لاہور (سلمان حسین): پنجاب بھر میں جاری مون سون بارشوں کے بعد 41 اضلاع میں بارش کے پانی کی نکاسی، صفائی اور ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر واسا، لوکل گورنمنٹ، ستھرا پنجاب پروگرام، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر فیلڈ میں موجود ہیں۔
لاہور سمیت متعدد شہروں میں فوری نکاسی آب
حکام کے مطابق لاہور میں ایم اے جناح روڈ، راوی روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں سے بارش کا پانی فوری نکال کر ٹریفک بحال کر دی گئی۔ اسی طرح گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سمبڑیال، پسرور، سرگودھا، حافظ آباد اور دیگر شہروں میں بھی نکاسی آب مکمل ہونے کے بعد سڑکیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔
جدید مشینری سے نکاسی آب کا عمل تیز
وزیراعلیٰ مریم نواز کے ویژن کے تحت واسا کے نئے اضلاع کو جدید مشینری فراہم کی گئی ہے، جس کے باعث نکاسی آب کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور مؤثر ہوا ہے۔ آپریشن میں ایک ہزار سے زائد مشینیں اور ہزاروں واسا ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔
اے آئی اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سے نگرانی
بارشی پانی کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے 300 جدید کیمروں کے ذریعے 24 گھنٹے ڈیجیٹل مانیٹرنگ جاری ہے۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے اے آئی بیسڈ سسٹم کے ذریعے پانی جمع ہونے والے مقامات کی فوری نشاندہی کی جا رہی ہے، جبکہ 134 رین گیجز کے ذریعے بارشوں کا ڈیٹا بھی مسلسل جمع کیا جا رہا ہے۔
سیوریج لائنوں اور ڈرینز کی بڑے پیمانے پر صفائی
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مون سون سیزن سے قبل:
- 400 کلومیٹر سیوریج لائنوں کی صفائی کی گئی۔
- 700 کلومیٹر سے زائد ڈرینز صاف کیے گئے۔
- 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد مین ہولز کی صفائی مکمل کی گئی۔
اس کے علاوہ واسا کو ڈی واٹرنگ سیٹس، سیور جیٹنگ مشینیں، سکر مشینیں، کرینیں، ویل ایکسکویٹر اور دیگر جدید آلات بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
مون سون ایمرجنسی کیمپس فعال
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، اٹک، مری، چکوال، ڈی جی خان، راجن پور، فیصل آباد، سیالکوٹ، ننکانہ صاحب، ساہیوال، اوکاڑہ، خانیوال، پاکپتن، رحیم یار خان سمیت مختلف اضلاع میں مون سون ایمرجنسی ریلیف کیمپس اور واسا ٹیمیں چوبیس گھنٹے متحرک ہیں۔
شہریوں کا مثبت ردعمل
حکام کے مطابق گجرات، سیالکوٹ، لاہور اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں سے شہریوں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد شہریوں نے بارش کے پانی کی بروقت نکاسی اور صفائی کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔



