انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول،160 امریکی ہلاک،واشنگٹن کا تہران کے 17بحری جہاز تباہ کرنے کادعویٰ

سری لنکامیں اینٹی شپ میزائل سے لیس ایرانی جنگی جہاز ڈوب گیا، 80 جاں بحق،خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے: اسرائیل، حملے قطر نہیں امریکہ کو نشانہ بنانے کیلئےتھے:ایران

ریاض، تہران:(ویب ڈیسک)امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد تہران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی،ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کی فوج نےبحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارڑز اور فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 787 ہوگئی۔ ایران کے اسرائیل سمیت عرب ممالک میں قائم امریکی بیسز اور سفارت خانوں پر حملے جاری ہیں۔ ایرانی فوج نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کر دیا۔ایرانی فوج کی جانب سے کہا گیا ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 650 ہوگئی۔پاسداران انقلاب نے کہا بحر ہند میں 650 کلو میٹر دور ایندھن بھرنے والے امریکی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق چار روز سے جاری اسرائیلی و امریکی حملوں میں ہمارے 787 شہری جاں بحق ہوچکے جبکہ سیکڑوں زخمی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پیش کیے ہیں۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی بیسڈ تنظیم کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران میں 742 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 176 بچے ہیں۔ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملہ کر دیا،ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی16ویں لہر شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔پاسداران انقلاب اسلامی کے مطابق اسرائیل کی جانب بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے گئے جن کا ہدف مخصوص عسکری اور سٹرٹیجک مقامات بتائے جا رہے ہیں، میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز بھی اسرائیل کی سمت روانہ کیے گئے، یہ کارروائی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔

 

اسرائیلی ذرائع نے متعدد شہروں میں سائرن بجنے اور فضائی دفاعی نظام کے متحرک ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔تاحال نقصانات یا جانی صورتحال سے متعلق کوئی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ایران کے اسرائیل پر تابڑ توڑ حملوں کے باعث اسرائیل میں خوف و ہراس کا عالم ہے۔اسرائیلی فوج نے ملک بھر کیلئے الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایت کی ہے اور اسرائیل کے وسطی اور شمالی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقے رام اﷲ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، مقبوضہ علاقے بیت شیمش میں ایرانی میزائلوں کا ملبہ گرنے سے عمارتوں کو نقصان پہنچا۔متحدہ عرب امارات کے شہر دوبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب زور دار دھماکوں کے بعد آگ اور دھویں کے بادل دیکھے گئے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق ریاست ہائے متحدہ میں امریکہ کے قونصل خانہ دبئی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ آسمان پر سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیاامریکی فوج نے ایران میں تقریباً 2,000 اہداف پر حملے کیے ہیں۔سینٹکام کے مطابق حملوں میں ایران کی آبدوزیں اور 17 بحری جہاز بھی تباہ کر دیئےگئے، جس کے بعد خلیج عرب، ہرمز اور خلیج عمان میں کوئی ایرانی بحری جہاز موجود نہیں۔امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے 500 بیلسٹک میزائل اور 2ہزارسے زائد ڈرون داغے۔

 

امریکی صدر ٹرمپ نے ہر صورت آبنائے ہرمز کھلوانے کا اعلان کردیا۔ان کاکہناتھا نہ صرف وہاں سے گزرنے والے کمرشل بحری جہازوں کی انشورنس کی جائے گی بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کمرشل جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی نیوی ساتھ جائے گی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا امریکا ایران کے میزائل پیڈز اور جوہری ہتھیاروں کے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مقاصد کے حصول تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیارے نے تہران میں ایرانی طیارے کو مار گرایا۔ دعویٰ کے مطابق ایرانی طیارےکو اسرائیلی ایف 35 طیارے نے تہران کی فضا میں نشانہ بنایا۔امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر ایلزبتھ وارن نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر قانونی جنگ جھوٹ پر مبنی ہے۔سینیٹر وارن کا کہنا تھا کہ خفیہ بریفنگ کے بعد یہ تاثر ملا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ صورتحال تصور سے بھی زیادہ خراب ہے اور اسی وجہ سے وہ پہلے سے زیادہ فکرمند ہیں۔امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اقلیتی لیڈر چک اسکمر نے بھی انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا جواز بار بار تبدیل کیا جا رہا ہے۔

 

کبھی رجیم چینج، کبھی نیوکلیئر ہتھیار، کبھی میزائل پروگرام اور کبھی دفاع کا مؤقف اپنایا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی واضح منصوبہ بندی موجود نہیں۔سینیٹر وارن نے کہا کہ یہ جنگ ایران کی جانب سے امریکا کو کسی فوری خطرے کے بغیر شروع کی گئی اور اس میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ ڈیموکریٹک سینیٹر بلومینٹل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ایران میں زمینی افواج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر چاہے تھے جو امریکا نے اسے دیئے،نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ چاہتا تھا، ٹرمپ نے اس کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے مشرقی شہر ظہران پر ممکنہ اور قریب الوقوع میزائل یا ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔اس شہر میں امریکی قونصل خانہ موجود ہے، جہاں سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔ادھرایرانی بحری جہاز سری لنکا میں ڈوب گیا،سری لنکا میں گالے بندرگاہ کے قریب ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز ڈوبنے کے بعد بحرِ ہند میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کی وزارتِ دفاع کے بیان میں بتایا گیا ہے جکہ جنگی بحری جہاز پر تقریباً 180 سوار تھے جن میں 140 تاحال لاپتا ہیں۔ 30 افراد کو ریسکیو آپریشن کے دوران سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا لیکن زخمی ہونے کے باعث قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔سری لنکا کے سیکرٹری وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا سمندر میں ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ اور فضائیہ مشترکہ طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔زخمیوں میں بعض کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ کچھ کو جلنے کے زخم اور خراشیں آئی ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق چند زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔

یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا صبح جہاز سے ہنگامی سگنل موصول ہوئے جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاہم جہاز ڈوبنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ۔

اپوزیشن کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا؟ اس سوال پر حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان کے مطابق یہ جہاز بحری مشق آئی آر ایف اینڈ میلان 2026 میں شرکت کے لیے خطے میں موجود تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پھر دھمکی دی ہے کہ آیت اﷲ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ آیت اﷲ خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم اور انہوں نے فوج کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی۔ امریکی شراکت دار کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے۔ایرانی عوام کے حکومت کو اکھاڑ پھینکنے اور تبدیل کرنے تک آپریشن جاری رکھیں گے۔روس نے کہا ہے ہمیں تاحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

یہ بات روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے گزشتہ روز برونائی کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ گفتگو میں کہی۔ انہوں نے کہا ہمیں ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جو جنگ کا واحد نہیں تو بنیادی جواز ضرور تھا۔ ایران پر حملے کے نتائج پورے خطے میں محسوس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین کی طرف سے دشمنی کے فوری خاتمے کے لیے روس کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا غیر مشروط ابتدائی اقدام کے طور پر ہمیں کسی بھی ایسی کارروائی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں شہری اموات ہوں۔

انہوں نے ایران میں ایک سکول پر مبینہ حملے کی طرف اشارہ کیا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے قطری ہم منصب سے کہا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کا ہدف قطر نہیں بلکہ امریکی اڈے اور مفادات تھے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق قطری وزیر خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایران سے فوری طور پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ قطر کسی بھی جارحیت کا مقابلہ اپنے ’حقِ دفاع‘ کے تحت کرے گا، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قطر ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ مکالمے اور سفارت کاری کا حامی رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button