
مڈل ایسٹ کی جنگ نے دنیا کو غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار کر رکھا ہے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تجسس بڑھتا جاتا ہے خاص کر جنوبی ایشیا کا خطہ تو سولی پر لٹکا ہوا ہے توانائی کا بحران اپنی جگہ پر لیکن اب تو معیشتیں بھی ڈانواں ڈول ہیں لمحوں میں اتار چڑھا ئو استحکام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے بارے میں کسی مثبت پیش رفت اور بیان بازی سے کاروبار میں بھی مثبت پیش رفت آنا شروع ہو جاتی ہے اور ذراسی منفی اپروچ سے کاروبار کا دھڑن تختہ ہو جاتا ہے امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 108 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہیں ایک تو تیل کی کمیابی اوپر سے قیمتوں میں اضافہ نے جنوبی ایشیائی ممالک کی تو کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔
دنیا اب یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ امریکہ نہ تو فیصلہ کن جنگ کی طرف جا رہا ہے اور نہ ہی فیصلہ کن مذاکرات کی طرف آ رہا ہے آخر وہ چاہتا کیا ہے؟ اس کا منصوبہ کیا ہے ؟ وہ کس کے انتظار میں ہے؟ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی کے کہنے پر رکا ہوا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے وہ اپنی حکمت اور منصوبے کے تحت تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے ایک طرف وہ مذاکرات کے لیے دنیا کو امید بندھائے ہوئے ہے اور دوسری طرف مڈل ایسٹ میں اپنی فوجی قوت میں اضافہ کر رہا ہے اپنے بحری بیڑوں میں بھی اضافہ کر رہا ہے افواج کی تعداد بھی بڑھا رہا ہے دوسری جانب ایران بھی حالات کو بڑی اچھی طرح سمجھ رہا ہے وہ مذاکرات کے محاذ پر بھی سرگرم عمل ہے اور کسی بھی بڑے حملے سے نمٹنے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے اس کے ساتھ ساتھ ایران نے خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے روابط بحال کیے ہیں انھیں کسی بھی نئی پیدا شدہ صورتحال میں اعتماد میں لے رہا ہے اس کے عمان ،قطر،سعودی عرب، ترکیہ، حتی کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی رابطے ہوئے ہیں ۔
پاکستان کے ساتھ تو وہ چوبیس گھنٹے رابطے میں ہے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا پاکستان آنا اور پھر عمان سے پاکستان کے کہنے پر دوبارہ پاکستان آنا بہت اہم ہے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے ایران کو مذاکرات کے حوالے سے نیا فارمولا دیا تھا جس پر ہونیوالی پیش رفت پر امریکہ سے بات ہوئی اور امریکہ کے جواب پر ایرانی وزیر خارجہ کو بلوا کر آگاہ کیا گیا جس سے ایران کی جانب سے مذاکرات کے نئے نکات فائنل کیے گئے ہیں جو دوبارہ امریکہ کے سامنے رکھے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آذادانہ نقل وحمل کے لیے دونوں ممالک اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹیں امریکہ ناکہ بندی ختم کرے اور ایران بلا روک ٹوک جہازوں کو گزرنے دے تاکہ ایک تو اعتماد سازی کی فضا پیدا ہو سکے دوسرا توانائی کا بحران کم ہو سکے جبکہ یورنیم کی افزودگی اور ایٹمی ہتھیاروں بارے مذاکرات کے مرحلہ کو علیحدہ سے طے کیا جائے اس پر امریکہ کے جواب کا انتظار ہے ۔
ایران کے وزیر خارجہ کا دورہ روس بھی اس حوالے سے بہت اہم ہے ایران ہر دوصورتوں میں اپنی تیاریوں کے لیے خطے کی طاقتوں کو اعتماد میں لے رہا ہے امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ مذاکرات کی میز کو سرنڈر کی میز بنا لے جبکہ ایران یورینیم پر لچک دکھانے کے سوا باقی کسی معاملہ پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ایران نے اپنے اندرونی خلفشار پر مکمل قابو پا لیا ہوا ہے اور اب وہ پوری یکجہتی کے ساتھ کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ امریکہ میں خلفشار بڑھ رہا ہے امریکی قوم ہر گزرتے دن کے ساتھ تقسیم کی طرف بڑھ رہی ہے ڈونلڈ ٹرمپ پر اندرونی دبائو بڑھ رہا ہے واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب پر حملہ نے بہت کچھ آشکار کر دیا ہے ٹرمپ جتنا مرضی تاثر دے لیکن ایسے مواقع پر اندرونی خوف بڑھنا ایک فطری عمل ہے ایسے حالات میں پاکستان جو کہ دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کاری کر رہا ہے جو مذاکرات کا سہولت کار بھی ہے اور مذاکرات کی ٹیبل بھی سجائے بیٹھا ہے وہ بھی عجیب مخمصے کا شکار ہے نہ وہ ٹیبل سمیٹ سکتا ہے اور نہ لمبے عرصے تک ٹیبل دراز رکھ سکتا ہے۔
ایک ہفتہ سے اسلام آباد اور گردونواح کے علاقوں کو سیکورٹی کے نام پر حصار میں لیے ہوئے ہے اور مہمانوں کی آمد کا منتظر ہے پتہ چلتا ہے امریکی وفد تیاریاں پکڑ رہا ہے پھر آمد ملتوی ہو جاتی ہے پھر آمد کا اعلان ہوتا ہے پھر ملتوی ہو جاتا ہے نہ جانے یہ انتظار کب تک چلے گا کب تک ہم سٹینڈ بائی رہیں گے کچھ پتہ نہیں پاکستان میں فیول کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں اور اس سے پوری قوم شدید متاثر ہو رہی ہے خدشہ یہ ہے کہ فیول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ سہولت کار کو بھی کچھ سہولتیں دی جائیں لیکن ہم تو سب سے زیادہ قربانی دینے والے بن کر رہ گئے ہیں ہم قوم کو ریلیف دینے کے راستے ڈھونڈنے کی بجائے کہیں اور مصروف ہیں اس صورتحال کا انجام کیا ہو گا کسی کو کچھ پتہ نہیں یہ سارا کھیل امریکہ نے شروع کیا تھا اس کے اختتام کی کنجی بھی امریکہ کے پاس ہے۔



