پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ہائیکورٹ: زیادتی کیس ،مجرم کو 25سال قید،جرمانہ کا حکم برقرار

لاہور: (بیوروچیف)لاہور ہائیکورٹ نے خاتون سے زیادتی کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جس میں جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس محمد امجد رفیق شامل تھے، نے مجرم مناظر علی کی سزا کے خلاف اپیل پر 7صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے مجرم کو سنائی گئی 25سال قید کی سزا اور متاثرہ لڑکی کو 5لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ڈی این اے شواہد نے ملزم کے خلاف الزام ثابت کیا۔ عدالت نے سپرم فریکشن سے حاصل ہونے والے ڈی این اے کو مضبوط فرانزک شہادت قرار دیا جبکہ ایپی تھیلیل فریکشن میں ڈی این اے نہ ملنے کو ملزم کے حق میں قابلِ فائدہ قرار نہیں دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلےمیں کہا کہ کوئی باپ بھی اپنی بیٹی کو معاشرے میں بدنامی کا باعث نہیں بننے دیتا ،مجرم کا موقف ذاتی دشمنی کی بنیاد پر متاثرہ لڑکی کے باپ نے الزام عائد کیا جو قیاس آرائی پر مبنی ہے،مجرم کے مطابق لڑکی کے باپ کے کزن سے پرانی دشمنی تھی اسکے کہنے پر جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ۔

مجرم اس حوالے سے کوئی صفائی پیش نہیں کرسکا ،ڈی این اے رپورٹ سے مجرم کا لڑکی سے زیادتی کرنا ثابت ہوا ہے،وقوعہ کے روز ہی متاثرہ لڑکی کا میڈیکل مکمل ہوجاتا ہے،میڈیکل رپورٹ میں لکھا گیا کہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ تازہ ریپ کا نشانہ بنایا گیا ہے ،مدعی اور متاثرہ لڑکی کے بیان میں کوئی تضاد نہیں پایا گیا۔

مجرم کے خلاف سرگودھا پولیس نے 2020 میں زیادتی کا مقدمہ درج کیا،مدعی کے مطابق مجرم نے دوپہر کے وقت بیٹی کو اکیلے دیکھ کر زیادتی کا نشانہ بنایا،حکومت کی جانب سے راحیلہ شاہد ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ میڈیکل اور فرانزک شواہد سے زیادتی کا جرم ثابت ہوتا ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کا بیان قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید ہے۔پراسیکیوشن نے مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کیا، جس کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی اپیل خارج کر دی گئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button