غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، 7 فلسطینی شہید، 20 زخمی، صحافیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ
غزہ، بیروت (ویب ڈیسک): غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف کارروائیوں میں کم از کم 7 فلسطینی شہید جبکہ 20 افراد زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
غزہ میں بمباری، امدادی کارروائیاں جاری
عرب میڈیا کے مطابق ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں صحافی بھی متاثر
فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبہ صرہ میں اسرائیلی فورسز نے کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں آنسو گیس کے گولے فائر کیے، جس سے متعدد فلسطینیوں کے ساتھ موقع پر موجود صحافی بھی متاثر ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب مقامی فلسطینیوں نے مسلح اسرائیلی آبادکاروں کو علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث کئی افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
دو مساجد کو آگ لگانے کا دعویٰ
فلسطینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے دو مساجد کو نذر آتش کر دیا۔
پہلا واقعہ نابلس کے جنوب میں واقع قصرہ قصبے میں پیش آیا، جہاں زیر تعمیر مسجد کو آگ لگا دی گئی۔ مقامی حکام کے مطابق مسجد کے داخلی حصے اور مرکزی دروازے کو نقصان پہنچا، جبکہ دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی درج کیے گئے۔
فلسطینی وزارت اوقاف کے مطابق دوسرا واقعہ طولکرم کے قریب کور گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک اور مسجد کو بھی آگ لگا کر اس کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کیے گئے۔
اسرائیلی فوج نے مسجد میں آتشزدگی کی اطلاع ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوجی موقع پر پہنچے، تاہم مبینہ حملہ آور وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔
جنوبی لبنان میں بھی بمباری
دوسری جانب جنوبی لبنان کے قصبوں کفر تبنیت اور مرکبا پر اسرائیلی بمباری کی اطلاعات ہیں۔ مزید برآں زاوتر الغربیہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے ملبے تلے سے 4 افراد کی لاشیں برآمد کرنے کی اطلاع دی ہے۔



