لاہور، اوکاڑہ، پشاور (ویب ڈیسک): ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی۔ مختلف حادثات میں مزید 4 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ پانچ روز تک گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے متعدد علاقوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کا الرٹ
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ آئندہ چند روز جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے ندی نالوں میں طغیانی کے پیش نظر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
شہریوں کو برساتی ندی نالوں، بجلی کے کھمبوں، نشیبی علاقوں اور خستہ حال عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
شیخوپورہ میں سیلابی پانی میں نہاتے ہوئے 3 بچے جاں بحق
ریسکیو حکام کے مطابق فیروزوالہ میں نالہ بھیڑ کا بند ٹوٹنے سے پانی رہائشی علاقے میں داخل ہوگیا، جہاں نہاتے ہوئے دانیال، نعمان اور برہان نامی تین کمسن بچے گہرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو 1122 نے بچوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا، تاہم ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
اوکاڑہ میں مکان کی چھت گرنے سے خاتون جاں بحق
اوکاڑہ کے نواحی علاقے حجرہ شاہ مقیم میں بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 45 سالہ خورشید بی بی جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ریسکیو 1122 نے ہسپتال منتقل کر دیا۔
دریائے سندھ اور دریائے کابل میں پانی کی سطح بلند
مسلسل بارشوں کے باعث دریائے سندھ اور دریائے کابل میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق:
- کنڈ خیر آباد میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔
- تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔
- دریا کنارے آباد شہریوں کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال
پی ڈی ایم اے کے مطابق:
- دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔
- دریائے چناب میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے، تاہم مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔
- دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقامات پر بھی نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔
- نالہ بسنتر (نارووال) میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے حساس علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ، تودے گرنے اور فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔
اسی طرح پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، ٹانک، لکی مروت، اورکزئی اور شمالی وزیرستان میں بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ
پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی رپورٹ کے مطابق 19 جولائی سے 26 جولائی کے دوران بارشوں اور فلیش فلڈ کے مختلف واقعات میں 32 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ متعدد زخمی اور بے گھر بھی ہوئے ہیں۔



