اسلام آباد (ویب ڈیسک): وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بار پھر مذاکرات کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے، تاہم پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے حکومت سے سنجیدہ اور عملی اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما عامر ڈوگر نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران حکومتی نمائندوں نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دوبارہ دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی تجویز کردہ جگہ پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ سیاسی مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں اور اس حوالے سے اب گیند پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے قائد حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے، تاہم تاحال اس کا باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی ٹی آئی اس دعوت کو سنجیدگی سے لے گی۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومتی پیشکش پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو غیر ضروری بیانات یا فوٹو سیشن میں دلچسپی نہیں، اگر حکومت واقعی مذاکرات چاہتی ہے تو اسے سنجیدہ، مخلصانہ اور عملی رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کے لیے واضح ایجنڈا، فریقین اور طریقہ کار کا تعین ضروری ہے، کیونکہ صرف زبانی بیانات سے وقت ضائع ہوتا ہے اور اس سے کوئی مثبت پیش رفت ممکن نہیں۔
ادھر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 27 ستمبر کا احتجاج محض ایک روزہ پروگرام نہیں ہوگا بلکہ مطالبات کی منظوری تک کارکن اسلام آباد میں موجود رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کا مکمل شیڈول جلد جاری کیا جائے گا اور اس سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی جائے گی۔
صوبوں کی تقسیم سے متعلق سوال پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انتظامی سہولت کے لیے نئے صوبوں پر بحث جائز ہے، تاہم جب تک حقیقی عوامی نمائندے اسمبلیوں میں نہیں آتے، اس معاملے پر فیصلہ مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اعتماد میں لیے بغیر پارٹی کسی بھی سیاسی منصوبے یا فیصلے کا حصہ نہیں بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اسپتال میں علاج کی سہولت اور ذاتی معالجین تک رسائی دینا بھی پارٹی کے بنیادی مطالبات میں شامل ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے جماعت اسلامی کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے جمعہ کے احتجاج میں شرکت کے لیے پی ٹی آئی کو باضابطہ دعوت نہیں دی۔



