
اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وفاقی آئینی عدالت میں علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کی درخواست دائر کر دی گئی جو کہ شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ آئینی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جائے، علی امین گنڈاپور کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر قانونی اور آئین سے متصادم ہے، علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ ایک سزا یافتہ نااہل فرد واحد کی ڈکٹیشن پر لیا گیا۔
درخواست میں شیر افضل مروت نے کہا کہ سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بحال کیا جائے، علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ دبائو کے تحت لیا گیا، علی امین گنڈا پور کے استعفے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، غیر آئینی اقدامات کے نتیجے میں ہونے والے تمام سرکاری فیصلے منسوخ کئے جائیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی بحالی کی درخواست کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بنانے کی اجازت صرف بانی چیئرمین عمران خان دیتے ہیں اور سہیل آفریدی ان کی مرضی سے بنے ہیں، یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔
بیرسٹر گوہر نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ آج پارلیمانی پارٹی کا اجلاس 8گھنٹے جاری رہا، سب نے ملک کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا، سب سی اہم بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے ان کو سہولیات میسر نہیں ہیں، اس پر جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بانی چیئرمین کے ساتھ جو رویہ برقرار رکھا گیا ہے وہ غیر آئینی بھی ہے اور غیر انسانی بھی، ان کو کسی سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے، بانی چیئرمین اور پاکستان کے عوام ایک جان ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے اور ان کے مقدمات فی الفور لگائے جائیں اور اس پر فیصلہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں جو فیصلے کیے جائیں ہمیں منظور ہے، پارلیمانی پارٹی نے مشترکہ کہا ہے کہ ہمیں مائنس بانی منظور نہیں، کسی ایسی کوشش کی بھرپور مذمت کی جائے گی جس میں مائنس عمران ہو گا۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ کل ہمارا احتجاج ہو گا اور اس میں پاکستان کے عوام بھرپور شرکت کرے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میرے نوٹس میں لایا گیا کہ شیر افضل مروت نے آئینی عدالت میں درخواست دائر کی ہے، یہ سازش کی جا رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ کون ہوگا ہے اس کی اجازت صرف بانی چیئرمین دیتے ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی کی مرضی سے بنے ہیں اور یہ فیصلہ ریورس نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور نے بھی وضاحت دے دی ہے، جس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔



