پاکستانتازہ ترین

فیک نیوز پھیلانے والوں کا صحافتی تنظیمیں خود احتساب کریں، یوٹیوبر صحافی نہیں بن جاتا: عظمیٰ بخاری

صحافت مقدس اور ذمہ دار پیشہ ہے، کردار کشی اظہارِ رائے نہیں، حکومت صحافیوں کی فلاح اور میڈیا نظام میں اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے، وزیر اطلاعات پنجاب

لاہور (بیورو چیف): پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ صحافت ایک مقدس، ذمہ دار اور باوقار پیشہ ہے، جبکہ جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے والا یوٹیوبر صحافی نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے صحافتی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف خود احتسابی کا مؤثر نظام قائم کریں تاکہ پیشہ ور صحافت کا وقار برقرار رکھا جا سکے۔

وہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں، جس میں ڈی جی پی آر شیخ فرید احمد، سی پی این ای کے صدر کاظم خان، سینئر نائب صدر ایاز خان، سیکرٹری جنرل غلام نبی چانڈیو اور دیگر سینئر صحافی و عہدیداران شریک تھے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ فیک نیوز، بے بنیاد الزامات اور کردار کشی کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کسی کی عزت اچھالنا اظہارِ رائے کی آزادی نہیں بلکہ ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے جس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کو غیر معمولی آزادی حاصل ہے، تاہم اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ ہر شخص موبائل فون اور مائیک اٹھا کر صحافی نہیں بن جاتا، بلکہ صحافت پیشہ ورانہ اصولوں، تحقیق اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کرنے والے عناصر صحافت کے نام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ جھوٹ کو سچ بنا کر مالی فائدہ حاصل کرنے والوں کو ہیرو نہیں بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت صحافتی برادری کی مشاورت سے صحافی کی جامع تعریف، میڈیا ایکریڈیٹیشن، میڈیا لسٹوں اور اخبارات سے متعلقہ نظام کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے تاکہ اسے مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر صحافتی تنظیمیں خود احتسابی کا مؤثر نظام تشکیل دیں اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف خود کارروائی کریں تو حکومت کو سخت قوانین متعارف کرانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے صحافتی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ڈسپلنری کمیٹیاں فعال کریں اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خبریں کئی مراحل سے گزرنے کے بعد شائع یا نشر ہوتی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے معلومات پھیلانا افراد، اداروں اور قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ قومی مفاد ہر چیز سے مقدم ہے اور صحافی رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری عام افراد سے کہیں زیادہ ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ خود بھی ڈیپ فیک ویڈیوز اور جھوٹے پروپیگنڈے کا نشانہ بن چکی ہیں، اس لیے وہ اس مسئلے کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق جھوٹا مواد صرف ایک فرد ہی نہیں بلکہ اس کے خاندان اور معاشرے کو بھی متاثر کرتا ہے، لہٰذا اس رجحان کی روک تھام اجتماعی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے صحافتی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ پیشہ ور صحافت کے تحفظ، جعلی صحافت کے خاتمے اور قومی مفاد کے دفاع کے لیے مشترکہ اور مؤثر لائحہ عمل اختیار کریں تاکہ ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دیا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button