امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشہ روز کے خطاب میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ان کی اور اسرائیل کی جنگ بندی کے دن قریب آ رہے ہیں ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اپنے جنگی اہدف پورے کر لئے ہیں ایرانی مذہبی پیشوا علی خامنہ ای کوشہید ایرانی بحریہ اور فضائیہ اور میزائیل ڈرون سسٹم مکمل تباہ کرچکے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایرانی جس جوہری توانائی کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ صلاحیت امریکی حملوں کے بعد ختم ہو چکی ہے لہذا اب جنگ بندی کے دن قریب ہیں امریکی ذرائع ابلاغ میں موجود ٹرمپ کے ناقدین کے مطابق ٹرمپ کی کیفیت کھسیانی بلی کھما نوچے کے مترداف ہو چکی ہے۔
یورپ سمیت دنیا بھرمیں چونکہ ٹرمپ اورنیتن یاہو کے جنگی عزائم پر بہت زیادہ تنقید کی جارہی تھی اور ٹرمپ یاہو یہ سمجھ رہے تھے کے جس طرح پہلے دن ہی انہوں نے خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیاد ت کو شہید کردیا ہے وہ بہت جلد ایران میں رجیم چینج میں کامیاب ہو جائیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا اس لئے اب وہ جنگی اہداف میں کامیابی کا ڈھونگ رچا کر اس جنگ سے نکل رہے ہیں۔
دوسری طرف امریکی سوشل میڈیا کی ایک معروف ویب سائٹ پر امریکی دفاعی امور میں ایک بحث چل رہی ہے کہ امریکی صدر ایک آخری جنگی ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں ایرانی دارالحکومت تہران سے 25 کلومیٹر دور ایک جزیرے پر ایران کے سب تیل کے ذخائر ہیں وہاں امریکی بری فوج کے داخلے کے بعد یہ جنگ ختم ہو جائے گی چونکہ امریکی ائیر فورس نے شدید ترین بمباری کر دی ہے اب بری و بحری فوج کے لئے اس جزیرے تک رسائی آسان ہو چکی ہے جو چند دن میں ہو جائے گی ۔
یہ جزیرہ صرف تیل کے بڑے ذخائر کی وجہ سے ہی نہیں اہم بلکہ جغرافیائی نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے کیونکہ چین اس جریزے کے ذخائر سے ہی تیل خریدتا ہے اس نقطہ نظر کی مخالفت میں بھی اس ویب سائٹ پر کچھ دفاعی امور کے ماہر مخالف رائے بھی رکھتے ہیں ان کا موقف ہے کہ مان لیا امریکہ اس جزیرے پر قبضہ کر لیا گیا ہے مگر امریکی فوج کے لئے زیادہ دیر تک اس جزیرے پر قبضہ برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ ایران چین اور روس کی پس پردہ مدد سے دوبارہ جزیرے پر قبضہ واگزار کرانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا ، اس سارے تناظر میں دیکھا جائے تو اس خطے میں میں جنگ کے سائے برقرار رہیں گے ۔
خطے کے پاکستان سمیت پچاس کروڑ کے لگ بھگ عوام کو سکھ کا سانس نصیب نہیں ہو گا ، جہاں دنیا بھر میں یورپ امریکہ سمیت ٹرمپ نیتن یاہو جنگی جنون کو کڑی تنقید کا سامنا ہے وہاں ایرانی قیادت کو بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے حماس اور حزب اللہ جیسی شدت پسند تنظیموں کے حوالے سے ازسر نو سوچنا ہو گا ۔
حماس کی پہل کی وجہ سے جو غزہ میں ابتک ہو چکا ہے اور حزب اللہ کی وجہ سے اسرائیل نے اب لبنان میں بھی بمباری شروع کر دی ہے لبنانی کی حکومت حزب اللہ سے دوری اختیار کر چکی ہے ، حرف آخر پاکستان کا سعودی عرب سے مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہے ایرانی حملوں کے بعد سعودی حکومت نے ردعمل دینے کا اعادہ کیا ہے پاکستان سعودی عرب سے اپنے معاشی مسائل کے حل کے لئے بڑی رقم کا مطالبہ کر رہا ہے اگر سعودی عرب مان گیا اور بدلے میں پاکستان سے ایرانی جارحیت کے جواب میں کاروائی کا مطالبہ کر دیا تو اس بدقسمت خطے کے پچاس کروڑ کے قریب انسانوں کے نصیب میں سکھ کا سانس نہیں ہو گا۔



