لاہور / اسلام آباد / پشاور (ویب ڈیسک): لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی موسلادھار بارش نے موسم خوشگوار کر دیا، تاہم متعدد نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا۔ دوسری جانب دریائے سندھ کے چشمہ اور جناح بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔
جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں مسلسل بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح گوالمنڈی کے مقام پر تقریباً 9.5 فٹ تک پہنچ گئی، جس پر ضلعی انتظامیہ، واسا، ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں 52 ملی میٹر جبکہ راولپنڈی میں 55 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں بارش کی شدت میں کمی آنے پر نالہ لئی میں پانی کی سطح بھی کم ہونا شروع ہوگئی اور گوالمنڈی و کٹاریاں کے مقامات پر پانی تقریباً 8 فٹ تک آ گیا، تاہم انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر نالہ لئی کے اطراف جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر لاہور میں گڑھی شاہو، شملہ پہاڑی، لکشمی چوک، مال روڈ، چوبرجی، سمن آباد، وحدت روڈ، شادمان، گارڈن ٹاؤن، کیولری گراؤنڈ، والٹن روڈ، بیدیاں روڈ، بھٹہ چوک، علی پارک، گلبرگ، کلمہ چوک، جیل روڈ اور فیروزپور روڈ سمیت متعدد علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی، جس سے موسم خوشگوار ہو گیا جبکہ کئی فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر رہی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کمزور مون سون ہواؤں کے ساتھ مغربی ہواؤں کا سلسلہ بھی شمالی علاقوں پر اثر انداز ہے، جس کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مزید بارش کا امکان ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 29 جولائی سے جاری بارشوں کے دوران ایبٹ آباد، سوات، بونیر، خیبر اور لوئر چترال سمیت مختلف اضلاع میں پیش آنے والے حادثات میں جاں بحق افراد میں چار بچے، تین خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 103 مکانات متاثر ہوئے، جن میں 39 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں اور نقصانات کے تخمینے میں مصروف ہیں۔
ادھر دریائے سندھ میں بارشوں کے بعد پانی کی آمد میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 3 لاکھ 27 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 18 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چشمہ بیراج میں پانی کی آمد میں 40 ہزار کیوسک اضافہ ہوا۔
اسی طرح جناح بیراج میں بھی نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جہاں پانی کی آمد 3 لاکھ 41 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 34 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔



