اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو ایندھن کی بلا تعطل فراہمی، منصفانہ قیمتوں اور شفاف نظام کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عوام کی ایک ایک پائی کا تحفظ کرے گی اور کسی کو عوام کے استحصال یا نظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اوگرا اصلاحات پر اعلیٰ سطحی اجلاس
وزیراعظم کی زیر صدارت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جدید ٹریک اینڈ ٹریس ماڈل کی طرز پر ملک بھر میں ایندھن کی نقل و حمل کی نگرانی کا مربوط نظام قائم کیا جائے تاکہ بندرگاہوں سے ریفائنریوں اور پٹرول پمپس تک سپلائی چین کی مسلسل ڈیجیٹل مانیٹرنگ ممکن بنائی جا سکے۔
ڈیجیٹل نگرانی سے ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا نے قومی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ، ٹینکر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، ڈپو ٹینک ٹیلی میٹری، راہگزر موبائل ایپ، پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل سیلز انٹری سسٹم اور مرکزی مانیٹرنگ سیل سمیت متعدد جدید ڈیجیٹل نظام فعال کر دیے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق جولائی 2026 کے دوران ڈیٹا پر مبنی خصوصی مہم میں ذخیرہ اندوزی، سپلائی میں غیر ضروری رکاوٹوں اور دیگر خلاف ورزیوں کے متعدد کیسز سامنے آئے، جن پر شوکاز نوٹس، وضاحت طلبی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اوگرا کی تنظیم نو اور ماہرین کی تعیناتی
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ اوگرا کی استعداد بڑھانے کے لیے نجی شعبے سے بہترین شہرت رکھنے والے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور ادارے میں ہر سطح پر میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر تقرریاں کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اوگرا کی تنظیم نو، ڈیجیٹلائزیشن، انفورسمنٹ سسٹم، لائسنسنگ اصلاحات، کمپلائنس ونگ کے قیام اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر زور
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منظور شدہ پالیسی کے مطابق ملک کی آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر کام تیز کیا جائے تاکہ توانائی کے شعبے میں جدید تقاضوں کے مطابق بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کی یقینی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ورلڈ بینک کے وفد سے ملاقات
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکر کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات، مالیاتی وفاقیت اور وفاق و صوبوں کے درمیان مالیاتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ورلڈ بینک نے "پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے” کے عنوان سے اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، محصولات، اخراجات اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق سفارشات شامل تھیں۔
وزیراعظم نے رپورٹ کو سراہتے ہوئے اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی، جو تمام متعلقہ فریقین اور صوبوں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل تجاویز پیش کرے گی۔
آذربائیجان کے سفیر سے الوداعی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں آذربائیجان کے سبکدوش ہونے والے سفیر خضر فرہادوف نے بھی الوداعی ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور مستقبل کی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قائم مضبوط تعلقات مستقبل میں مزید وسعت اختیار کریں گے۔



