انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

آج کی عورت ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جانتی ہے

بازغہ چشتی

 

صدیوں تک عورت کو خاموش رہنے کا درس دیا جاتا رہا۔ اسے برداشت کرنا سکھایا گیا، اپنے آنسو چھپانا سکھایا گیا، اپنے زخموں پر مسکرا کر جینا سکھایا گیا۔ ہر ظلم کے بعد اسے یہی نصیحت کی گئی کہ صبر کرو، یہی تمہارا نصیب ہے، یہی عورت کا مقدر ہے۔ مگر اب وقت بدل رہا ہے۔ آج کی عورت جان چکی ہے کہ خاموشی کبھی انصاف نہیں دلاتی۔ اسی لیے وہ اپنے وجود، اپنی عزت اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔ یہ آواز کسی بغاوت کی نہیں بلکہ انصاف کی آواز ہے۔ یہ کسی برتری کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ ہے۔

 

آج دنیا بھر میں خواتین کے حقوق، تحفظ اور برابری کی بات کی جا رہی ہے۔ کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں، سیمینار سجتے ہیں، قوانین بنائے جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں، مگر دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم، ہراسانی، گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل اور ذہنی اذیت کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف عورت کو ترقی کی علامت قرار دیا جاتا ہے اور دوسری طرف اسے اپنے ہی گھر، اپنی ہی گلی اور اپنے ہی معاشرے میں خوف کے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔

آج بھی اگر کوئی لڑکی اپنی پسند سے شادی کرنا چاہے تو اسے خاندان کی عزت کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی بیوی شوہر یا سسرال کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے تشدد، تذلیل اور بعض اوقات موت کی سزا دے دی جاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عورت صرف اس دن نہیں مرتی جب اس کا سانس رک جاتا ہے بلکہ وہ اس دن اندر سے ٹوٹ جاتی ہے جب اسے احساس ہو جائے کہ اس کی زندگی ایسے ہاتھوں میں ہے جہاں اس کی عزت، اس کی رائے اور اس کے خوابوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

چند روز قبل سیہون شریف میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر ایک اور سیاہ دھبہ بن کر ابھرا۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان لڑکی نے اپنے بچپن کے منگیتر سے شادی کرنے سے انکار کیا۔ اس نے اپنے والد سے کہا کہ اگر اس کی مرضی کا رشتہ ممکن نہیں تو وہ ساری زندگی گھر میں رہ لے گی، مگر زبردستی شادی نہیں کرے گی۔ مگر اس کی التجا بھی اس کے باپ کے دل کو نہ پگھلا سکی۔ اس پر کاروکاری کا الزام لگا کر اپنی ہی حویلی میں اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ صرف ایک بیٹی کا قتل نہیں تھا بلکہ اس کے خوابوں، اس کی تعلیم، اس کی آزادی اور اس کے جینے کے حق کا قتل تھا۔ ایسے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ آج بھی بعض لوگ عورت کو انسان نہیں بلکہ اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔

عورت کی زندگی پیدائش سے ہی آزمائشوں کا دوسرا نام بن جاتی ہے۔ بچپن میں اسے سکھایا جاتا ہے کہ آہستہ بولو، نظریں جھکا کر چلو، زیادہ مت ہنسو، گھر کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ خاندان کی عزت کا بوجھ صرف بیٹی کے کندھوں پر رکھا جاتا ہے، بیٹے کو کبھی یہ احساس نہیں دلایا جاتا کہ اس کے کردار سے بھی والدین کی عزت وابستہ ہے۔

اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ ہراسانی آج ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ عورت گھر سے نکلتی ہے تو گلی محلوں میں آوازیں کسی جاتی ہیں، بازاروں میں اس کا تعاقب کیا جاتا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ میں اسے ہراساں کیا جاتا ہے، دفاتر میں ترقی اور ملازمت کے نام پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، تعلیمی اداروں میں طالبات کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے انہیں بلیک میل، بدنام اور خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ گویا عورت جہاں بھی جائے، عدم تحفظ اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہراسانی کا شکار ہونے والی عورت اکثر خاموش رہتی ہے کیونکہ اسے مجرم سے زیادہ معاشرے سے خوف آتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ سوال اس کے کردار پر اٹھیں گے، اس کے لباس پر تبصرے ہوں گے، اس کی نقل و حرکت پر اعتراض کیا جائے گا۔ یہی وکٹم بلیمنگ خواتین کو انصاف مانگنے سے روک دیتی ہے۔

آج ملک بھر میں اغوا، قتل اور آبروریزی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ درندگی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ کہیں ڈیڑھ سالہ معصوم بچی ہوس کا نشانہ بن جاتی ہے، کہیں اسکول جانے والی طالبہ، کہیں نوجوان لڑکی اور کہیں ساٹھ سالہ بزرگ خاتون بھی محفوظ نہیں۔ جب ایک ڈیڑھ سالہ بچی بھی جنسی درندگی سے محفوظ نہ رہے تو یہ عورت کے لباس یا عمر کا نہیں بلکہ بیمار ذہنیت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اس لیے قانون کے ساتھ ساتھ سوچ کو بدلنا بھی ناگزیر ہے۔

شاید یہی مسلسل ناانصافیاں ہیں جنہوں نے عورت کو خاموشی توڑنے پر مجبور کیا۔ گزشتہ چند برسوں میں خواتین نے اپنے حقوق کے لیے منظم انداز میں آواز بلند کرنا شروع کی ہے۔ وہ سڑکوں پر نکلیں، ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے جن پر ان کے احساسات، مطالبات اور برسوں کی خاموشی درج تھی۔ کسی نے لکھا، "میرے لباس پر اعتراض ہے تو اپنی نظریں نیچی رکھو۔” کسی نے اپنے جسم پر اپنے اختیار کی بات کی اور کسی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ماں بننا اس کا حق ہے اور یہ فیصلہ بھی اس کی مرضی، اس کی صحت اور اس کے حالات کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔

ان نعروں کو محض چند الفاظ سمجھ کر رد کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے پیچھے ایک ایسی عورت کھڑی ہے جس نے نو ماہ حمل کی تکلیف برداشت کی، ولادت کا درد سہا، بچے کی پرورش کی ذمہ داریاں نبھائیں اور اس کے باوجود ہر مرحلے پر خود کو قصوروار ثابت کرنے کی کوششیں بھی برداشت کیں۔ جب وہ اپنے جسم، اپنی صحت اور اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہے تو اسے سننا چاہیے، نہ کہ اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے۔

بدقسمتی سے جب عورت اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے بے باک، بے شرم، مغربی سوچ کی حامل اور نہ جانے کن کن القابات سے نواز دیا جاتا ہے۔ ظلم سہنا تو اس کے لیے قابل قبول سمجھا جاتا ہے مگر ظلم کے خلاف بولنا جرم بنا دیا جاتا ہے۔

پرانے وقتوں میں بہت سی خواتین خود پر ہونے والے مظالم کو اپنا نصیب سمجھ کر خاموش رہتی تھیں۔ انہیں یہی بتایا جاتا تھا کہ عورت کی جگہ صرف گھر ہے، شوہر اور سسرال کی خدمت ہی اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ وقت بدل گیا، عورت نے تعلیم حاصل کی، ہر شعبے میں اپنی صلاحیتیں منوائیں، مگر معاشرے کی سوچ آج بھی ماضی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ آج کی نوجوان لڑکی ایک طرف تعلیم، ملازمت اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھتی ہے تو دوسری طرف گھریلو دباؤ، سماجی پابندیوں، ہراسانی، کردار کشی اور مسلسل ذہنی تناؤ کے باعث ڈپریشن اور ہارمونل مسائل کا شکار ہو رہی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ والدین صرف بیٹیوں کو احتیاط نہ سکھائیں بلکہ بیٹوں کو احترام سکھائیں۔ اسکولوں میں اخلاقیات کو صرف کتابوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ بچپن ہی سے لڑکوں کو یہ سکھایا جائے کہ عورت کی عزت کرنا، اس کی رضامندی کا احترام کرنا اور اسے برابر کا انسان سمجھنا ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی رہنما اور والدین سب کو مل کر ایسی فضا قائم کرنی ہوگی جہاں متاثرہ عورت کو تنہا نہ چھوڑا جائے بلکہ اس کے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔

ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں صرف قوانین موجود ہوں بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں عورت کو گھر سے نکلتے وقت اپنی عزت، اپنی جان اور اپنے مستقبل کی فکر نہ ہو۔ کسی بھی قوم کی اصل ترقی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہاں عورت کتنی محفوظ، باوقار اور بااختیار ہے۔ جب تک عورت کو صرف ایک صنف نہیں بلکہ ایک مکمل انسان سمجھنے کی سوچ پروان نہیں چڑھے گی، ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین بھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اپنی خاموشی توڑیں اور اپنے حقوق، تحفظ اور عزت کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ جو خواتین شعور رکھتی ہیں، انہیں ان عورتوں کی آواز بھی بننا ہوگا جو خوف، معاشرتی دباؤ یا بدنامی کے ڈر سے آج بھی خاموش ہیں۔ خاموشی ہمیشہ ظالم کو طاقت دیتی ہے، جبکہ اتحاد مظلوم کو طاقتور بناتا ہے۔

عورت صدیوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، اب اسے یہ جنگ تنہا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بن کر لڑنی ہوگی۔ جب معاشرے کی ہر عورت یہ فیصلہ کر لے گی کہ وہ ظلم کو اپنا مقدر نہیں مانے گی، تبھی اسے وہ مقام، وہ احترام اور وہ حقوق مل سکیں گے جن کا وعدہ مذہب، آئین اور قانون سب کرتے ہیں۔ تب ہی ہم ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں گے جہاں کسی ماں کو اپنی بیٹی کی سلامتی کے لیے ہر لمحہ خوف زدہ نہ رہنا پڑے، کسی بچی کو درندوں سے بچانے کی فکر نہ ہو اور کسی عورت کو صرف عورت ہونے کی سزا نہ دی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button