
واشنگٹن میں ہفتہ کی رات ایک تقریب جس میں ٹرمپ بھی موجود تھے ۔۔ شوتنگ کے واقعے کے بعد امریکہ بھر میں سوشل میڈیا پر کنٹروورسیز کی ایک نئی لہر چل رہی ہے ایکسس ، یوٹیوب، فیس بک ہر جگہ اس واقعے کے حوالے سے سب کے پاس اپنی کہانی تھی ۔۔
نہ کسی کو دکھ تھا ور نہ ملال ۔۔ بس سوال ہی سوال یعنی کانسپریسی تھیوریز کو پھیلانے کی جو فصل ڈونلڈ ٹرمپ خود کاشت کرتے آئے تھے وہی اب ان کو بھی کاٹنا پڑی ۔۔
جیسے ہی شوٹنگ کے واقعے کی خبر بریک ہوئی، سوشل میڈیا پر ایک ہنگامی کیفیت پیدا ہو گئی۔ واقعے کے فوراً بعد مختلف ویڈیو کلپس اور ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پہنچ کر اس واقعے پر بیان دیا اور مبینہ حملہ آور کی تصویر شیئر کی، تو ہزاروں سوشل میڈیا پوسٹس سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ "سٹیجڈ” تھا یا محض ایک ڈرامہ تھا۔
اس واقعے کو مزید مشکوک بنانے میں کچھ ویڈیوز اور بیانات نے اہم کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر وائٹ ہائوس سپوکس پران کارولین لیوٹ کا ایک انٹرویو وائرل ہوا جس میں انہوں نے تقریب سے پہلے کہا تھا کہ "آج رات کمرے میں shots fired ہوں گے”۔ اگرچہ یہ جملہ عام طور پر طنزیہ جملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن حملے کے تناظر میں اس نے ایک نیا معنی اختیار کر لیا اور لوگوں نے اسے ایک "پیشگی اطلاع” کے طور پر لینا شروع کر دیا۔
اسی طرح فاکس نیوز کی ایک رپورٹر عائشہ حسنی کی لائیو کال اچانک منقطع ہو گئی، جسے مشکوک قرار دیا گیا ۔ بعد میں وضاحت دی گئی کہ یہ صرف سگنل کا مسئلہ تھا، لیکن تب تک یہ کلپ لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکا تھا اور اس نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا۔
ایک اور پہلو جس نے لوگوں کو حیران کیا، وہ جے ڈی وینس کی سیکیورٹی تھی۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ انہیں صدر سے پہلے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ عام صارفین نے اسے غیر معمولی قرار دیا، حالانکہ سیکیورٹی پروٹوکولز میں بعض اوقات خطرے کی نوعیت کے مطابق مختلف افراد کو مختلف ترتیب میں نکالا جاتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر پیچیدہ سیکیورٹی حکمت عملی کو سادہ سازشی کہانیوں میں بدلنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔
دعوےکیے گئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس واقعے کو ترتیب دیا تاکہ اپنی گرتی ہوئی عوامی مقبولیت سے توجہ ہٹا سکیں، یا پھر ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی جیسے حساس معاملات کو پس منظر میں دھکیل دیا جائےحیران کن بات یہ تھی کہ یہ الزامات صرف ایک مخصوص سیاسی گروہ تک محدود نہیں تھے بلکہ بائیں اور دائیں دونوں بازوؤں سے تعلق رکھنے والے افراد اس بیانیے کو آگے بڑھا رہے تھے۔
ٹرمپ کے حامی حلقوں میں ایک مختلف قسم کی کانسپریسی سوچ پروان چڑھی۔ ان کے مطابق یہ حملہ دراصل ٹرمپ کے خلاف ایک "اندرونی سازش” ہو سکتا تھا، جس کا مقصد انہیں نقصان پہنچانا یا ان کی سیکیورٹی کو کمزور دکھانا تھا۔ اس طرح دونوں اطراف نے ایک ہی واقعے کو اپنے اپنے نظریاتی فریم میں فٹ کر لیا—اور یہی جدید دور کی انفارمیشن وارفیئر کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
کانسپائیریسز کے پیچھے مختلف کہانیاں گھڑی گئیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا، جبکہ کچھ کے مطابق یہ وائٹ ہاؤس میں ایک نئے اور بڑے بال روم کی تعمیر کے جواز کے لیے تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ٹرمپ نے حملے کے چند ہی منٹ بعد سیکیورٹی میں خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے وائٹ ہائوس میں ایک بڑے بال روم کی ضرورت پر زور دیا، جس نے مزید شکوک کو جنم دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی حقیقی واقعے کے بعد ایسی افواہیں پھیلی ہوں۔ 2024 میں پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں ٹرمپ پر ہونے والی قاتلانہ حملے کی کوشش کے بعد بھی اسی نوعیت کے نظریات سامنے آئے تھے۔ اس واقعے میں ایک گولی ٹرمپ کے کان کو چھو کر گزری تھی جبکہ ان کے ایک حامی کوری کومپریٹور ہلاک ہو گئے تھے، اور حملہ آور کو بعد میں سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔
ٹرمپ کے سابق کائونٹر ٹیررزام چیف جو کیننٹ نے بھی اس حوالے سوال اٹھائے مارچ دو ہزار چھبیس میں، جو کینٹ، دی ٹکر کارلسن شو میں شریک ہوئے اور دو ہزار چوبیس میں ڈونلڈ ٹرمپ پر بٹلر، پنسلوانیا میں ہونے والے قاتلانہ حملے سے متعلق یہ الزام لگایا کہ بٹلر میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کو وقت سے پہلے بند کر دیا گیا تھا اور معلومات کو چھپایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں معلومات کا ایک خلا پیدا ہو گیا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات یہ نظریات صرف مخالفین ہی نہیں بلکہ خود ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے بھی سامنے آئے۔ بعض سابق حامیوں اور دائیں بازو کے مبصرین نے بغیر ثبوت یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ بٹلر والا حملہ خود ٹرمپ نے سیاسی فائدے کے لیے "اسٹیج” کیا تھا۔
حالیہ برسوں میں کووڈ کے دوران بھی مختلف سازشی نظریات سامنے آئےکبھی اسے لیبارٹری میں تیار کیا گیا وائرس کہا گیا، تو کبھی اسے عالمی کنٹرول کا منصوبہ قرار دیا گیا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کی رفتار حقیقت کی تصدیق سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ ایک کلپ، ایک جملہ، یا ایک اتفاقی لمحہ چند گھنٹوں میں ایک مکمل بیانیہ بن جاتا ہے۔ لوگ اکثر اپنی پہلے سے موجود رائے کے مطابق معلومات کو قبول کرتے ہیں،جسے کنفرمیشن بائس” کہا جاتا ہے، اور یوں حقیقت اور افسانے کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر کچھ معروف شخصیات نے یہ تک کہا کہ اگر یہ سب ڈرامہ تھا تو اس کا مقصد ووٹرز کی ہمدردی حاصل کرنا تھا۔ اسی طرح کچھ دیگر نظریات میں ایف بی آئی، اسرائیل یا دیگر طاقتوں کو اس میں ملوث قرار دیا گیا۔ مگر یہ سب کیوں ہوا معلومات اور تحقیقات تک رسائی کا فقدان
اس کی ذمہ داری خود ٹرمپ پربھی ہے وہ خود ماضی میں کئی بار سخت، اشتعال انگیز اور متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔مثال کے طور پر ٹرمپ نے سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر رابرٹ مولر کی موت پر خوشی کا اظہار کیا، جو شدید تنقید کا باعث بنا۔وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ڈیموکریٹس اور بعض میڈیا شخصیات کا بیانیہ سیاسی تشدد کو بڑھا رہا ہے، لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ یہ سلیکٹو اؤٹ ریج ہے ۔ اس حوالے سے ایک رپورٹ سی این این پر بھ یچھپی جس کے مطابق ٹرمپ نے کئی بار اپنے مخالفین کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں ماہرین “اشتعال انگیز” یا “خطرناک سیاسی زبان” کہتے ہیں۔
ان میں نینسی پیلوسی کے شوہر پر حملے کا مذاق اڑانا، اور مخالفین کے خلاف “تشدد” کے اشارے دینا شامل ہے۔اور امریکہ میں سیاسی تشدد پربڑھتی ہوئی تقسیم کے حوالے سے ایک سروے کا حوالہ دیا گیا جس میں بتایا گیا کہ امریکہ کے اندر سپلٹ رئیلٹی بن رہی ہے یعنی لوگ دو الگ الگ دنیائوں میں جیتے ہیں دونوں کا اپنا اپنا سچ ہے ۔ ہر سیاسی گروہ دوسرے کو سیاسی تشدد کا زمہ دار ٹھہراتا ہے ۔
امریکہ میں کیے گئے پولز کے مطابق:انہتر فیصد لوگ کہتے ہیں ریپبلکن پارٹی کی زبان زیادہ خطرناک ہے ۔اور ساٹھ فیصد لوگ کہتے ہییں کہ ڈیموکریٹس کی زبان زیادہ خطرنا ک ہے ۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں طرف کے لوگ اصل تشدد کا الزام دوسری طرف پر ڈال رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اکثر سیاسی تشدد کے واقعات کے بعد فوراً کسی ایک سیاسی گروہ پر الزام لگا دیا جاتا ہے، جبکہ بعد میں تحقیقات کچھ اور حقیقت سامنے لاتی ہیں۔
کئی کیسز میں حملہ آوروں کی سیاسی شناخت واضح نہیں ہوتی، یا وہ دونوں طرف کے بیانیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔2011 سے 2024 تک سروے بتاتے ہیں کہ لوگوں کا یہ یقین بڑھ رہا ہے کہ سیاسی تشدد صرف “پاگل افراد” کا نہیں بلکہ “سیاسی زبان” کا نتیجہ بھی ہے۔
سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ امریکہ میں ہر سیاسی واقعہ کو “ہم اور وہ” کی جنگ بنا دیا جاتا ہے۔ہر گروہ صرف وہی تشدد یاد رکھتا ہے جو دوسرے نے کیا ہو، اور اپنے بیانیے کو نظر انداز کر دیتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اعتماد ختم ہو رہاہے اور سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھتا جارہا ہے ۔
جب جرنلزم کی جگہ بیانیے لے لیں گے ۔۔۔ اور نام نہاد اینکرز اور صحافی بیٹھ کر صرف ہیجان خیزی اور جھوٹ پھیلائیں گے تو یہ ایک عام نفسیاتی اور سماجی رجحان ہےکہ ۔ جب معلومات کا خلا پیدا ہوتا ہے یا حکومتی سطح پر تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آتیں، تو لوگ خود سے کہانیاں بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی خلا سازشی نظریات کو جنم دیتا ہے۔
فیکٹ چیکنگ ماہرین کے مطابق آج کے ڈیجیٹل دور میں لوگ اتنی زیادہ معلومات کا سامنا کرتے ہیں، جن میں سے بہت سی بعد میں غلط ثابت ہوتی ہیں، کہ ان کا اعتماد کمزور ہو چکا ہے۔ نتیجتاً، جب کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کے بجائے ہر چیز پر شک کرنے لگتے ہیں۔
،سوشل میڈیا پر بااثر شخصیات، سیاستدان، اور یہاں تک کہ بعض ریاستی میڈیا ادارے بھی ان نظریات اور بیانیے کو پھیلانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی افواہ چند گھنٹوں میں عالمی سطح پر پھیل سکتی ہے۔۔۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کے بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ، سوشل میڈیا کے بے قابو پھیلاؤ، اور معلومات کے فقدان نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ہر بڑا واقعہ فوری طور پر سازشی نظریات کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اور یہی رجحان مستقبل میں مزید شدت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔
تو کیا یہ کہانی آپ کو پاکستان اور اپنے پڑوسی انڈیا میں بھی پنپتی نظر آتی ہے یا نہیں ؟ تو کون کس کے نقش قدم پر ہے ؟



