پراپرٹی کیسے خریدیں،معاہدہ بیع ثابت کرنے کا کون پابند،کتنے گواہ پیش کرنا لازمی؟اہم عدالتی فیصلے

لاہور:(بیوروچیف) پراپرٹی خریدنے سے قبل ملکیت اور دستاویزات کی تصدیق ضروری ہے اس کیلئے سب سے پہلے متعلقہ پٹوار خانہ، رجسٹرار دفتر، یا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (مثلاً LDA, CDA, DHA) سے فردِ ملکیت، انتقال، اور رجسٹرڈ بیع نامہ کی تصدیق کریں۔
پراپرٹی پر کسی قسم کا سٹے آرڈر، رہن (Mortgage) یا قانونی تنازع نہ ہونے کی مکمل تسلی کریں،معاہدہ بیع / اقرار نامہ بیع (Agreement to Sell) کی تحریر ،پراپرٹی کی کل قیمت، بیعانہ (Earnest Money) کی رقم، بقایا رقم کی ادائیگی کی آخری تاریخ، اور قبضہ کی منتقلی کی شرائط واضح تحریر کریں۔
حاشیائی گواہان کے دستخط:اقرار نامہ پر کم از کم دو مرد گواہان (یا ایک مرد اور دو عورتوں) کے مکمل نام، شناختی کارڈ نمبر اور دستخط/انگوٹھے کا نشان لازمی ثبت کروائیں۔
رجسٹری اور انتقال (Registration & Mutation)بقایا رقم کی ادائیگی پر سب رجسٹرار کے پاس رجسٹرڈ بیع نامہ (Sale Deed) کی منتقلی کروائیں اور سرکاری ریونیو ریکارڈ میں اپنا نام منتقل (Mutation/انتقال) کروائیں۔
اگر معاملہ عدالت چلا جائے تو معاہدہ بیع ثابت کرنے کا بوجھ (Burden of Proof) کس پارٹی پر ہوتا ہے؟کیا شریک مدعا علیہ کا اقرار دوسرے مدعا علیہ پر لازم ہے؟دو حاشیہ گواہوں (Marginal Witnesses) کا پیش کرنا کتنا لازمی ہے؟قانون شہادت کا Article 81 کب لاگو ہوگا ؟
اس فیصلے میں عدالت نے دعویٰ برائے مخصوص ادائیگی (Suit for Specific Performance)، معاہدہ بیع کے ثبوت، Articles 17، 79 اور 81 قانـونِ شہادت آرڈر 1984 اور پلیڈنگ (Pleadings) سے متعلق متعدد اہم قانونی اصول بیان کیے ہیں۔
1۔ معاہدہ بیع ثابت کرنے کا بوجھ (Burden of Proof)،جب مدعا علیہ معاہدہ بیع (Agreement to Sell) کے وجود، اس کی تنفیذ (Execution) اور رقم کی وصولی کو مکمل طور پر جھٹلا دے توپورا بوجھ مدعی پر ہوتا ہے کہ وہ معاہدہ کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔
صرف معاہدہ پیش کر دینا کافی نہیں بلکہ اس کی تنفیذ اور ادائیگی بھی ثابت کرنا ضروری ہے۔
اصول: جس شخص نے مخصوص ادائیگی کا دعویٰ کیا ہے، وہ معاہدہ اور اس کی تمام شرائط کو قابل اعتماد شہادت سے ثابت کرے گا۔
2۔ مخصوص ادائیگی کے مقدمہ میں صرف معاہدہ کافی نہیں،عدالت نے قرار دیا کہ مدعی کو ثابت کرنا ہوگا کہ معاہدہ حقیقتاً ہوا تھا۔
سودا کس جگہ طے پایا،کب طے پایا،کن افراد کی موجودگی میں طے پایا،کتنی رقم ادا ہوئی،بقایا رقم ادا کرنے کے لئے مدعی ہمیشہ تیار تھا،
ان میں سے کسی اہم عنصر کا ثبوت نہ ہونا دعویٰ کمزور کر دیتا ہے۔
3۔ پلیڈنگ میں تمام مادی حقائق (Material Particulars) درج کرنا لازم ہے
عدالت نے کہا کہ دعویٰ میں درج ہونا چاہئے،سودا کہاں طے پایا،کب طے پایا،کن گواہوں کی موجودگی میں طے ہوا،اضافی رقم کب ادا ،ہوئی،کہاں ادا ہوئی،کس کے سامنے ادا ہوئی۔
بعد میں شہادت میں نئی باتیں شامل نہیں کی جا سکتیں۔
اصول: Evidence beyond pleadings قابل قبول نہیں ہوتی۔
4۔ مالی اور آئندہ ذمہ داری والے معاہدوں پر Articles 17 اور 79 لاگو ہوتے ہیں
یہ مقدمہ مالی ذمہ داری اور مستقبل میں رجسٹری کرانے سے متعلق تھا، اس لئے،Article 17،Article 79دونوں لاگو ہوئے۔
5۔ دو حاشیہ گواہوں (Marginal Witnesses) کا پیش کرنا لازمی ہے
عدالت نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ قانون کے مطابق دو گواہوں سے تصدیق شدہ ہے تو دونوں گواہوں کو عدالت میں پیش کرنا لازم ہے
صرف ایک گواہ کافی نہیں جب تک قانون میں موجود استثناء ثابت نہ کیا جائے۔
یہ اصول درج ذیل مقدمات سے بھی اخذ کیا گیا:
Mst. Rasheeda Begum v. Muhammad Yousaf (2002 SCMR 1089)
Abdul Khaliq v. Muhammad Asghar Khan (PLD 1996 Lah. 367)
Federation of Pakistan v. Farrukh International (2023 SCMR 1118)
Khudad v. Syed Ghazanfar Ali Shah (2022 SCMR 933)
6۔ ایک گواہ نہ آنے کا بہانہ کافی نہیں،اگر کہا جائے کہ دوسرا گواہ مخالف فریق سے مل گیا تھا تو صرف یہ دعویٰ کافی نہیں۔
عدالت نے کہا کہ اس کی بھی شہادت دینی ہوگی،کوئی ثبوت پیش کرنا ہوگا،محض وکیل کا بیان یا دلیل کافی نہیں۔
7۔ Article 81 تب لاگو ہوگا جب دستاویز واقعی تسلیم شدہ ہو،اپیلیٹ کورٹ نے Article 81 استعمال کیا۔
ہائی کورٹ نے کہا اگر مدعا علیہ دستاویز ہی سے انکار کرے،دستخط سے انکار کرے،معاہدہ ہی سے انکار کرے،تو Article 81 لاگو نہیں ہوگا۔
8۔ شریک مدعا علیہ کا اقرار دوسرے مدعا علیہ پر لازم نہیں
اگرچار وارث ہیں،تین وارث معاہدہ مان لیں ایک وارث انکار کرےتومدعی کو اس انکار کرنے والے وارث کے خلاف بھی معاہدہ قانون کے مطابق ثابت کرنا ہوگا ایک شریک مدعا علیہ کا اعتراف دوسرے کے خلاف ثبوت نہیں بنتا۔
اس اصول کیلئے عدالت نے درج ذیل نظائر پر انحصار کیا:
Shah Muhammad v. Dullah (2000 SCMR 1588)
Allah Rakha through L.Rs. v. Nasir Khan (2007 CLC 154)
9۔ متضاد شہادت (Contradictory Evidence) ناقابل اعتماد ہوتی ہے،اگر گواہ وقت الگ بتائیں،جگہ الگ بتائیں،موجود افراد الگ بتائیں،شناخت کرنے والے الگ بتائیں،تو عدالت ایسی شہادت پر اعتماد نہیں کرتی۔
10۔ ادائیگی رقم (Consideration) بھی ثابت کرنا ضروری ہے
اگر مدعی کہے،Rs.75,000 بطور بیعانہ ادا کئے،بعد میں Rs.40,000 مزید ادا کئےتو ضروری ہےرسید ہو،یا معتبر شہادت ہو،تاریخ معلوم ہو،مقام معلوم ہو،گواہ موجود ہوں ورنہ ادائیگی ثابت نہیں ہوگی۔
11۔ شہادت پلیڈنگ سے باہر نہیں جا سکتی اگر دعویٰ میں جگہ نہیں لکھی،وقت نہیں لکھا،گواہ نہیں لکھے،تو بعد میں گواہی کے ذریعے ان کمیوں کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔
12۔ اپیلیٹ کورٹ کی مداخلت کب غلط ہوگی؟اگر اپیلیٹ کورٹ شہادت کو غلط پڑھے (Misreading)،اہم شہادت نظر انداز کرے (Non-reading)،ناقابل قبول شہادت پر فیصلہ دے،تو ہائی کورٹ سول ریویژن میں مداخلت کر سکتی ہے۔



