انٹر نیشنلبلاگتازہ ترین

بھارتی ریاستی الیکشن ،ناموراداکار،کھلاڑی بھی سرگرم

حسنین جمیل ۔۔

بھارت کی چار ریاستوں بنگال آسام کیرالہ اور پونڈی چیری میں اپریل میں الیکشن ہوں گے جن کے نتائج مئی کے پہلے ہفتے تک منظر عام پر آجائیں گے، اگر ان چاروں ریاستوں کی انتخابی تاریخ کو دیکھیں تو صرف آسام میں ہی صرف بی جے پی کی حکومت رہی ہے بنگال کیرالہ پونڈی چیری میں کانگریس ، ترنمول کانگریس اور دوسری علاقائی جماعتیں برسراقتدار رہی ہیں۔

بنگال بی جے پی کا اہم ترین ہدف ہے جس کو وہ آج تک نہیں حاصل کر پائے بنگال کی 284 ریاستی ایوان کی صرف 30 سیٹیں پانچ سال قبل الیکشن میں بی جے پی کو ملی تھی جبکہ ممتا بنر جی کی ترنمول کانگریس نے 140 سے زاہد سیٹیں جیت لی تھیں پھر اتحادیوں سے مل کر حکومت بنائی تھی اب کی باربی جے پی کا سب سے موثر لیڈر امیت شاہ جو وزیر داخلہ بھی ہے وہ بنگال میں ڈیرے ڈال کر بیٹھا ہے یاد رہے بنگال سے کئی نامور فلم سٹارز بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔

شترو گن سہنا ترنمول کانگریس متھن چکروتی بی جے پی اور کرکٹر یوسف پٹھان ترنمول کانگریس کی حمایت کر رہے ہیں شترو گن سہنا اور یوسف پٹھان لوک سبھا کے رکن بھی ہیں بنگال اورآسام کی سرحدیں بنگلہ دیش بھوٹان اور میانمار سے لگتی ہیں ادھر سے غیر قانونی تارکین کی آمدورفت ایک اہم مسئلہ ہے حال ہی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بنگال سے 90 لاکھ اور آسام سے 26 لاکھ وٹروں کے نام وورٹر لسٹوں سے نکالے ہیں ۔

ترنمول کانگریس کا موقف ہے یہ سب ہمارے ورٹرز تھے جن کوبی جے پی نے سازش کے تحت نکالا ہے دوسری طرف بی جے پی کا کہنا یہ سب غیر قانونی تارکین وطن تھے ، آسام کی 126 سیٹوں پر بھی گھمسان کا رن پڑے گا ادھربی جے پی مضبوط ہے تاہم کانگریس نئے دم خم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے جس کا سطور بالا میں لکھا گیا ہے ادھر سے بھی 26 لاکھ ورٹرز کا لسٹ سے انخلا کا مسئلہ زیر بحث ہے جس پر کانگریس اور مسلم جماعتیں سراپا احتجاج ہیں تاہم بی جے پی وہی کہ رہی ہے یہ سب غیر قانونی تارکین وطن تھے جو بنگلہ دیش میانمار اور بھوٹان سےآتے ہیں۔

کیرالہ ایک ایسی ریاست ہےجہاںبی جے پی بہت کمزور ہے وہاں ہندو مسیحی اور مسلمان آباد ہیں ایک سیکولر سٹیٹ ہےبی جے پی کو کیرالہ میں کامیابی کی امید بھی نہیں ہے ادھر کی 140 سیٹوں میں باآسانی کانگریس اور اتحادی جماعتیں جیت سکتی ہیں وہاں کا وزیر اعلی بھی علاقائی جماعت کا ہوتا ہے۔

ایک بہت ہی چھوٹی سٹیٹ پونڈی چیری کی 30 سیٹوں والے ریاستی ایوان میں بھی کانگریس کی جیت کے امکامات زیادہ ہیں اگر ان چاروں ریاستوں کا مجموعی طور پر جائزہ لیں مودی اور امیت شاہ کا سب سے زیادہ زور بنگال پر لگے گا آسام میں وہ جیت کے لئے پر امید ہیں اور کیرالہ اور پونڈی چیری میں وہ ناکام رہیں گے اب دیکھتے ہیں اپریل میں ہونے والےان انتخابات کا کیا نتیجہ نکلتا ہےبی جے پی اپنے سب سے توانا حریف ترنمول کانگریس ممتابنر جی اور راہول کو ہرانے میں کامیاب ہوتی ہے کہ نہیں مئی کے پہلے ہفتے میں نتائج کا اعلان ہو جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button