
اسلام آباد :(ویب ڈیسک) قیمتوں کے تعین میں تاخیر کے باعث کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا، پارکنسنز، امراضِ قلب اور شدید انفیکشنز کے علاج کے لیے رجسٹرڈ 40 نئی ادویات تاحال پاکستانی مارکیٹ میں متعارف نہیں کرائی جا سکیں، جس کے باعث متعدد مریض غیر رجسٹرڈ، ذاتی طور پر درآمد کی گئی یا اسمگل شدہ ادویات پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
حکام کے مطابق معاملہ موجودہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نہیں بلکہ نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کے تعین اور ان کی منظوری سے متعلق ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 35 نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ مزید 40 ادویات کی قیمتوں کے تعین کا معاملہ وفاقی حکومت کے زیرِ غور ہے۔
ادویات کے نگران ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے مطابق متعلقہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق سفارشات ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور ڈرگ پرائسنگ پالیسی بورڈ سے منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو ارسال کی جا چکی ہیں۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی حتمی منظوری کے بعد ان نئی رجسٹرڈ ادویات کی قانونی فروخت کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا، جس سے مریضوں کو جدید اور معیاری علاج تک رسائی حاصل ہوگی۔
دوسری جانب فارما انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جدید اور جان بچانے والی ادویات کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے قیمتوں کی منظوری کا عمل جلد مکمل کیا جائے تاکہ مریضوں کو غیر قانونی ذرائع سے ادویات حاصل کرنے کی ضرورت نہ پڑے اور انہیں محفوظ و معیاری علاج میسر آ سکے۔



