
زندگی کا سب سے بڑا دھوکا یہ ہے کہ ہم اکثر انسانوں کو ان کے کردار سے نہیں، ان کی شہرت سے پہچانتے ہیں۔ سرکاری ملازمت میں تو یہ رویہ اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ کسی کی ایک وائرل ویڈیو اسے عوام کا ہیرو بنا دیتی ہے اور کسی کی برسوں کی خاموش محنت فائلوں میں دفن رہ جاتی ہے۔ وقت مگر دونوں کا اصل چہرہ ضرور سامنے لے آتا ہے۔ پنجاب پولیس کے دو سینئر افسران کے استعفوں نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہم واقعی انسانوں کا فیصلہ ان کے مجموعی کردار سے کرتے ہیں یا صرف اس تصویر سے جو ہمارے سامنے پیش کر دی جاتی ہے؟
ایک طرف ڈی آئی جی ایڈمن لاہور عمران کشور تھے، جنہوں نے ترقی نہ ملنے پر استعفیٰ پیش کیا۔ یہ معاملہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں رہا بلکہ پولیس اور سول بیوروکریسی میں ایک بحث بن گیا۔ متعدد سینئر افسران نے اسے ایک محنتی، دیانت دار اور پیشہ ور پولیس افسر کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔

بالآخر وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کا استعفیٰ منظور کرنے کے بجائے انہیں ملاقات کے لیے طلب کیا، ان کی خدمات کو سراہا، یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ترقی کے عمل میں ان کے کیس پر غور کیا جائے گا، اور انہیں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
دوسری طرف سابق ڈی پی او احمد محی الدین تھے، جنہوں نے منڈی بہاؤالدین اور چکوال میں تعیناتی کے دوران کھلی کچہریوں، فوری کارروائیوں اور سخت احتساب کے باعث غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ شہریوں کی شکایات پر موقع پر پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی، معطلیاں اور محکمانہ احتساب کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر کروڑوں مرتبہ دیکھی گئیں۔
وہ عوام کی نظر میں ایک بے باک، سخت گیر اور فوری انصاف فراہم کرنے والے افسر کے طور پر ابھرے۔ ان کی کارکردگی کو سراہا گیا، اس وقت کے آئی جی پنجاب نے بھی انہیں طلب کر کے شاباش دی، تاہم بعد میں ان کے تبادلے اور پھر بیرون ملک رخصت کے بعد بھی مختلف قیاس آرائیاں گردش کرتی رہیں۔
آخرکار انہوں نے بیرون ملک سے استعفیٰ بھجوا دیا، جسے وزیر اعظم نے منظور کر لیا۔ یہاں سوال کسی ایک افسر کی تعریف یا تنقید نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کا ہے۔ کیا ایک پولیس افسر کی کامیابی کا معیار صرف وائرل ویڈیوز، لاکھوں فالورز اور کروڑوں ویوز ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر پولیسنگ کا پورا تصور بدل دینا چاہیے۔ کیونکہ پولیس کی اصل ذمہ داری کیمرے کے سامنے کارروائی کرنا نہیں بلکہ جرائم پر قابو پانا، قانون کی عملداری قائم رکھنا، تفتیش کا معیار بہتر بنانا، محکمانہ نظم و ضبط برقرار رکھنا، ماتحت عملے کی تربیت کرنا، بدعنوانی کا خاتمہ اور عوام کے اعتماد کا تحفظ ہے۔
ان میں سے کوئی بھی ذمہ داری صرف ایک وائرل کلپ سے پوری نہیں ہوتی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے تقریباً تمام بڑے سرکاری اور نجی اداروں میں بعض حساس معاملات پر سینئر افسران کو دو راستے دیے جاتے ہیں؛ یا مکمل محکمانہ کارروائی کا سامنا کریں یا باوقار انداز میں علیحدگی اختیار کریں، تاکہ ادارے کا وقار بھی برقرار رہے اور فرد کی عزتِ نفس بھی محفوظ رہے۔ اس روایت کو کسی ایک ادارے یا ایک شخصیت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری طرف عمران کشور کی پیشہ ورانہ زندگی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے مقبول کردار نہیں تھے، مگر تحقیقاتی اداروں میں ان کی قابلیت پر غیر معمولی اعتماد کیا جاتا تھا۔ پولیس اور ایف آئی اے کے متعدد حساس اور ہائی پروفائل مقدمات میں بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں میں ان کی شمولیت اسی اعتماد کی علامت تھی۔
پیچیدہ مقدمات کی حتمی رپورٹ مرتب کرنے کی ذمہ داری انہیں اس لیے سونپی جاتی تھی کہ ان کی پہچان تشہیر نہیں بلکہ تحقیق، قانون، میرٹ اور پیشہ ورانہ دیانت تھی۔ ان کے ماتحت افسران آج بھی کہتے ہیں کہ وہ سخت ضرور تھے، مگر سختی صرف نظم و ضبط تک محدود تھی۔ ذاتی تضحیک، گالم گلوچ یا انتقامی رویہ ان کی شخصیت کا حصہ نہیں تھا۔ ایک موقع پر ایک ماتحت افسر نے ان کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے۔ بات ان تک پہنچی، مگر انہوں نے نہ کوئی ردعمل دیا اور نہ انتقام لیا۔ چند روز بعد وہی افسر ان کے ساتھ معمول کے ماحول میں بیٹھا تھا۔ بڑے عہدے کی اصل پہچان اختیار نہیں بلکہ برداشت ہوتی ہے۔
یہ دونوں واقعات ہمیں ایک ایسا سبق دیتے ہیں جسے ہم بار بار بھول جاتے ہیں۔ انسان کا اصل چہرہ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو کیمرہ دکھاتا ہے، اور نہ ہی وہ جو افواہیں بیان کرتی ہیں۔ بعض لوگ اپنی شخصیت کی تشہیر خود کرتے ہیں اور بعض کا کردار ان کی نمائندگی کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو شہرت ملتی ہے اور کچھ کو اعتماد، لیکن تاریخ ہمیشہ اعتماد رکھنے والوں کو زیادہ دیر تک یاد رکھتی ہے۔
اسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے دو سبق آموز واقعات کافی ہیں۔ جنگ کے میدان میں دو سپاہی دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے۔ایک نے دوسرے کو واپس آنے کی آواز دی، مگر اس نے جواب دیا کہ وہ وطن کے لیے آخری قطرۂ خون تک لڑے گا۔ چند لمحوں بعد گولیاں برسیں۔ ایک کے سینے پر گولیاں لگیں اور دوسرے کی کمر پر۔ بعد میں صرف زخموں کی سمت دیکھ کر ایک کو بہادر اور دوسرے کو بزدل قرار دے دیا گیا، حالانکہ حقیقت صرف وہ جانتے تھے جو اب دنیا میں موجود نہیں تھے۔ لوگوں نے منظر دیکھا، پس منظر نہیں۔
اسی طرح ایک شخص مسجد میں جوتے چوری کرنے کی نیت سے داخل ہوا اور وہیں دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا۔ دوسرا اپنے گمراہ دوست کو شراب خانے سے نکال کر راہِ راست پر لانے گیا، مگر وہیں اس کا بھی انتقال ہو گیا۔ لوگوں نے صرف جگہ دیکھی، نیت نہیں دیکھی۔ ایک کو نیک سمجھ لیا گیا اور دوسرے کو گناہگار، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔
ہماری بدقسمتی بھی یہی ہے۔ ہم اکثر ویڈیو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں، کردار نہیں دیکھتے؛ انجام دیکھتے ہیں، سفر نہیں؛ شور سنتے ہیں، خاموش خدمت نہیں۔ پنجاب پولیس کے یہ دونوں استعفے بھی شاید اسی حقیقت کا استعارہ ہیں۔ ایک افسر کی شہرت سوشل میڈیا نے بنائی، دوسرے کی شناخت اس کے پیشہ ورانہ وقار نے۔ دونوں کے بارے میں رائے رکھنے کا حق سب کو ہے، مگر انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی انسان کو ایک تصویر، ایک ویڈیو، ایک خبر یا ایک فیصلے سے نہ پرکھا جائے، بلکہ اس کی پوری زندگی، نیت، کردار اور خدمات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔
کیونکہ وقت کی عدالت میں نہ وائرل ویڈیوز گواہی دیتی ہیں، نہ افواہیں۔ وہاں صرف کردار بولتا ہے، اور کردار کی آواز ہمیشہ سب سے بلند ہوتی ہے۔



