پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

پاکستان میں بارش ،سیلاب،لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی،13افراد لقمہ اجل

لاہور میں حادثات، شہری جاں بحق، 7 زخمی،لیہ میں 2 سرکاری سکول دریا برد، خیبر میں کچے مکان منہدم، وادی نیلم میں بال پھٹنے سے طغیانی،مزید بارشوں کی پیش گوئی

پشاور،لاہور:(ویب ڈیسک )ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی موسلا دھاربارش ،سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچادی، جس کے باعث مختلف حادثات میں 2بچوں سمیت 13افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

ضلع خیبر میں ہونے والی موسلا دھار بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے جہاں مختلف واقعات میں 6افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوگئے،شدید بارش کے باعث لنڈی کوتل اور گردونواح میں متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں اور کچے مکانات اور 10سے زائد گھروں کی چاردیواریاں بھی منہدم ہوگئیں۔

فائل فوٹو

خیبر میں مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں، سوار خواتین اور بچوں کو بچا لیا گیا جبکہ پولیس کے مطابق تین افراد لاپتہ ہیں۔پولیس کے مطابق علاقہ خوگہ خیل زکریا مسجد کے قریب بھی کار سیلابی ریلے کی نذر ہوئی،تاہم اس میں موجود افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

وادی نیلم کے نواحی گاؤں میں بادل پھٹنے سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی جس سے مکانات سمیت متعدد دکانیں سیلاب کی زد میں آگئیں۔مینگل نالے کے قریب متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکل بہہ گئیں، لوگوں کے مال مویشی بھی نالے میں بہہ گئے، مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔

مانسہرہ کے علاقے جبوڑی میں کلائوڈ برسٹ کے نتیجے میں متعدد ہوٹلوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔وادی کاغان، وادی سرن اور دیگر حساس علاقوں میں ندی نالوں اور دریائوں میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر سیاحوں کو دریائے کنہار اور دیگر آبی گزرگاہوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

نگر میں چھلت کے علاقے بڈہ لس میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 4مزدور جاں بحق اور 3زخمی ہو گئے۔لاہور میں موسلا دھار بارش کے دوران دو مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ سات زخمی ہوگئے، ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق شادباغ کھوکھر روڈ پر کرنٹ لگنے سے 22 سالہ عدنان جاں بحق ہوگیا ، نین سکھ کے علاقے میں گھر کی دیوار گرنے سے سات افراد زخمی ہوگئے ۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے بیشتر دریائوں میں پانی کا بہا ئومعمول کے مطابق ہے تاہم دریائے چناب کے خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب کے مرالہ، تریموں اور پنجند، دریائے راوی کے جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، دریائے ستلج کے گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام، جبکہ دریائے سندھ کے تربیلا، کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر پانی کا بہا ئومعمول کے مطابق ہے۔

RAIN

ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک بارشوں کے باعث پنجاب کے دریائوں میں پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔

لیہ کے موضع سمرانشیب میں دریائے سندھ کی بے رحم موجیں بے قابو ہوگئیں، پانی کے تیز بہا ئومیں دو بڑے سرکاری سکول دریا برد ہوگئے۔دریائے سندھ کے کٹا ئوسے اب تک سینکڑوں ایکڑ فصلوں اور 300مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔دریائی پانی سے پانچ سے زائد بستیاں، 3 مساجد، بجلی کے کھمبے اور دوسری سرکاری املاک بھی متاثر ہوئیں۔

 

حسن ابدال کے نواحی علاقے کوہلیہ سمیت درجنوں دیہات کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا گیا کوہلیہ پل ایک بار پھر تیز سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا جس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا ہ کے سرحدی دیہات کا شہر سے رابطہ منقطع اور شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا ہ کے پہاڑی علاقوں کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کیا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا ہ میں 25 جولائی تک گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے جس کے باعث ندیاں اور نالوں میں پانی کے بہا ئومیں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

ادھرصوبائی دارلحکومت لاہور میں مون سون کی پہلی موسلادھار بارش ہوئی ہے، جس کے باعث شہر کا موسم خوشگوار ہو گیا جبکہ نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر میں سب سے زیادہ بارش گلشن راوی میں 98 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاؤہ جوہر ٹاؤن میں 86.4, سمن آباد میں 85.4, علامہ اقبال ٹاؤن میں 82.4, سگیاں میں 57.6, شادی پورہ میں 54, نشتر ٹاؤن میں 53.6, فرخ آباد میں 50.8, تاجپورہ اور اندرون شہر میں 40, لکشمی چوک میں 30 اور کاہنہ کے علاقے میں 25.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اس دوران متعدد نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو دشواری پیش آئی۔ اس دوران وائس چیئرمین واسا چوہدری شہباز احمد اور ایم ڈی واسا غفران نے نشیبی مقامات کے دورے کر کے نکاسی آب آپریشن کا جائزہ لیا اور واسا کے عملے کو جلد از جلد نکاسی آب آپریشن مکمل کرنے کے لیے ہدایات جاری کیں۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں تیز ہواں، آندھی، گرج چمک اور موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج منگل کو خیبرپختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، بالائی و وسطی پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے، جبکہ بعض علاقوں میں درمیانی سے شدید موسلادھار بارش متوقع ہے۔

سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور شدید حبس برقرار رہے گا، تاہم ساحلی علاقوں میں رات کے وقت جزوی ابر آلود موسم اور چند مقامات پر ہلکی بارش یا بونداباندی ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، جبکہ بارشوں کے باعث کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔

اس دوران شدید بارشوں کے نتیجے میں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب یا پانی جمع ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ تیز آندھی، موسلادھار بارش اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور تعمیرات، سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو نقصان پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج منگل کو اسلام آباد اور گردونواح میں مطلع ابر آلود رہے گا اور وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر شدید بارش بھی ہو سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع، پنجاب کے بالائی، وسطی اور جنوبی علاقوں، شمال مشرقی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر، خطہ پوٹھوہار اور استور میں بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ ملک کے دیگر بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا۔ سب سے زیادہ 106 ملی میٹر بارش مری میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ بالاکوٹ میں 57، کاکول میں 56، مالم جبہ میں 54 اور کوٹلی میں 29 ملی میٹر بارش ہوئی۔

گزشتہ روز ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت دالبندین اور نوکنڈی میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ سبی میں 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں، مسافروں اور متعلقہ اداروں کو موسمی صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button