پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

مین ہول میں گرنے والی ماں، بیٹی کی لاشیں برآمد،4افسر برطرف، 3 گرفتار :المناک واقعہ جرم،میراسر شرم سے جھکا دیا،مریم نواز

خاتون 3کلومیٹردور بہہ گئی، انتظامیہ متاثرہ خاندان کو چورڈاکو بناکر تھانے لے گئی،وزیراعلیٰ برہم،کنٹریکٹرسے1 کروڑ دلوانے کی ہدایت

لاہور(سلمان حسین)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ بھاٹی گیٹ کے واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں،ہر سطح پر مجرمانہ فعل ہوا ہے۔لاہور کے بھاٹی چوک میںکھلے مین ہول میں خاتون اوربچی کے گرکر جاں بحق ہونے پر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب کے متعلقہ اداروں پر برہم ہوگئیں اورکمشنر لاہور، اسسٹنٹ کمشنر، واسا، ایل ڈی اے ، ڈپٹی کمشنر لاہور، ٹریفک پولیس اور پولیس کو برابر کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
مریم نوازکا کہنا تھا کہ ہر سطح پر مجرمانہ فعل ہوا ہے، دس دس ڈیپارٹمنٹ بیٹھے ہوئے ہیں جواب ایک کے پاس بھی نہیں،آدھا درجن انچارج ہیں لیکن جب واقعہ ہوا تو کوئی پہنچا ہی نہیں۔کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے اور اسسٹنٹ کمشنر کو سزا ملنی چاہیے۔ مریم نواز نے کہا کہ لاہورکے دل میں ایک بے گناہ جان کا ضیاع محض حادثہ نہیں بلکہ جرم ہے، اور اس نے میرا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ ایسے افسران جو ایک کھلا مین ہول بھی محفوظ نہیں کر سکتے، انہیں عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ انصاف کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھیں گی، دو بیٹیوں کے خون کا حساب لیا جائے گا اور ہر ذمہ دار افسرکو سزا دی جائیگی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں اب غفلت اور بددیانتی کرنے والے افسران کا وقت ختم ہو چکا ہے۔متاثرہ خاندان کو انصاف دینے کے بجائے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔
مریم نواز نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کے لیے ڈھال بنے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہر انسانی جان کی قدر کی جائے گی، چاہے اس میں کتنا ہی طاقتور افسر کیوں نہ ملوث ہو۔انہوں نے کہاکہ جس جگہ خاتون گریں وہاں لائٹ نہیں تھی ، پینا فلیکس لگا کر سائٹ بند کی گئی لیکن روشنی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ، تعمیراتی جگہ پر کسی قسم کی پارکنگ نہیں ہونی چاہیے تھی، وہاں کوئی پارکنگ بنا کر پیسے لیتا رہا ،کسی کو بھی معلوم نہیں؟ ٹریفک پولیس کہاں ہے؟ محکمہ پولیس کہاں ہے؟ انہیں کیوں نہیں معلوم یہاں کوئی پارکنگ بناکر پیسے لے رہا ہے؟ مریم نواز نے ٹیپا کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ، سیفٹی انچارج اور واسا کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے اور نوکری سے برخاست کرنے کا حکم بھی دیا اور ہدایت دی کہ یقینی بنائیںکہ آئندہ انہیں دوبارہ نوکری نہ ملے۔انہوں نے کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے لے کر متاثرہ خاندان کو دینے کی ہدایت بھی کی اور کہا یہ کوئی راجن پور، لیہ اور بھکر کی بات نہیں ہو رہی، یہ لاہور سیف سٹی میں ہوا ہے، اتنا بڑا حادثہ ہماری ناک کے نیچے ہوا ، بات کو گھمانے کی کوشش کی اس طرح کہ ہمیں بھی یقین آگیا، پھر بجائے اس کے کہ خاندان کو مدد دیتے انہیں چور ڈاکو بنا کر تھانے میں لے گئے، متاثرہ خاتون کا شوہر شکایت لے کر گیا تو اسے ہی گرفتار کرلیا گیا کہ بیوی کے ساتھ اس کے تعلقات خراب تھے، اس بات کا واقعے سے کیا تعلق ہے؟
مریم نواز نے کہا کہ ایک ایک جگہ کے دس دس ادارے ہیں لیکن ذمہ دار کوئی بھی نہیں، یہ پنجاب ہے یہاں ایک ایک جان قیمتی ہے ، یہاں پر میں بھی جواب دہ ہوں آپ بھی جواب دہ ہیں، ٹوئسٹ کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے واقعہ نہیں ہوا، جہاں حادثہ ہوا وہاں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں، جہاں اتنے لوگ آتے ہوں وہاں تعمیراتی کام کے دوران مجرمانہ غفلت کی گئی، اگر مرنے والی بچی اگر کسی انتظامی افسر کی ہوتی تو کیا پوری انتظامی مشینری ہل کر نہیں رہ جاتی؟ خاتون نالے میں تین کلومیٹر دور چلی گئی، لاہور کی انتظامیہ کہتی رہی کہ کوءی گرا ہی نہیں، جنہوں نے اس جگہ کو کھلا چھوڑا کیا ان کے گھر میں بچے نہیں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کا اس سے کوئی تعلق نہیں جو انفارمیشن ہمیں مل رہی تھی وہی عظمیٰ بخاری کو بھی مل رہی تھی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں سڑکیں بن رہی ہیں اور 500 ارب کا ترقیاتی کام ہورہا ہے، اگر 1 ہزار ارب کا کام بھی ہو تب بھی انسانی جانوں کے ضیاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اس قسم کا واقعہ ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ منیجر اصغر سندھو، عثمان یاسین، سیفٹی انچارج دانیال اور احمد نواز کو گرفتار کریں اور ان پر غفلت کا مضبوط کیس بنائیں کیونکہ انہیں چھوڑنا نہیں ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے متوفیہ کے شوہر کو گاڑی دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے متاثرہ اہل خانہ کو ادا کروائیں۔مریم نواز نے کہا کہ ہمارے معذرت کرنے سے وہ لڑکی اور بیٹی واپس نہیں آسکتی، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور واسا کے متعلقہ عہدیدار کو نوکری سے برخاست کیا جائے۔ ادھر وزیراعلیٰ نے چوک سرور شہید کے قریب ٹریفک حادثے میں 5 بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے۔

لاہورکے علاقہ بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربارکے نزدیک مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور بچی کی لاش مل گئی،متاثرہ خاندان کا تعلق شورکوٹ سے تھا۔ تفصیل کے مطابق نالے میں گرنے والی 24سالہ خاتون کی لاش تقریبا 3کلو میٹر دور آٹ فال روڈ سے ملی جبکہ سیوریج لائن میں گرنے والی اس کی 10 ماہ کی بچی ردا کی لاش 18گھنٹے کے بعد سگیاں کے قریب سے برآمد ہوئی ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے خاتون کے شوہرکی ایک ایک بات سچ ثابت ہوئی، یہ لوگ داتا دربار سے سلام کرکے نکلے تھے کہ حادثہ پیش آگیا سیف سٹی نے تمام چیزیں نکال لی ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیاگیا، غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کردیا گیا۔
ریسکیو ذرائع نے بتایاکہ گھر سے باہر سیرکرنے نکلی متاثرہ فیملی مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی،اس دوران خاتون اور بچی کھلے نالے کی منڈیر پر بیٹھیں جہاں سے دونوں نیچے گرگئیں، جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے وہ داتا دربارکے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122کی سپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹ میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے۔ دریں اثنا واقعہ کی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی گئی۔ واقعہ پر ٹیپا انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ غلط دی اور غلط بریف کیا گیا، بعض ویڈیوز اور شوہرکا بیان سننے کے بعد دوبارہ آپریشن شروع کیا گیا۔
وزیراعلی کو بریفنگ دی گئی کہ ٹیپا کے افسران کی غفلت کے باعث یہ واقعہ رونما ہوا۔ذرائع کے مطابق داتا دربار کے باہر لگے کیمروں نے مدد کی، سیف سٹی کے کیمروں سے موقع کی کلیئر ویڈیو نہ مل سکی، اوپن اور غیر محفوظ مین ہول حادثے کا سبب بنا، مانیٹرنگ میں ذمہ داروں نے انتہائی غفلت برتی۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے پورے عملے کو فوری طورپر معطل کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ غفلت کسی صورت برداشت نہیں کروں گی، انتہائی دلخراش واقعہ ہے، جس پر مجھے شدید دکھ ہے۔ دوسری طرف ٹیپا کی جانب سے واقعے پر مقدمہ درج کرانے کے لیے تھانہ بھاٹی دروازہ پولیس کو باضابطہ درخواست دے دی گئی، منصوبے کے ٹھیکیدار پر حفاظتی انتظامات نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ٹیپا کے مطابق سائٹ ٹھیکیدار کے حوالے کرنے کے بعد مکمل ذمہ داری کنٹریکٹر پر عائد تھی، اوپن اور غیر محفوظ مین ہول حادثے کا سبب بنا، درخواست میں ٹھیکیدار کے پراجیکٹ منیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کو نامزد کیا گیا۔
علاوہ ازیں ڈی جی ایل ڈی اے نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم معطل کر دی، معطل کئے جانے والے افسران میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔کنٹریکٹر پر فوری مقدمہ درج کرانے کی ہدایت کی گئی، پراجیکٹ پر کام کرنے والی نجی کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، ڈی جی ایل ڈی اے کی ہدایت پر ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ڈی جی ایل ڈی اے نے نیسپاک کے ریزیڈنٹ انجینئر کی معطلی اور محکمانہ کارروائی و انکوائری کی سفارش کی،منصوبے میں نیسپاک ٹیم کے کردار کو بھی انکوائری کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔دوسری طرف بھاٹی گیٹ کے علاقہ میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے واقعہ سے متعلق پولیس نے متوفیہ کے والد ساجد حسین کے بیان پر تین نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ مقدمہ درج 322کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ، مقدمہ میں پراجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو نامزدکیاگیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button