پاکستانتازہ ترینسپورٹس

پاکستان سے میچ نہ ہونے پر بھارت کو 50 کروڑ ڈالر(پاکستانی 140 ارب ) کا نقصان

پاک، بھارت ریونیو میں ہی کٹوتی نہیں ہوگی، دیگر فُل اور ایسوسی ایٹ بورڈز کی ادائیگیوں میں بھی ICCکو مشکل کا سامنا ہوگا

لاہور ( سلمان حسین) گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے اعلان کے بعد سے بھارت اور دنیائے کرکٹ میں ہلچل مچ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ پاکستان بھارت مقابلے سے ہونے والی آمدنی ہے۔
ماڈرن کرکٹ میں کچھ میچ پورے ٹورنامنٹ سے بڑے ہوتے ہیں اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاک، بھارت میچ صرف ایک میچ نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم میچ ہوتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت سے نہ کھیلنے کے فیصلے پر بھارت میں مچنے والے شور کی وجہ اس کا 50کروڑ ڈالر (140ارب پاکستانی روپے) کی مالیت کا ہونا ہے، جس میں براڈ کاسٹ حقوق، ایڈورٹائزنگ پریمیئم، سپانسر شپ ایکٹیویشن، ٹکٹنگ اور قانونی سٹے بازی سمیت دیگر کمرشل سرگرمیاں شامل ہیں۔
اس میچ کی وجہ سے پورے ٹورنامنٹ میں جان پڑتی ہے، براڈکاسٹر مہنگے داموں حقوق خریدتے ہیں اور آئی سی سی ان بورڈز کی مالی اعانت کرتا ہے جو اس قسم کا ریونیو نہیں کما سکتے ۔ براڈکاسٹرز کے لیے یہ میچ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہوتا ہے۔ اس میچ میں 10سیکنڈ کے اشتہار کے نرخ 25لاکھ سے 40لاکھ بھارتی روپے (76لاکھ سے 1کروڑ 22لاکھ پاکستانی روپے) ہوتا، جس کے مقابلے بھارت کے دیگر بڑی ٹیموں کے خلاف میچ انتہائی کم قیمت معلوم ہوتے ہیں۔
اس میچ کا نہ ہونا ٹورنامنٹ کے پورے مالی سانچے کا نقشہ بدلنے کے مترادف ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق میچ نہ ہونے کا نقصان سب سے پہلے میچ کے حقوق رکھنے والوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ صرف اشتہارات کی مد میں پاک، بھارت میچ کے دوران ایک اندازے کے مطابق 3ارب بھارتی روپے (9.2ارب پاکستانی روپے) کمائے جاتے ہیں۔ نقصان کی صورت میں براڈکاسٹر اپنا نقصان آئی سی سی سے پورا کرتا ہے، جس کے بعد صرف پاکستان اور بھارت کے ریونیو میں ہی کٹوتی نہیں ہوگی بلکہ دیگر فُل اور ایسوسی ایٹ بورڈز کی ادائیگیوں میں آئی سی سی کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button