بسنت،امن کا جشن اور خوف کی شکست
پنجاب حکومت نے جب بسنت منانے کا اعلان کیا تو لاہور میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ شہر کے لوگوں نے اس فیصلے کو بھرپور خوش آمدید کہا اور اسے کسی قومی جشن کی طرح منانے کا فیصلہ کیا۔ پتنگوں، موسیقی اور میلوں کی باتیں ہونے لگیں، جیسے لاہور نے ایک طویل خاموشی کے بعد دوبارہ زندگی کی طرف واپسی کا اعلان کر دیا ہو۔
اسی دوران میں اپنے چند دوستوں سے ملنے گیا۔ کئی بار پوچھنے کے باوجود انہوں نے ملاقات کا ایجنڈا نہیں بتایا، بس یہی کہتے رہے کہ “آؤ، پھر بتائیں گے۔” میں اپنا کام نمٹا کر عاصم، توصیف اور سجاد حسن سے ملنے چلا گیا۔ یہ سب سماجی اور فکری حلقوں میں خاصی شناخت رکھتے ہیں اور بڑے ایونٹس کے انتظام کا تجربہ رکھتے ہیں۔

جب میں پہنچا تو عاصم نے جوش سے بتایا کہ بسنت ایونٹ کے لیے تیاری کرنی ہے، دور دراز شہروں سے مہمان بلانے ہیں، کھانے پینے اور ساؤنڈ سسٹم کا بندوبست کرنا ہے، اور یہ دن بھرپور انجوائےمنٹ والا ہوگا۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ فکر نہ کرو، سب “امریکن سسٹم” سے پیسے ڈالیں گے، کسی ایک پر بوجھ نہیں پڑے گا۔
میں نے ان کی باتیں سنیں اور خاموش ہو گیا۔ پھر ایک گہری سانس لے کر کہا کہ یہی امریکن سسٹم آخر کار ہمارے کندھوں پر ہی بوجھ بن جاتا ہے۔ عاصم نے حیرت سے پوچھا کہ کیا مجھے ان کا آئیڈیا پسند نہیں آیا۔

میں نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے ہمارا ملک اس وقت کن حالات سے گزر رہا ہے۔ بلوچستان کی عوام اور ہماری فوج قربانیاں دے رہی ہیں۔ بھارت دہشت گردی سے باز نہیں آ رہا، اور سامنے سے جنگ کی ناکام کوشش کے بعد اب اس نے پراکسی اور دہشت گردی کی جنگ شروع کر دی ہے۔ آج بلوچستان میں ہمارے سپاہی شہید ہو رہے ہیں تاکہ ہم سکون سے سانس لے سکیں اور ہمارے بچے مسکرا سکیں۔ میں بسنت کا شوقین ہوں، مگر ان جلتے ہوئے حالات میں جشن منانا مجھے عجیب سا لگتا ہے۔
سجاد حسن، جو ایک معروف بزنس مین اور اکنامک اینالسٹ ہیں، خاموشی سے ہماری بحث سن رہے تھے۔ انہوں نے گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ یہی تو بسنت منانے کی اصل وجہ ہے۔ دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہمارا ملک مضبوط ہاتھوں میں ہے، یہاں امن ہے، تاکہ سرمایہ کاری اور سیاحت—جو ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں—چلتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کے غم میں شریک ہیں، مگر امن کے ساتھ جشن منانا اس بات کی علامت ہے کہ ریاست کی حکمتِ عملی کامیاب ہے اور ملک عدم استحکام کے باوجود کھڑا ہے۔

پاکستان کی اس جنگ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بم دھماکوں میں معصوم شہری، بچے اور عام لوگ نشانہ بن رہے ہیں۔ معصوم جانیں جا رہی ہیں، خاندان اجڑ رہے ہیں، مگر ریاست خاموش تماشائی نہیں۔ دوسری طرف سیکیورٹی فورسز نے مربوط اور مؤثر آپریشنز میں تقریباً 108 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑنے کی بھرپور کوشش جاری ہے۔ یہ آپریشن محض عددی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن گرفت مضبوط کر لی ہے۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے جا رہے ہیں، ان کے نیٹ ورکس توڑے جا رہے ہیں، اور انہیں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پاکستان اب نرم ہدف نہیں رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ قوم خوف زدہ ہو، زندگی رک جائے، معیشت ٹھپ ہو جائے اور لوگ ریاست پر شک کرنے لگیں۔ ایسے میں تہوار، میلے، ثقافتی سرگرمیاں اور زندگی کی رونقیں بھی ایک نفسیاتی جواب ہوتی ہیں۔ دنیا کے بڑے ممالک دہشت گرد حملوں کے بعد بھی زندگی معمول پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ ریاست کمزور نہیں ہوئی۔
بلوچستان پاکستان کی جغرافیائی، معاشی اور اسٹریٹجک ریڑھ کی ہڈی ہے۔ وہاں ہونے والی دہشت گردی صرف داخلی مسئلہ نہیں بلکہ خطے کی بڑی طاقتوں اور عالمی سیاست کا حصہ ہے۔ بھارت ہو یا عالمی اسلحہ انڈسٹری، سب چاہتے ہیں کہ یہ خطہ غیر مستحکم رہے تاکہ خوف کی منڈی گرم رہے، ہتھیار بکتے رہیں اور خطے میں تقسیم برقرار رہے۔
بسنت کا اعلان محض ایک ثقافتی خبر نہیں بلکہ ایک ریاستی پیغام بھی ہے کہ پاکستان میں زندگی جاری ہے، یہاں امن ہے، سرمایہ کاری محفوظ ہے اور سیاحت ممکن ہے۔ یہ دشمن کے خلاف نرم مگر مؤثر نفسیاتی جواب ہے۔
ہم بلوچستان کے شہداء کے غم میں شریک ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دشمن ہماری خوشی سے زیادہ ہماری خاموشی سے خوش ہوتا ہے۔ لاہور کی بسنت، بچوں کی ہنسی اور آسمان پر اڑتی پتنگیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان زندہ ہے، مضبوط ہے اور زندگی سے محبت کرتا ہے۔ جنگ کے دنوں میں خوشی منانا بے حسی نہیں بلکہ ایک خاموش اعلانِ حوصلہ اور نفسیاتی فتح ہے۔
بلوچستان ہمارے دل میں ہے اور لاہور کی بسنت ہمارے حوصلے میں—یہی زندہ قوم کی پہچان ہے۔



