہاں خانوں میں جذباتی پاکیزگی، تشکر اور ادراک کی ایک عجب لہر دوڑ جاتی ہے۔
یہ دن محض ایک روایتی تقریب یا رسمی تقریب کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی گہرائیوں سے اعتراف ہے اُن ان گنت چہروں کی بے لوث محبت کا، ان کے ایثار، جذبے اور خلوص کا، جنہوں نے اپنے ایمان اور مسلک کی تفریق سے بالاتر ہو کر اس پاک سرزمین کی آبیاری کی، اس کی تعمیر و ترقی، خوشحالی اور جغرافیائی و نظریاتی تحفظ کے لیے اپنا خون اور پسینہ ایک کیا۔
بیشک ہماری بقا، یکجہتی اور باہمی محبت کا سرچشمہ وہ دینِ مبین ہے جس نے تاریک دنیا کو سب سے پہلے انسانیت کی حرمت، شرافت اور مساوات کا آفاقی درس دیا۔ آقا کریم محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا ہر ایک صفحہ ہمارے لیے ہدایت کی وہ روشن مشعل ہے جو قیامت تک تاریکیوں میں راہ دکھاتی رہے گی۔
تاریخِ عالم کے آئینے میں دیکھیں تو مدینہ منورہ کی وہ مقدس مسجد یاد آتی ہے جہاں نجران کے مسیحی وفد کو خود رسالت مآب ﷺ نے اپنے سامنے ان کے اپنے طریقے سے عبادات ادا کرنے کی کشادہ دلی سے اجازت عطا فرمائی۔ تاریخ یہ مقدس واقعہ بھی کبھی نہیں بھول سکتی کہ ایک غیر مسلم کے ناحق قتل پر حاکمِ وقت نے قصاص کا حکم جاری کر کے زمانے پر یہ ثابت کر دیا کہ اسلامی ریاست کے سایہ تلے ہر انسان کی جان، مال اور آبرو مساوی طور پر مقدس ہے۔
نبی کریم ﷺ نے تو یہاں تک متنبہ فرما کر خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی کہ جو شخص کسی اقلیتی یا معاہد شہری پر ظلم کرے گا، اس کا حق غصب کرے گا یا اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے گا، بروزِ محشر خود سرورِ کونین ﷺ اس کے خلاف مدعی بن کر کھڑے ہوں گے۔ یہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانیت کے تحفظ کا وہ عظیم الشان منشور ہے جو ہر سچے اور باعمل مسلمان کے دل اور روح میں نقش ہے۔
ہماری اس پاکیزہ سرزمین پر اسی نبوی تعلیم اور اسوۂ حسنہ کا روشن عکس بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن اور سیاسی فلسفے میں ڈھلا۔ قائد اعظم کا سچا اور کھرا دل انسانیت کے درد اور رواداری کی روشنی سے منور تھا۔ وہ ایک ایسی مثالی مملکت کا قیام چاہتے تھے جہاں کا ہر باشندہ بغیر کسی خوف، ہچکچاہٹ، ناانصافی یا تعصب کے آزادانہ اور پروقار سانس لے سکے۔
جب انہوں نے اپنے تاریخی خطبے میں فرمایا تھا کہ "آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں اور دیگر عبادت گاہوں میں جانے کے لیے مکمل آزاد ہیں، ریاست کے لیے تمام شہری برابر ہیں”، تو دراصل وہ ملک کی ہر اقلیت کو یہ کامل اعتماد اور یقین دلا رہے تھے کہ یہ نیا ملک ان کا اپنا ذاتی اور محفوظ گھر ہے۔
ان کی یہ آفاقی سوچ کوئی عارضی سیاسی نعرہ نہیں تھی بلکہ ان کی روح کے سچے جذبے سے نکلنے والی وہ صدا تھی جو اسلام کی اجلی روایات اور قرآنی احکامات کے عین مطابق تھی۔ قائد نے بارہا یہ باور کرایا کہ اقلیتیں ریاست کا ایسا انمول اثاثہ ہیں جن کے حقوق کی پاسداری کیے بغیر کوئی بھی قوم دنیا میں سر اٹھا کر نہیں جی سکتی۔
پاکستان کے اقلیتی بھائیوں نے اس ملک کی تعمیر، دفاع اور بالیدگی میں وہ لازوال داستانیں رقم کی ہیں جو ہماری تاریخ کے سنہری اور درخشندہ حروف میں درج ہیں۔ پاک فوج کے جری اور بہادر جوانوں کی صورت میں سرحدوں کے تحفظ سے لے کر عدلیہ کے ایوانوں تک، اعلیٰ تعلیم کے اداروں سے لے کر صحت و طب کی بے لوث اور شبانہ روز خدمات تک اقلیتی برادری نے ہر مشکل اور نازک موڑ پر یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا دل بھی اسی وطنِ عزیز کے پرچم کے نیچے یکساں جذبے کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
جب جب اس پاک مٹی نے اپنے بیٹوں کو پکارا، انہوں نے اپنے سینے ہر خطرناک آفت کے سامنے ڈھال بنا دیے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے وہ گوہر نچھاور کیے جن کی بدولت آج پوری دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند ہے۔آئینِ پاکستان کا ہر صفحہ اور ہر شق اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اقلیتی برادریوں کی جان، مال، عزّت، آبرو، مذہبی آزادی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کرنا ریاست کی سب سے بنیادی اور مقدس ترین ذمہ داری ہے لیکن یہ محض چند قانونی دستاویزات، شقوں یا پاسداری کا معاملہ نہیں ہے، یہ دلوں کا رشتہ ہے، یہ محبت، اپنائیت، احترام اور گہرے احساس کا وہ اٹوٹ بندھن ہے جو ہمیں ایک قوم بناتا ہے۔ ہم بحیثیت قوم اس وقت تک ہرگز آگے نہیں بڑھ سکتے، اس وقت تک عالمی برادری میں اپنا حقیقی لوہا نہیں منوا سکتے، جب تک کہ ہم اپنے ہر شہری، ہر بھائی اور ہر بہن کو اس مٹی پر کامل تحفظ، برابری، مساوات اور عزتِ نفس کا احساس نہ دلا دیں۔
11 اگست کا یہ پرخلوص، یادگار اور جذبات سے لبریز دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم تمام تر نفرتوں، تفرقوں اور تعصبات کے بتوں کو پاش پاش کر کے محبت، رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کے روشن دیپ جلا دیں۔ آئیں آج کے دن اس مقدس عزم کو اپنے دلوں میں پھر سے تازہ اور مضبوط کریں کہ ہم ایک ایسے پرامن، مستحکم اور روشن پاکستان کی تعمیر کا سفر جاری رکھیں گے جہاں کا ہر اقلیتی شہری اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر، اپنی آنکھوں میں فخر و مسرت کے آنسو لیے پوری دنیا کے سامنے یہ کہہ سکے کہ "یہ میرا اپنا وطن ہے، یہی میری پہچان اور میرا غرور ہے اور اس کی آغوش میں، میں مکمل طور پر محفوظ، آزاد اور بااختیار ہوں”۔



