رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قرآن و حدیث کے درس کی محفلیں سجتی ہیں۔ مسلمانوں کے شب و روز اور معمولات بدل جاتے ہیں، لیکن اس مقدس ماہ کے رخصت ہوتے ہی صورت حال پھر پلٹ جاتی ہے اور زیادہ تر مسلمان پھر پہلے والا رنگ ڈھنگ اپنا لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایک ماہ تک صبح سے رات تک جاری رہنے والے معمولات ہم پر پوری طرح اثر اندازکیوں نہیں ہوتے؟ روح اور جسم کی کثافیتں دھو ڈالنے والے ماہ مبارک کی تربیت سال بھر کتنی موثر رہتی ہے؟ماہ صیام میں ہم کیا پڑھتے اور کیا کرتے ہیں؟اپنی خواہشات کا گلا کس حد تک گھونٹنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں اور کس حد تک عادات تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟۔
رمضان المبارک کی تربیت کے اثرات اس لیے دیرپا نظر نہیں آتے کہ لوگوں کی نیت درست نہیں ہوتی۔ پرانے زمانے کے لوگ کہتے تھے کہ رمضان کے نمازی اور برسات کے مینڈک گِنے نہیں جاتے۔ ابتدائی دس روزوں تک نماز کے اوقات میں مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس تعداد میں آگے چل کر کمی واقع ہو جاتی ہے اور رمضان المبارک ختم ہوتے ہی ان میں سے بیش تر افراد مساجد کا رخ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہماری نیت میں اخلاص نہیں ہوتا۔ اگر اخلاص ہو تو ہم یہ ضرور سوچیں کہ کیا نماز مسلمانوں پر صرف رمضان المبارک کے مہینے میں فرض ہوتی ہے اور کیا دیگر احکام صرف اسی ماہ کے لیے مخصوص ہیں۔ انسان کے اعمال پر نیت اور تربیت کا بہت اثرہوتا ہے۔ ایک وہ شخص ہوتا ہے، جو جانتے بوجھتے اچھائی کی راہ پر نہیں چلنا چاہتا اور ایک وہ شخص ہوتاہے، جو ایسا کرناچاہتاہے، لیکن اسے اچھائی کی راہ پر چلنے کی تربیت نہیں ملی ہوتی، لہٰذا اس کا ذہن برائی کی طرف لگا رہتا ہے۔
مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان کی تربیت ریفریشر کورس کی مانند ہوتی ہے، لیکن اچھے کام کرنے کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہم اس ماہِ مقدس کو بھی معمول کے مطابق گزارتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ آخر اس ماہ میں روزے ہم پر کیوں فرض کیے گئے ہیں اور اس ماہ میں نیکی اورعبادات کرنے کا اتنا اجر کیوں رکھا گیا ہے۔ تربیت کے ضمن میں احساس ذمے داری کا بھی مسئلہ ہے۔ موجودہ ماحول میں والدین اور علمائے کرام، دونوں تربیت کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کر رہے۔ پورے مہینے تک روزے رکھنے اور پنج وقتہ نماز ادا کرنے کے باوجود لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ انہوں نے اس ماہ میں کتنی اچھائیاں اپنائی ہیں، کتنی برائیوں سے دامن چھڑایا ہے اور تقویٰ کی کتنی منزلیں طے کی ہیں۔
لہٰذا ماہِ مقدس ختم ہوتے ہی وہ پرانی ڈگر پر چل پڑتے ہیں۔ مسلمانوں نے اسلام کی معاشرتی اقدار کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہم سے منہ موڑ لیا۔ رمضان المبارک پورے احتساب کے ساتھ گزارا جائے تو اسلامی معاشرے دنیا بھر کے لیے مثال بن سکتے ہیں۔
رمضان المبارک کے حوالے سے لوگوں کا جتنا ارادہ ہوتاہے،وہ اتنا عمل کر لیتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا رواج بن گیا ہے کہ رمضان المبارک میں نماز اور قرآن پڑھیں گے اور سال کے باقی دنوں میں ان سے منہ موڑے رہیں گے۔
دراصل لوگوں کی نیت مستقل اصلاح کی نہیں ہوتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عید الفطر کا چاند نظر آنے کی اطلاع ملنے کے بعد بہت سے افرادعشاءکی نماز پڑھنا بھول جاتے ہیں یا مسجد کا رخ نہیں کرتے۔ تاہم ہر سال رمضان المبارک میں بعض افراد کی ماہیتِ قلب ہو جاتی ہے۔ ہمارا معاشرہ استحصالی معاشرے کا روپ دھار چکا ہے، جس میں ہر شخص دوسرے کا استحصال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ایسے میں لوگ سوچتے ہیں کہ اگر انہوںنے صرف حق اور سچ بات کہی اور زندگی کے معاملات میں راست باز رہے، تو یہ معاشرہ انہیں نگل جائے گا یا ان کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں اگر انہوں نے صرف حق حلال کی کمانے کی سوچی، تو انہیں دو وقت کی روٹی بھی نہیں مل پائے گی۔
اگرچہ فکر کا یہ انداز درست نہیں ہے، لیکن مادیت کا ہمارے قلب و ذہن پر ایسا غلبہ ہے کہ ہمیں کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔ ہم یہ سوچتے ہی نہیں کہ صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کے لیے مشکلات تو ہوتی ہیں، مگر بہت سی غیبی مدد، برکتیں، سہولتیں اور اطمینانِ قلب کی دولت بھی ہمارے حصے میں آتی ہے، مگر اس کے لیے استقامت کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے، آج عام مسلمان مشکلات میں پڑنے اور حق کے لیے استقامت کا مظاہرہ کرنے سے کتراتے ہیں،ان حالات میں رمضان المبارک کی تربیت بعض اوقات یکم شوال ہی کو دم توڑ دیتی ہے۔اس ماہ کو بھی عام موسمی یا مذہبی تہوار کے طورپر لیا جاتا ہے، حالاں کہ روزے کی روح تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔ یہ تربیت اور کردار سازی کا مہینہ ہے، جس میں پورے سال کی روحانی اور جسمانی کثافتیں دھوئی جا سکتی ہیں۔
اس ماہ کے روزے فرض کرنے کا مقصد جسم کے ساتھ روح کی تطہیر کرناہے۔ روزہ مسلمانوں کو روحانی غذا فراہم کرتا ہے، ذہنی اور فکری تربیت کرتا ہے اور انسان اور حیوان کا فرق سمجھاتا ہے۔ نفس کے بے لگام گھوڑے کو لگام دینا ہی روزے کا مقصود ہے۔ نفس اور پیٹ کی طلب سے رک جانا ہی تزکیہ نفس ہے اور تزکیہ نفس ہی روزے کی روح ہے۔روزہ ہمیں ضبط نفس، صبر اور نظم و ضبط کی تعلیم دیتا ہے ، مگر ہم سے بہت سے افراد افطار سے کچھ دیر قبل اور افطار کے فوراً بعد اس آزمائش میں ناکام ہو جاتے ہیںافطار سے کچھ دیر قبل ہمارے معاشرے میں مختلف نوعیت کے جھگڑے ہونا عام بات ہے۔ اسی طرح مغرب کی اذان کا پہلا لفظ کان میں پڑتے ہی ہم سب کچھ بھول کر کھانے کی چیزوںپر اس طرح ٹوٹتے ہیں کہ ضبط نفس کا پورا فلسفہ یک دم زمیں بوس ہو جاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ تربیت کی پہلی منزل،یعنی گھر، اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کر رہا۔ والدین اور اساتذہ خود باعمل نہیں رہے۔
مادیت، روحانیت پر غالب آگئی ہے سچی اور حقیقی راہ نمائی دستیاب نہیں ہے ،کردار میں کشش باقی نہیں رہی۔ روزہ اسی کش مکش میں فتح یابی کا نام ہے۔اس ماہِ مقدس میں ایسے افراد بھی مساجد کا رخ کرتے ہیں ، جو باقی دنوں میں کوئی نماز نہیں پڑھتے۔ ان تمام افراد کی اس ماہ میں ذہن سازی کی جاسکتی ہے۔ اگر عوام، علماءاور مشائخ یہ سوچ کر کام کریں کہ انہیں اس مہینے کے توسط سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر انقلاب لانا ہے تو ہم معاشرے میں بہت دوررس اور ٹھوس تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہم دین کے معاملے میں بھی شارٹ کٹ کا استعمال کرنے لگے ہیں۔
رمضان کی تربیت ہم پر پکا رنگ اس لیے نہیں چڑھتا کیونکہ اس مہینے کو سال بھر کی کمائی کا مہینہ کہتے ہیں۔ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لیے وہ دو تین ماہ قبل تیاریاں شروع کردیتے ہیں، قرضے لیتے ہیں، مال کا آرڈر دیتے ہیں، نت نئی ورائٹیز تلاش کرتے ہیں اورنئے سیلز مین رکھتے ہیں۔ بہت کم دکان دار ایسے ہیں جو اس مہینے میں بھرپورکمائی کے لیے جان توڑ محنت نہ کرتے ہوں۔وہ عموماً روزے نہیں رکھتے۔ اس مبارک مہینے میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران دھوکا دہی، جھوٹ اور فریب عروج پر ہوتا ہے۔ من مانی قیمتیں وصول کرنے کے لیے بہت سی اشیاءکی مصنوعی قِلّت پیدا کی جاتی ہے اور مال کا معیار گرا کر پہلے والے نرخ پر فروخت کیاجاتا ہے۔ اس مہینے میں کاروباری حضرات کے معمولات دین کے لیے کم اور دنیا کے لیے زیادہ تبدیل ہوتے ہیں۔



