پنجاب پولیس میں تجربات بند، وردیاں نہیں پالیساں بدلنے ،نئے تھانوں کی کیوں ضرورت ؟جانیں حقائق اورنتائج
او سی یو ،سی سی ڈی ،اے وی ایل ایس اب سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے زیر سایہ نہ رہے،بڑے علاقوں میں نئے تھانوں کی اشد ضرورت


لاہور:(فرحان علی خان)غالبا 2003 یا 2006 کی بات ہے اس وقت سی سی پی او لاہور خواجہ خالد فاروق ہوا کرتے تھے،اس وقت لاہور پولیس کی چار ڈویژن ہوتی تھیں،سٹی،صدر،کینٹ اور ماڈل ٹاؤن،خواجہ خالد فاروق صاحب نے لاہور پولیس میں ایک تجربہ کرتے ہوئے ڈویژن کے بجائے 9 ٹاؤنز بنا دئیے ،چار پہلے ہی تھے ان میں سول لائنز،اقبال ٹاؤن،کوٹ لکھپت راوی ٹاؤن داتا گنج بخش یا شالیمار ٹاؤن بنائے گئے مگر بعد میں یہ فیصلہ واپس لیا گیا کہ کیونکہ اس وقت افسران کے لیے دفاتر اور گاڑیوں کی شدید کمی تھی ،فیصلے کو کچھ تبدیل کرکے 6 ڈویژن بنائے گئے۔
سٹی،صدر،کینٹ،اقبال ٹاؤن ماڈل ٹاؤن اور سول لائنز،ابھی تک لاہور میں پولیس کے یہی 6 ڈویژن ہیں،سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر جب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تھے اس وقت انہوں نے قائد اعظم انڈسٹریل ایریا،سندر،ڈیفنس سی تھانے بنائے شاید کسی جگہ میں غلط بھی ہوسکتا ہوں ڈیفنس بی تھانہ بھی بعد میں بنا۔
لاہور میں 2002 میں 74 تھانے اور 16 چوکیاں ہوا کرتی تھیں،پھر آہستہ آہستہ تھانوں کی تعداد بڑھائی گئی،جو اب 84 ہے،مگر کئی سال گزرنے کے باوجود بھی نئے تھانے نہیں بنائے گئے، کاہنہ، نشتر کالونی، مانگا منڈی،چوہنگ، شاہدرہ، فیکٹری ایریا سمیت دیگر بڑے علاقوں اور آبادی کے لحاظ سے نئے تھانے بنانے کی اشد ضرورت ہے مگر نئے تھانے نہیں بنائے جارہے۔
عوام کی سہولت کے لیے نئے تھانوں کی بہت عرصے سے ضرورت ہے مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا،سابق سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید جو اب آئی جی خیبرپختونخوا ہیں نے نئے تھانے بنانے کے لیے آئی جی پنجاب جو سفارشات بھی بھجوائی تھیں مگر وہ سفارشات ابھی بھی کہیں کسی کونے میں پڑی ہونگی۔
پولیس میں تجربات کا سلسلہ جاری رہا ،لاہور پولیس پر ایسا وقت بھی آیا جب اے ایس پیز کو ہر ایک تھانے پر ایس پی او(سپروائزی پولیس آفیسر) تعینات کیا گیا،اس وقت نہ دفاتر تھے نہ ہی گاڑیاں مگر تجربہ ضروری تھا ایس پی اوز ایس ایچ اوز کے کمروں میں بیٹھنا شروع ہوئے،تھانوں کی گاڑیاں انکے زیر استعمال بھی رہتی تھیں مگر یہ سسٹم بھی نہ چل سکا اور پھر یہ فیصلہ بھی واپس لینا پڑا۔
پنجاب پولیس میں ایک اور تجربہ بھی کیا گیا،جس کو سابق آئی جی اسلام آباد طارق مسعود یاسین صاحب نے ہومی سائیڈ یونٹ کا نام دیا،پھر کیا ہوا،یہ یونٹ صرف قتل کیسز کی تفتیش کے لیے بنایا گیا،پولیس افسران کی ٹریننگ کرائی گئی،تفتیش کے لیے سپیشل کٹس خریدی گئیں اور اب ہومی سائیڈ یونٹ کا نام و نشان تک نہیں ہے،سسٹم کو دھکا لگا کر چلایا تو جایا سکتا ہے مگر اسکے نتائج کے بعد دوبارہ پچھلی جانب آنا پڑتا ہے،تھانے تو ابھی تک نہیں بن سکے مگر تجربات کرنے والے ریٹائرڈ ہوگئے۔
جس طرح لاہور میں ہر دسواں شخص سائبر کرائم کا شکار ہو رہا ہے اسکے لیے بہت بہتر تھا کہ انویسٹی گیشن پولیس ہیڈ کوارٹرز میں جو سائبر کرائم یونٹ بنایا گیا تھا اس کو کام کرنے دیا جاتا،اس کو وسائل دئیے جاتے تاکہ لوگوں کے مسائل جلدی حل ہوتے ،مگر اس سسٹم کو بھی بند کردیا گیا ۔
این سی سی آئی اے سائبر کرائم کے خلاف کام کررہا ہے مگر ابھی بھی اتنے وسائل نہیں جتنے واقعات رونما ہورہے ہیں،درخواست دہندہ کو اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے،سائبر کرائم یونٹ کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے،زیادہ سے زیادہ وسائل فوری فراہم کیے جائیں،بھرتیاں کی جائیں تاکہ لوگوں کو بروقت انصاف مل سکے ۔
سی آئی اے سے او سی یو بنا پھر سی سی ڈی ،سہیل ظفر چٹھہ سی سی ڈی کے سربراہ ہیں ،اب اگر سی سی ڈی بن ہی گیا ہے تو اسے سی سی ڈی ہی رہنے دیا جائے دوبارہ او سی یو یا پھر سی آئی اے نہ بنایا جائے ویسے نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا افسران کی پالیسیاں ہوتی ہیں اگر انکے تبدیل ہونے کے بعد بھی پالیسیاں جاری رکھی جائیں تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔
پنجاب پولیس اور ٹریفک پولیس کی وردیاں تبدیل کی گئیں وردیاں تبدیل ہونے سے کچھ نہیں ہوتی ،پالیسیاں تبدیل کریں،ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جس سے انصاف کی بروقت فراہمی ممکن ہوسکے،سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے زیر سایہ کام کرنے والے او سی یو ،سی سی ڈی ،اے وی ایل ایس اب سی سی پی او لاہور کے زیر سایہ نہیں رہے ۔
پنجاب میں پولیس ،ٹریفک پولیس،ڈولفن سکواڈ،ایلیٹ فورس،ایس پی یو،پنجاب ہائی وے پٹرول کی وردیاں الگ الگ ہیں مگر سب پنجاب پولیس کا حصہ ہیں ،تجربے بھی کریں مگر ان پر عملدرآمد بھی ضروری ہے ان کو مستقل رہنے دیا جائے تسلسل جاری رکھا جائے ،لاہور میں نئے تھانے بنائے جائیں،کیونکہ اب تو نئے صوبے بنانے کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔



