نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کو ہفتہ بھر ہونے کو آچکا ہے وزیر داخلہ محسن نقوی اور انکے معاون وزیر برائے داخلہ طلال چودھری کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود بھی حملہ آوروں کو بے نقاب نہیں کیا جا سکا ادھر لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور چند سینئر کرائم رپورٹرز کو جاری کئے گئے سمن روک لئے گئے ۔
حصول انصاف کے لئے لاہور کے صحافیوں کو لاہور ہائی کورٹ کے دروازے پر لگی زنجیر عدل کو ہلانا پڑا تب جا کر انکی داد رسی ہوئی اور سمن روک دیے گئے ، فارم 47 کی حکومت اپنے پہلے ڈیرھ سالہ دور اب ڈیرھ سالہ دور جو تین سال تک ہو جاتا ہے بد ترین فسطایت کا مظاہرہ کر رہی ہے ، طاقت وروں کی بغل بچہ حکومت نواز زرداری رجیم نے وطن عزیز کے سیاسی کارکنوں رہنمائوں سماجی کارکنوں شاعروں اور صحافیوں پر ریاستی جبر کی انتہاکر دی ہے۔
بد ترین تشدد ہوا ہے شاعر احمد فرہاد کوحرف انکار پر پس زنداں کیا گیا تپن کے رو ح رواں سرور باری نے جب 8 فروری کے الیکشن کا کچا چٹھا کھولا تو ان پر زمین تنگ کر دی گئی وہ آج دیار غیر میں پناہ لینے پر مجبور ہیں بے شمار سیاسی کارکن اور سابق وزیر اعظم عمران خان نا حق قید ہیں ، صحافیوں پر تو اس قدر ظلم عظیم ہوا ہے کہ قوم جنرل ضیا الحق کو بھول گئی ہے۔
ارشد شریف کی شہادت عمران ریاض کی گمشدگی ، سمیع ابراہیم ، صدیق جان ، شاہد اسلم ، فرحان ملک ، شاکر اعوان ، اوریا مقبول جان ، آفتاب اقبال ،جمیل فاروقی ، ایاز امیر، عبدالمجید ساجد اسد طور کی گرفتاری ، صابر شاکر، ڈاکٹر معید پیرزداہ ، احمد نورانی پر بیرون ملک ہونے کے باوجود دشت گردی کے پرچے دیئے گئے۔
کاشف عباسی ، حبیب اکرم ، عارف حمید بھٹی ، اکبر باوجوہ ،ثمینہ پاشا ، امیر عباس، علی ممتاز، اعظم چودھری کو آف ائر کر دیا گیا ، پھر پیکا ایکٹ کو نافذ کر دیا گیا ہے صحافیوں کی اعلانیہ زبان بندی ہو چکی ہے جہاں اس ظلم عظیم میں فارم 47 کی حکومت اور انکے پالن ہار ذمہ دار ہیں وہاں ہماری صحافی بردرای خود بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے ۔
آپس میں اتحاد کا فقدان ہے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پنجاب یونین آف جرنلسٹس گروپوں میں تقسیم ہے دھڑے بندیاں عروج پر ہیں ایمرا کے بھی دو دو گروپ بن چکے ہیں ہم لوگ ایک پر حملہ سب پر حملہ کے نعرے پر یکسو نہیں ہیں کسی ایک پر حملہ گرفتاری یا گمشدگی ہوتی ہے تو اسکے مخالف یا اس صحافی کی شہرت سے حسد کرنے والے اندر سے خوش ہوتے ہیں ، پھر مراعات کا چکر بھی چل جاتا ہے۔
صحافی قیادت کو ایک بات پر یکسو ہونا پڑے گا یا تو مراعات لیں یا پھر مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیں ، حکمرانوں کی خوشامد یا پیکا ایکٹ کے خلاف زور دار احتجاج اور اپس میں نقاق کا خاتمہ کریں ،آپ متحد نہیں ہیں آپ کے اندر کالی بھیڑیں موجود ہیں ، صحافی قیادت کے سامنے دو راستے ہیں ، حسین نقی ،نثار عثمانی اور آئی اے رحمان کا راستہ مزاحمت مزاحمت یا پھر حکمرانوں کی خوشامد اور مراعات کا راستہ دونوں میں سے ایک کام ہوتا ہے یا تو مزاحمت ہوتی ہے یا مراعات لی جاتی ہیں دو کشتوں کے مسافر ندی کے بہائو میں ڈوب جاتے ہیں۔



