پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

پنجاب پولیس کا ’’پھڑ لو‘‘فارمولہ،کروڑوں جرمانہ، ٹریفک قوانین لندن، سہولیات چیچوکی ملیاں جیسی

لاہور:(رپورٹ :میاں حبیب) پنجاب حکومت نے ایک نیا آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی شرح سو سے ہزاروں کر دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی مقدمات کا اندراج اور سزائیں بھی لاگو کر دی گئی ہیں۔ون وے کی خلاف ورزی پر 6 ماہ قید یا 50 ہزار جرمانہ ہو سکتا ہے۔ کم عمر ڈرائیونگ پر سزا دوگنی کر دی گئی ہے، ساتھ ہی والدین کو بھی سزا دی جائے گی۔

traffic rules

نان اسٹینڈرڈ شیشوں پر بھی 6 ماہ کی سزا دی جائے گی۔ بغیر فٹنس گاڑیاں چلانے والوں کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر بھی بھاری جرمانے اور سزائیں لاگو کر دی گئی ہیں۔ معمولی ٹریفک خلاف ورزی پر جرمانوں کی شرح دو ہزار سے اٹھارہ ہزار تک بڑھا دی گئی ہیں۔ عوام کو بتائے بغیر، شعوری مہم شروع کیے بغیر اچانک آرڈیننس نافذ کر کے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

traffic challan

آرڈیننس کے نفاذ کے پہلے تین دنوں میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر 1800 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ایک لاکھ 26 ہزار شہریوں کے چالان کیے گئے ہیں۔ ساڑھے 13 کروڑ جرمانہ کیا گیا ہے۔ ٹریفک کی سنگین خلاف ورزیوں پر 5 ہزار کے قریب افراد کو حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔ عدالتوں کے باہر ضمانتیں کروانے والوں کا میلہ لگا ہوا ہے۔ پولیس اور وکلا کی لاٹری لگ گئی ہے۔

wardon

وزیر اعلیٰ پنجاب نے تو ایک ماہ کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہ اگر ٹریفک ٹھیک نہ ہوئی تو ٹریفک پولیس کا محکمہ ختم کر دیا جائے گا۔ آئی جی پنجاب پولیس نے بھی پولیس جوانوں کو شہریوں پر چڑھ دوڑنے کا حکم جاری کیا ہے۔ٹریفک کی درستگی بہت اچھی بات ہے کیونکہ پاکستان کی ٹریفک کا اللہ ہی حافظ تھا۔ سب سے زیادہ حادثات پاکستان میں ہوتے ہیں۔

challan

صرف پنجاب میں 1122 کے رپورٹیڈ حادثات روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور کئی دفعہ تو یہ حادثات 20 ہزار سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ انسانی جانیں ٹریفک حادثات میں ضائع ہوتی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام گاڑیاں بند کر دی جائیں۔ آپ ٹریفک رولز تو لندن جیسے چاہتے ہیں، لیکن سہولتیں آپ چیچو کی ملیاں جیسی بھی نہیں دے رہے۔ عام شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

میں بے شمار ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو روزانہ سو دو سو روپے کا آدھا لیٹر پٹرول ڈلوا کر اپنے دفاتر یا جائے روزگار پر پہنچتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی کہ وہ دو چار لیٹر پٹرول ڈلوا سکیں اور اپنی موٹر سائیکل ٹھیک کروا سکیں۔ حکومت سب سے پہلے لوگوں کو معیاری پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کرے۔ ہر شہری کو ہر جگہ جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میسر ہو۔ تمام تعلیمی اداروں کے پاس اپنی ٹرانسپورٹ ہو۔ طلبہ کو پک اینڈ ڈراپ دی جائے تو والدین کا دماغ خراب نہیں کہ وہ اپنا کام کاج چھوڑ کر بچوں کو اسکولوں، کالجوں میں چھوڑنے جائیں یا پیسے خرچ کر کے آنے جانے کے لیے بچوں کو بائیکس لے کر دیں اور ان کی جان خطرے میں ڈالیں۔

حکومت پہلے ٹریفک کا نظام درست کرے، پھر چاہے جتنی مرضی سخت سزائیں لاگو کر دے۔ موجودہ حالات میں جو اسٹینڈرڈ حکومت نے وضع کیے ہیں ان پر تو 50 فیصد گاڑیاں بھی پوری نہیں اترتیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آدھی گاڑیاں بند ہونے جا رہی ہیں کیونکہ ان کو اسٹینڈرڈ کے مطابق اپ گریڈ کرنے کے لوگوں کے پاس وسائل نہیں۔ حکومت نے لاہور میں دو روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کی ہے۔ ایک اورنج لائن ٹرین اور دوسری میٹرو بس ان میں رش اتنا ہوتا ہے کہ سانس لینا محال ہو جاتا ہے۔

لوگوں کے پاس پہلے ہی روزگار نہیں۔ لوگ موٹرسائیکلوں، رکشوں پر گلی محلوں میں پھیری لگا کر روزی روٹی کماتے ہیں۔ دوکانوں پر مال سپلائی کرتے ہیں۔ جب ان کو بھاری جرمانے ہوں گے تو پولیس اور پبلک میں تناؤ بڑھے گا۔ حالات سے لوگ چڑچڑے بن چکے ہیں۔ کاروبار ہیں نہیں۔ اخراجات اور حالات نے پہلے ہی انھیں دیوار کے ساتھ لگایا ہوا ہے۔ برداشت ان کی جواب دے گئی ہے۔ ایسے میں ٹریفک آرڈیننس کسی بم حملے سے کم نہیں۔

اصولی طور پر چاہیے تھا کہ لوگوں میں پہلے شعوری مہم چلائی جاتی۔ انھیں موقع دیا جاتا۔ وہ اپنی گاڑیوں کی فٹنس ٹھیک کروا لیتے۔ ایک ماہ ٹریفک پولیس ہر خلاف ورزی کرنے والے کو روک کر سمجھاتی کہ آئندہ تم نے ایسا کیا تو ہزاروں روپے جرمانہ ہو گا اور قید بھی ہو گی۔ تاکہ ان کو 78 سالوں سے جو سبق ملا ہے کہ سب جائز ہے، جو عادتیں خراب ہو چکی ہیں انھیں سدھارنے کا موقع مل جاتا۔
لیکن شاید ہم نے سوچ لیا ہے کہ نتائج صرف مار دھاڑ اور سزاؤں سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔

لہٰذا ہر معاملے میں ایک ہی کلیہ کارگر سمجھتے ہیں کہ پھڑ لو۔ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں سدھار بتدریج آتا ہے۔ بہرحال پبلک ذرا سوچ سمجھ کر سڑکوں پر آئے۔ سڑکوں پر ٹوکے لگے ہوئے ہیں، کسی کی بھی گردن اس میں آ سکتی ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button