
لاہور ہمیشہ سے برصغیر کی تہذیب، تجارت اور سیاست کا مرکز رہا ہے۔ اسی تاریخی شہر کا ایک اہم علاقہ بادامی باغ بھی ہے، جس نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملکی معیشت اور سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں سے قومی سیاست کی بڑی شخصیات عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئیں، جہاں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے انتخابی مہمات چلائیں، اور اسی وسیع سیاسی حلقے سے جناب حمزہ شہباز شریف بھی عوامی نمائندگی حاصل کرتے رہے۔ مگر افسوس کہ اس تاریخی اور سیاسی اہمیت کے حامل علاقے کے عوام آج بھی بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں۔
آج پنجاب حکومت "گرین پنجاب” اور "ستھرا پنجاب” جیسے منصوبوں کے ذریعے شہر کو خوبصورت بنانے کے دعوے کر رہی ہے۔ سڑکوں کے کنارے درخت لگائے جا رہے ہیں، دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار بنائے جا رہے ہیں اور لاہور کو جدید اور سرسبز شہر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ اقدامات قابلِ تحسین ہیں، لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا صرف دیواروں کو خوبصورت بنانے سے شہر خوبصورت ہو جاتا ہے؟
شہر کا اصل حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب دیواروں کے پیچھے رہنے والے لوگوں کو صاف ماحول، کھلی فضا، پارکس، بنیادی سہولیات اور باوقار زندگی میسر ہو۔ اگر رنگی ہوئی دیواروں کے عقب میں آلودگی، شور، تجاوزات اور شہری مسائل جوں کے توں موجود رہیں تو ظاہری خوبصورتی اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔
چند ماہ قبل راوی ٹاؤن کے اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں بادامی باغ پھاٹک نمبر 3 کے قریب تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس دوران اوور برج کے نیچے قائم جھگیاں، جانوروں کے باڑے اور دیگر تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ اس کارروائی کے بعد اہلِ علاقہ کو امید پیدا ہوئی کہ اس قیمتی سرکاری مقام کو عوامی مفاد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ لوگوں کی خواہش تھی کہ یہاں بچوں کے لیے ایک پارک، بزرگوں کے لیے بیٹھنے کی جگہ، پودوں کی نرسری، بنیادی ڈسپنسری یا کوئی کمیونٹی سینٹر قائم کیا جائے تاکہ یہ جگہ عوامی فلاح کا نمونہ بن سکے۔
لیکن مقامی آبادی کے مطابق ان کی یہ امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ آج اسی مقام پر ایک پارکنگ اسٹینڈ قائم ہے، جس کی وجہ سے علاقے کے رہائشی مختلف مشکلات سے دوچار ہیں۔ بھاری گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت، انجنوں کا شور، دھواں اور رات بھر روشن رہنے والی فلڈ لائٹس نے آس پاس کے مکینوں کا سکون متاثر کر دیا ہے۔ شدید گرمی میں وہ غریب خاندان جو اپنی چھتوں پر چارپائیاں بچھا کر سوتے تھے، اب اپنی خواتین اور بچوں کے ساتھ وہاں جانے سے بھی گریز کرتے ہیں کیونکہ تیز روشنیاں پوری رات ان کی نجی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔
مقامی سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد بار لاہور میں موجود ریلوے حکام سے ملاقاتیں کی گئیں۔ ہر مرتبہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ معاملہ جلد حل کر دیا جائے گا۔ متعلقہ ٹیموں نے کئی مرتبہ موقع کا دورہ بھی کیا، لیکن عملی طور پر صورتِ حال تبدیل نہ ہو سکی۔
اہلِ علاقہ کے مطابق ایک موقع پر ایک ریلوے افسر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت مستقبل میں اس مقام پر موجود اوور برج کو ختم کر کے انڈر پاس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، اس لیے موجودہ انتظام عارضی نوعیت کا ہے۔ تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی منصوبہ مستقبل میں موجود بھی ہے تو جب تک اس پر عملی کام شروع نہیں ہوتا، موجودہ مسائل کا حل بھی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
بار بار ملاقاتوں، یقین دہانیوں اور موقع کے دوروں کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونے کے باعث اہلِ علاقہ میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر طول دیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس تاخیر کی وجوہات سامنے لانے کے لیے شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ کہاں ہے اور اگر کسی سطح پر انتظامی غفلت، قواعد کی خلاف ورزی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی اپنی پریس کانفرنسوں میں ریلوے کی کارکردگی، اصلاحات اور ادارے کو منافع بخش بنانے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہیں، جو عوام میں امید پیدا کرتے ہیں۔ تاہم بادامی باغ کے رہائشی چاہتے ہیں کہ ان اصلاحات کے ثمرات مقامی سطح پر بھی نظر آئیں۔
ان کا مطالبہ ہے کہ وزیرِ ریلوے اس معاملے پر ایک آزاد انکوائری کمیٹی تشکیل دیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اوور برج کے نیچے قائم پارکنگ اسٹینڈ کس قانونی طریقۂ کار کے تحت قائم کیا گیا، آیا اس کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے، کیا متعلقہ قواعد کے مطابق منظوری حاصل کی گئی، اور اگر اس کے لیے کوئی لیز، معاہدہ یا دیگر سرکاری دستاویزات موجود ہیں تو انہیں شفافیت کے تقاضوں کے مطابق عوام کے سامنے لایا جائے۔ اس سے نہ صرف حقائق واضح ہوں گے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔
بادامی باغ محض ایک رہائشی علاقہ نہیں بلکہ لاہور کی سیاسی اور تاریخی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اگر حکومت واقعی "گرین پنجاب” کے وژن پر عمل پیرا ہے تو اس مقام کو پارکنگ اسٹینڈ کے بجائے عوامی فلاح کے مرکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک خوبصورت پارک، پودوں کی نرسری، بنیادی ڈسپنسری، کمیونٹی سینٹر اور بزرگوں کے لیے آرام گاہ قائم کی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ماحول بہتر ہوگا بلکہ حکومت کا عوامی خدمت کا وژن بھی عملی شکل اختیار کرے گا۔
یہ کالم وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وفاقی وزارتِ ریلوے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ بادامی باغ کے اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، حقائق کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائیں اور اس تاریخی علاقے کے عوام کو وہ سہولیات فراہم کریں جن کے وہ برسوں سے منتظر ہیں۔ ایک سرسبز پارک، صاف ماحول اور عوامی فلاح کا منصوبہ نہ صرف بادامی باغ بلکہ پورے لاہور کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔
شہروں کی پہچان صرف بلند عمارتوں، رنگین دیواروں اور خوبصورت شاہراہوں سے نہیں ہوتی بلکہ ان گلیوں سے ہوتی ہے جہاں عام شہری سکون، عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ بادامی باغ کے عوام بھی اسی حق کے منتظر ہیں۔



