پاکستانتازہ ترینکاروبار

’برا وقت گزر چکا‘: وزیر خزانہ کا مہنگائی میں کمی اور شرح سود سنگل ڈیجٹ کرنے کا اعلان

لاہور ( ویب ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کا جائزہ لیا اور دیکھا جائے گا کہ اسے قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت کیسے دی جا سکتی ہے، مستحکم ہونے کے بعد اب اقتصادی گروتھ حاصل کرنے کے لئے انڈسٹریلائزیشن ضروری ہے، کنسٹرکشن سیکٹر کے لئے ریلیف دینے جا رہے ہیں جلد وزیراعظم پاکستان اعلان کریں گے، آئی ٹی سیکٹر سارا پیسہ پاکستان نہیں لا رہا، 4سے 5ارب ڈالر باہر رکھتے ہیں، برآمدات کی مد میں سارا پیسہ واپس ملک میں آنا چاہیے، حکومت تاجر برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف پی سی سی آئی لاہور میں پاکستان اکنامک گروتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو اس بات پر پختہ یقین ہے جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی کہتے ہیں کہ پرائیوٹ سیکٹر کو آگے آنا ہوگا اور حکومت اپنی استطاعت کے مطابق تمام وسائل اور سہولیات فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری حکومت پر تنقید ضرور کرے کیونکہ تعمیری تنقید کو مثبت انداز میں لیا جاتا ہے تاہم مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل بھی پیش کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس کا جائزہ لیا اور دیکھا جائے گا کہ اسے قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت کیسے دی جا سکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں اپنے معاشی حالات کا خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ کرنا چاہیے، تاہم موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی بھی بڑے چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ مستقبل میں مسائل پیدا کر سکتا ہے، اس سلسلے میں صنعتی شعبے کے قائدین کو حکومت کی معاونت کرنی چاہیے کیونکہ ان کی آواز سنی جاتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ملک میں سیمنٹ کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، تعمیراتی سرگرمیاں شروع اور معیشت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022ء کے سیلاب کے مقابلے میں 2025ء کا سیلاب زیادہ شدید تھا تاہم اس بار حکومت نے عالمی برادری سے امداد کی اپیل نہیں کی کیونکہ ملک کے پاس اپنے وسائل موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں معیشت مشکل حالات سے گزر رہی تھی اور درآمدات کے لیے ترجیحات مقرر کرنا پڑی تھیں تاہم اب صورتحال مختلف اور معیشت پہلے کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی نظم و ضبط کے لیے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے گئے ہیں جن کے ثمرات اب سامنے آ رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ مہنگائی میں کمی آئی اور پالیسی ریٹ کم ہونے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ بھی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے جبکہ عالمی اداروں کا بھی ملکی معیشت پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت شفافیت کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، ڈیجیٹلائزیشن سے محصولات میں اضافہ اور نظام مزید شفاف ہوگا، ٹیکس نیٹ بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایکسپورٹ لیڈ پالیسی پر عمل پیرا ہے، کنسٹرکشن سیکٹر کے لئے ریلیف دینی جا رہے ہیں جلد وزیراعظم پاکستان اعلان کریں گے،ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے، پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکسوں کی شرح میں کمی پر غور کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ 25کروڑ کی آبادی کو حکومت روزگار نہیں دے سکتی، حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں، نجی شعبہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت آئے گی، محصولات میں اضافہ ہو گا، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے۔ انہوںنے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں کام ہو رہا ہے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کر رہے ہیں، ہم رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو الگ اور تعمیرات کے سیکٹر کو الگ دیکھتے ہیں، تعمیراتی سیکٹر سے دیگر سیکٹرز منسلک ہیں، جہاں بھی آپ کو دقت ہو گی ہم مسائل کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے معاملات دیکھ رہے ہیں، 10سے 12دن دے دیں، ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے جلد کچھ نہ کچھ کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پراپرٹی سیکٹر کے متعدد ٹیکسوں کی شرح کی کمی پر غور کریں گے، ہمیں مختلف سیکٹرز کے ایشوز کے ساتھ اپنے فنانس کو دیکھنا ہوتا ہے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ملکی معیشت پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ایکسپورٹس پاکستان کا مستقبل ہیں، یہ آئی ٹی ایکسپورٹس 3سے 4ارب ڈالر کی ہیں، آئی ٹی سیکٹر برآمدات میں کردار ادا کر سکتا ہے، آئی ٹی سیکٹر 8سے 10ارب ڈالر برآمدات کا پوٹینشل رکھتا ہے، آئی ٹی سیکٹر سارا پیسہ پاکستان نہیں لا رہا، 4سے 5ارب ڈالر باہر رکھتے ہیں، برآمدات کی مد میں سارا پیسہ واپس ملک میں آنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومتی پالیسیوں کے باعث مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ کمی ہوئی، عام آدمی کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ جب حکومت میں آئے تو دو ہفتہ کا امپورٹ کور تھا، اس وقت اٹھائی ماہ کی امپورٹ کے برابر آگے ہیں۔ برا وقت دیکھا ہے وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ مہنگائی کنٹرول میں ہے، حکومت انٹرسٹ ریٹ ( شرح سود) بھی سنگل ڈیجٹ کریں گی ۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 24کروڑ لوگوں کو حکومت نوکریاں نہیں دے سکتی، ڈویلپرز اور بینکرز کا مسئلہ ہے، ریکوری کے مسائل ہیں، اس پر وزیراعظم سے بات کروں گا۔ معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button