لاہور (زبیر اسلم خان): جماعت اسلامی پاکستان نے پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف آج (جمعہ) ملک بھر میں 510 مقامات پر احتجاجی دھرنوں اور مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ احتجاج پرامن ہوگا، تاہم ملک کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک روکی جائے گی جبکہ ایمبولینسوں اور ایمرجنسی گاڑیوں کو گزرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔
لاہور میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام وحدت روڈ پر مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی فوری ختم کی جائے اور پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لٹر مقرر کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عام شہری، خصوصاً خواتین، شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے، لیکن اپنے اخراجات میں کمی نہیں کی۔
امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متناسب کمی نہیں کی، جبکہ پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی رقم بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ نہیں کی گئی۔
جماعت اسلامی کے مطابق آج جمعہ شام 4 بجے لاہور کے قرطبہ چوک، کراچی میں شارع فیصل، اسلام آباد میں فیض آباد (26 نمبر چونگی)، پشاور میں موٹروے ٹول پلازہ، ملتان میں چونگی نمبر 6 بسن روڈ، کوئٹہ میں میزان چوک، راولپنڈی میں بارات باغ مری روڈ، سوات میں چکدرہ انٹرچینج اور کرک میں انڈس ہائی وے سمیت ملک بھر کے 510 مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر احتجاج میں رکاوٹ ڈالی گئی تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔
بعد ازاں ویڈیو پیغام میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمعہ کی نماز کے بعد شام 4 بجے احتجاج میں شریک ہوں، سڑکوں پر نکلیں اور بطور احتجاج اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور اشیائے خورونوش پر اضافی ٹیکس عائد کر رکھے ہیں، جس کا براہ راست بوجھ عام شہری اٹھا رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران 27 اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1900 ارب روپے وصول کیے، جبکہ غریب اور متوسط طبقہ مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے مسلسل مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح عوام نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مؤثر آواز بلند کی، اسی طرح اب مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف بھی منظم احتجاج کی ضرورت ہے، بصورت دیگر عوام پر مزید ٹیکس اور لیوی عائد کیے جا سکتے ہیں۔



