اسرائیلی حملے جاری، غزہ میں مزید 9 فلسطینی شہید، مغربی کنارے سے 18 افراد گرفتار
غزہ / بیروت (ویب ڈیسک): اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مختلف علاقوں میں تازہ فضائی اور ڈرون حملوں میں مزید 9 فلسطینیوں کو شہید جبکہ متعدد افراد کو زخمی کر دیا۔ دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز نے چھاپوں کے دوران 18 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا، جبکہ اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود جاری اسرائیلی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق غزہ شہر کے شمال مغرب میں واقع شیخ رضوان محلے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں لوگوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں ایک اور ڈرون حملے میں ایک فلسطینی شہید جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح خان یونس کے شمال مغرب میں المواسی کے علاقے القارا میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے میں ایک بچے سمیت تین فلسطینی جان کی بازی ہار گئے۔
غزہ شہر کے الصابرہ محلے میں ہونے والے حملے میں ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ تل الحوا محلے میں ایک مکان پر فضائی حملے کے نتیجے میں مزید دو فلسطینی شہید ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی گولہ باری سے دیر البلح میں واقع الاقصیٰ شہدا ہسپتال کے ادویات اور طبی سامان پر مشتمل گودام کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس سے ہسپتال کی طبی سہولیات متاثر ہوئیں، جبکہ قریبی بے گھر خاندانوں کے خیمے بھی تباہ ہوئے۔
ادھر مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے 18 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق صوبہ ہیبرون کے علاقے مسافر یطا کے گاؤں خشم الدراج سے 11 فلسطینی کارکنوں کو تعاقب کے بعد حراست میں لیا گیا۔
اسرائیلی فورسز نے نابلس کے علاقوں عینابس، برقعہ اور اسیرا الشمالیہ میں بھی چھاپے مارے، متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ایک رہائشی مکان کو عارضی تفتیشی مرکز میں تبدیل کر دیا۔ بیت لحم کے مغرب میں وادی فوکن، کنٹینر فوجی چوکی اور طوباس کے جنوب مشرقی قصبے تممون سے بھی مزید تین فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق حالیہ کارروائیوں سے شہری انفراسٹرکچر، ثقافتی ورثے اور تاریخی مقامات کو نقصان پہنچ رہا ہے، جو بین الاقوامی برادری کے لیے باعث تشویش ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات پر عسکری ڈھانچے اور سرنگیں موجود تھیں۔ تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں تاریخی بیو فورٹ قلعے کے اطراف اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر دھماکا خیز مواد استعمال کیا، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔



