انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

رجیم چینج کا امریکی کھیل

سپیڈبریکر، میاں حبیب

ایران نے امریکی دھمکیوں کو بالا طاق رکھتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای شہید کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب 88 علماء پر مشتمل مجلس خبرگان رہبری کرتا ہے امریکہ ،اسرائیل، ایران جنگ کا اصل مقصد ایران میں رجیم چینج تھا جس میں امریکہ بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے امریکہ کی دیرینہ خواہش ہے کہ وہ ایران میں اپنی مرضی کی کھٹ پتلی حکومت لے آئے لیکن اس کی یہ خواہش پوری ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی۔

ایران پر سخت معاشی پابندیوں کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایران کے عوام ان پابندیوں سے تنگ آکر بغاوت کر دیں گے لیکن ایرانی تمام تر مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہے اسرائیل کا پچھلے سال ایران پر حملہ اور امریکہ کی براہ راست خوفناک بمباری کا مقصد بھی یہی تھا پھر ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرین کو سڑکوں پر لانے کے پیچھے بھی امریکی سازش کارفرما تھی جب ایرانی فورسز نے مظاہرین پر قابو پا لیا تو امریکہ کو غلط فہمی ہوئی کہ وہ لوہا گرم کر چکا ہے اگر ایران پر حملہ کر دیا جائے تو باغی جن کو بزور طاقت دبا لیا گیا ہے وہ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور جنگ کے دوران ان پر قابو پانا آسان نہ ہوگا وہ آرام سے رجیم چینج کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اسے کیا خبر تھی کہ یہ الٹ بھی پڑ سکتا ہے ۔

پہلے مرحلہ میں ہی امریکہ اسرائیل حملہ میں جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت سیاسی اور عسکری قیادت کا صفایا ہو گیا تو امریکہ کا خیال تھا کہ وہ کامیاب ہو گیا ہے لیکن ایرانی قوم اپنی قیادت کی شہادت کے بعد زیادہ مضبوط ہو گئی امریکہ کا خیال تھا کہ ایرانی قیادت کے خاتمہ کے بعد سب تتر بتر ہو جائے گا لیکن ایران کو ان تمام تر خدشات کا ادراک تھا اور انھوں نے اس کا بندوبست کر رکھا تھا پہلے ہی طے تھا کہ اگر کوئی شہید ہوتا ہے تو اس کی جگہ کس نے لینی ہے کس کے بعد کس نے آرڈر جاری کرنے ہیں انھوں نے تنصیبات تباہ ہونے کے خدشہ کے پیش نظر اپنے دفاعی اثاثے بھی پورے ملک میں پھیلا دیے تھے انھیں محفوظ رکھنے کے لیے زیر زمین انتظامات بھی کر لیے تھے یہی وجہ ہے کہ ایران پر ہزاروں ٹن بارود برسانے کے بعد بھی ایران ثابت قدم ہے وہ اسی طرح سے جواب دے رہا ہے ۔

جس طرح پہلے دن دیا تھا جب امریکہ کی کسی صورت بھی دال نہ گلی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ترپ کا پتہ پھینکا کہ امریکہ کے خلاف سخت نظریات رکھنے والے مجتبی خامنہ ای کو سپریم لیڈر نہ بنائیں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں ہماری مشاورت لے لیں اس کا خیال تھا کہ شاید جنگ کے خوف سے ڈر کر ایران اس کی بات مان لے گا اور مجتبی کی جگہ کسی اور کو سپریم لیڈر بنا کر جنگ کے خاتمہ کا سبب پیدا کر لیا جائے گا لیکن ایران نے سب سے زیادہ سخت خیالات کے حامی مجتبی خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے حالانکہ امریکہ نے واضح کر دیا تھا کہ ہم آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کو بھی مار دیں گے لیکن ایرانی فیصلہ سازوں نے ثابت کر دیا کہ وہ امریکہ کی کسی دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتے مجتبی بھی اپنے والد کی طرح شوق شہادت سے سرشار ہے اور اس کا انتخاب کرنے والوں نے بھی ثابت کیا کہ ایران خود مختار ملک ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے ۔

امریکہ کی اگر پرانی سیکرٹ دستاویزات کا جائزہ لیا جائے جو کہ وہ ایک خاص مدت کے بعد اوپن کر دیتا ہے ان دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کیسے کیسے حربوں کے ساتھ ملکوں کی قیادتیں تبدیل کرتا رہا ہے ہم نے دیکھا کہ 2003 میں عراقی صدر صدام حسین کو ہٹانے کے لیے کیا ڈرامہ رچایا گیا دنیا کو باور کرایا گیا کہ عراق کے پاس بڑے تباہ کن ہتھیار ہیں اور اس پر اپنے اتحادیوں سمیت چڑھ دوڑے اسی طرح 2011 میں لیبیا کے معمر قذافی کے ساتھ کیا کیا پہلے اسے مذاکرات پر لایا گیا اور مذاکرات کے دوران ہی اس کی فوج میں بغاوت کروا کر اسے مروا دیا یہی کچھ شام، مصر ،لبنان میں کیا گیا افریقی ملکوں میں بھی رجیم چینج کے نام پر اکثر ملکوں میں خانہ جنگی جاری ہے امریکہ جن ملکوں میں ایک بار رجیم چینج کر دیتا ہے پھر ان ملکوں میں دوبارہ کبھی استحکام نہیں آنے دیتا عراق، مصر،شام، لیبیا، لبنان سب اس کی مثالیں ہیں۔

امریکہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دنیا کے بیشتر ملکوں کے ساتھ سرحد نہ ہونے کے باوجود ان کاہمسایہ ہے اس کا پوری دنیا پر اثرورسوخ ہے وہ بیشتر ملکوں میں اپنے من پسند حکمرانوں کے ذریعے حکمرانی کر رہا ہے اب مشرق وسطی کو دیکھ لیں ایران کے علاوہ سب اس کی چھتر چھاوں تلے ہیں وہ ان کی سیکورٹی کے نام پر ان ملکوں میں اپنے اڈے بھی قائم کیے ہوئے ہیں ان کی سیکیورٹی کے نام پر ان سے اربوں ڈالر بھی اینٹتھا ہے اور انھیں آنکھیں بھی دکھاتا ہے جو حکمران رتی برابر بھی ہینکی پھینکی کرتا ہے وہاں رجیم چینج کا ڈول ڈال دیا جاتا ہے ۔

پاکستان میں رجیم چینج کا کھیل بھی بڑا پرانا ہے اور شاید سب سے آسان رجیم چینج پاکستان میں ہی ممکن ہے اگر دیکھا جائے تو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کی ایمبولینس کا پٹرول ختم ہونا اور گھنٹوں بے یارومددگار پڑے رہنا رجیم چینج کی ہی کڑی تھی اس کے بعد لیاقت علی خان کو جلسہ عام میں گولی مروا دینا بھی رجیم چینج کے کھیل کا حصہ تھا لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پھر پاکستان کو کبھی سیاسی استحکام نصیب نہ ہوا اور رجیم چینج کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا پہلے رجیم چینج کرکے ایوب خان کو لایا گیا پھر اس کی تذلیل کروا کر اسے اقتدار سے باہر کر دیا گیا پھر ملک کے دوٹکڑے کروا دیے گئے۔

جب ذوالفقار علی بھٹو سیاسی طور پر مضبوط ہوا تو اس کے پیچھے ڈالر دے کر مولوی لگوا دیے گئے بھٹو کی پھانسی کے پیچھے بھی امریکہ کی رجیم چینج پالیسی تھی ضیا الحق امریکی آشیر باد سے بھٹو کو پڑ گیا تھا جب ضیا الحق بھی ناگزیر ہو گیا تو اس کا جہاز ہی اڑا دیا گیا بس پھر کیا تھا کہ ہر دو آڑھائی سال بعد رجیم چینج کے نام پر قیادتیں تبدیل ہوتی گئی محمد خان جونیجو گیا تو نواز شریف آگیا پھر ہر دو آڑھائی سالوں کے بعد نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کی چار حکومتیں ختم کر دی گئیں بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی رجیم چینج کا کھیل تھا ابھی حال ہی میں عمران خان کو کس طرح مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر جیل میں ڈال دیا گیا سب پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں۔

ایک وقت میں تو یہ الفاظ زبان زد عام تھے یہاں پتہ بھی امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا لیکن آج کا پاکستان بہت بدلا ہوا پاکستان ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے فیصلے خود کرنا ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button