
اونٹاریو آبادی کے لحاظ سے کینیڈا کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ٹورنٹو مسس ساگا سب سے بڑا شہر ہے اور اس شہر میں سب سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں جو کاروبار اور ملازمتوں سے وابستہ ہیں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ٹورنٹو کے سفارتخانے میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اس لیے پاکستان کے سفارتخانے کی عمارت تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
کسی بھی ملک کا سفارتخانہ اس کے شہریوں کے معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے اور شہریوں کا والی وارث ہوتا ہے شہریوں کی سہولت کے لیے نئی عمارت کو ضرورتوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے ٹورنٹو کے قونصلیٹ جنرل خلیل باجوہ نے ہمیں نئی عمارت کے افتتاح پر مدعو کیا ہم اشرف لودھی کے ہمراہ سفارتخانے پہنچے تو سفارتخانے کے عملہ نے کھلے دل سے استقبال کیا ۔
افتتاح کے لیے پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم خصوصی طور پر اوٹوو سے تشریف لائے تھے ان کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے ہمارے ایک مشترکہ دوست میجر رضوان اللہ بیگ مرحوم کے حوالے سے ان کی یادیں شئیر کیں قونصلیٹ جنرل خلیل باجوہ صاحب نے مختلف شعبوں کا وزٹ کروایا اور بریفنگ دی معلوم ہوا کہ پاسپورٹ شناختی کارڈ ب فارم خاندانی رجسٹریشن اور دستاویزات کا تصدیقی عمل اب بغیر کسی انتظار کے فوری ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
خلیل باجوہ صاحب کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے ایمرجنسی میں رات سفارتخانہ کھلوا کر بھی لوگوں کو ویزے دیے ہیں ہمیں سفارتخانے کی نئی بلڈنگ کا افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل ہوا پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم صاحب نے کہا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں آئیں مل کر افتتاح کرتے ہیں ہم تینوں نے مشترکہ طور پر فیتہ اور کیک کاٹا اس موقع پر مہمانوں کے لیے ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا تھا بعدازاں پاکستانی نژاد کینڈین رکن پارلیمنٹ اقرا خالد نے اپنے گھر میں ہائی کمشنر،قونصلیٹ جنرل اراکین پارلیمنٹ سمیر زبیری،سلیم رانا مقامی سیاستدانوں،ٹریڈرز،سنیر صحافیوں اور اہم شخصیات کو مدعو کیا ہوا تھا ہمیں بھی دعوت تھی۔
اس موقع پر ہائی کمشنر محمد سلیم نے خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا کی ایک ائیر لائنز نے ہمیں درخواست دی ہے وہ ٹورنٹو سے پاکستان کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنا چاہتی ہے جس سے پاکستانیوں کو بڑا فائدہ ہوگا انھوں نے دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت بارے میں بتایا حال ہی میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند پاکستان کا کامیاب دورہ کرکے لوٹیں ہیں پاکستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اعلی سطحی وفد کے ہمراہ جلد کینیڈا کا دورہ کر رہے ہیں ۔
قارئین کینیڈا میں ٹریڈ کا بڑا سکوپ ہے لیکن ہم عالمی منڈی کے تقاضوں سے بہت دور ہیں میں نے جابجا سٹوروں پر پاکستانی آم دیکھے ہیں جو ٹکٹوں کی طرح فروخت ہو رہے ہیں لوگ انتظار میں ہوتے ہیں کب آم آئیں اور وہ خریدیں لیکن ہم پراپر طریقے سے آم ایکسپورٹ نہیں کر پا رہے لوگ انفرادی طور پر ٹرانزٹ فلائیٹس کے ذریعے آم منگواتے ہیں جو تاخیر سے پہنچتے ہیں ہمیں مینج کر کے مینگو کے سیزن میں کارگو جہاز چلانے چاہیں۔
اس کے لیے ٹریڈرز اور حکومت کا لائزن بہت ضروری ہے چلیں مینگو تو کسی نہ کسی طرح کینیڈا میں پہنچ رہا ہے لیکن اس سے متعلقہ پراڈکٹ مجھے کہیں نظر نہیں آئیں نہ میڈ ان پاکستان مینگو جوس نہ مینگو پلپ اور دوسری مصنوعات نظر نہیں آئی ہیں جبکہ انڈیا سمیت کئی ملکوں کی مینگو پراڈکٹ سٹوروں پر موجود ہے اسی طرح اورنج اور کھجور ہم ضائع کر رہے ہیں اگر پراسسنگ یونٹ لگاکر پھل اور اس سے متعلقہ پراڈکٹ بجھوائی جائیں تو کافی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے ۔
اسی طرح پاکستان کا چاول پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے لوگ اس کی خوشبو کے دیوانے ہیں لیکن ہم اس کی مارکیٹنگ نہیں کر پا رہے بھارت ایجنٹوں کے ذریعے پاکستانی چاول خرید کر دوبئی میں ڈمپ کرکے میڈ ان انڈیا کے نام سے فروخت کر رہا ہے کینیڈا میں کھجور ایران،اسرائیل عرب ممالک اور امریکہ سے آتی ہے جبکہ پاکستان میں کھجور ضائع ہو رہی ہے اگر ہم پراسسنگ کرکے کوالٹی کی کھجور اور اس کی پراڈکٹس بجھوائیں تو کینیڈا میں جگہ بنائی جا سکتی ہے۔
اس وقت کینیڈا امریکہ کی دسترس سے نکل رہا ہے اسے قابل اعتماد دوستوں کی ضرورت ہے پاکستان اچھی سفارت کاری کے ذریعے کینیڈا سے تعلقات کو وسعت دے سکتا ہے دونوں ملکوں کے باہمی مفادات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔



