پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

خیبرپختونخوا اسمبلی:ہندومیرج ترمیمی بل منظور،ملاکنڈ ٹیکس پر حکومت ، اپوزیشن میں گرماگرمی

وفاق ٹیکس ختم کرے:ڈاکٹر امجد، قبائلی اضلاع کی صورتحال پرتشویش ،وزیر اعلیٰ جرگہ بلائیں:حکومتی رکن انور زیب، حکومت کا کالام واقعے کی انکوائری کا اعلان

پشاور:(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا اسمبلی میں ملاکنڈ ڈویڑن میں ٹیکس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد خان نے وفاقی حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ میں ٹیکس کے خاتمے کے لیے فوری طور پر ایس آر او جاری کیا جائے۔

اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد خان نے کہا وفاقی وزیر امیر مقام اور قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباد اﷲ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویڑن میں ٹیکس صوبائی حکومت نے عائد کیا، حالانکہ یہ حقیقت کے منافی ہے۔

یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ 2017 میں پرویز خٹک کے دور حکومت میں رات کی تاریکی میں اجلاس بلا کر ٹیکس نافذ کیا گیاکیونکہ پی ٹی آئی کے تینوں ادوار میں کبھی رات 12 بجے ایسی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔

کیپرا نے صرف بعض غیر مقامی ہوٹل مالکان پر ٹیکس نافذ کیا تھا جبکہ ملاکنڈ کے مقامی باشندوں پر ایسا کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا،وفاقی حکومت پہلے سیاسی کریڈٹ کے لیے ٹیکس نافذ کرتی اور پھر واپس لے لیتی ہے،

عمران خان نے کبل گراؤنڈ میں انتخابی جلسے کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آکر ٹیکس کا خاتمہ کریں گے،اکتوبر 2018 میں سابق فاٹا اور پاٹا کو پانچ سال کے لیے ٹیکس استثنیٰ دیا گیا، چونکہ اس وقت وفاق میں اپوزیشن جماعتوں کی حکومت ہے، اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایک نیا ایس آر او جاری کرکے ملاکنڈ کا ٹیکس ختم کریں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے حکومتی رکن انور زیب نے قبائلی اضلاع کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تمام منتخب اراکین کا فوری جرگہ بلانا چاہیے کیونکہ قبائلی علاقوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے مگر مسائل پر کوئی آواز نہیں اٹھا رہاضم شدہ اضلاع کو تاحال این ایف سی میں ان کا جائز حصہ نہیں مل رہا، اگر صوبائی حکومت بھی قبائلی علاقوں پر کسی قسم کا ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس کی بھی مخالفت کریں گے،ضرورت پڑنے پر استعفیٰ دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

خیبرپختونخوااسمبلی نے ہندومیرج ترمیمی بل2026پاس کرلیا جس کا مقصد ہندوبرادری کو شادیوں کی رجسٹریشن کیلئے ضلعی سطح پر آسان اورموثرسہولیات فراہم کرناہے ۔بل کے تحت میرج رجسٹراروہ شخص ہوگا جس کا تقررایکٹ کی دفعہ7کے تحت کیاجائے گا۔

بل میں دفعہ7میں بھی ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے مطابق ہر ضلع یا ضرورت کے مطابق دیگرعلاقوں میں ایک یاایک سے زائد میرج رجسٹرار مقرر کئے جاسکیں گے تاکہ ہندو آبادی کوشادیوں کی رجسٹریشن کی سہولت مقامی سطح پر میسر آسکے۔

ترمیم کا بنیادی مقصد مقامی حکومتوں کوہندومیرج جسٹرارکے لائسنس جاری کرنے کا اختیار دیناہے تاکہ ہندوشادیوں کی رجسٹریشن کانظام نچلی سطح تک موثر اور آسان بنایاجاسکے۔ بل کی منظوری کیلئے تحریک صوبائی وزیربلدیات مینہ خان آفریدی نے پیش کی جسے کی یوان نے متفقہ طور پر منظوری دی۔

ایوان میں وگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبیلیٹیشن ترمیمی بل2026، ریڑھی بان پروٹیکشن بل2026ء ، محکمہ زراعت سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹ بھی پیش کردی گئیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سوات کے سیاحتی مقامات پر حفاظتی انتظامات کے فقدان اور کالام سانحے کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا گیا، صوبائی حکومت نے واقعے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر دیا۔

اسمبلی اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن ایمل جلیل جان نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ کالام سمیت سوات کے دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی حفاظت کے لیے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وزیر سیاحت ملک عدیل اقبال نے کہا سیاحت اولین ترجیحات میں شامل ہے ، تمام متعلقہ اتھارٹیز میں سہولت ڈیسک قائم ہیں جبکہ ٹورازم پولیس سیاحوں کی رہنمائی اور معاونت کے لیے تعینات ہے۔ سیف اﷲ جھیل کے قریب پیش آنے والے واقعے کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نوٹس لیا ہے اور اس کی انکوائری جاری ہے۔

وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد نےکہا کالام سانحے کے مقام پر حفاظتی جیکٹس موجود نہیں تھیں، پولیس بھی مؤثر ڈیوٹی انجام نہیں دے رہی تھی۔ انہوں نے واقعے کی مکمل انکوائری اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن ارباب عثمان نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں بدانتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ سیاحوں کی شکایات کے اندراج کے لیے ایک مرکزی آن لائن پورٹل قائم کیا جائے۔نیلوفر بابر نے جی ٹی روڈ سے نوشہرہ اٹک پل تک سڑک کے اطراف موجود بوسیدہ درختوں کی شاخ تراشی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے کہااس عمل کا مقصد درختوں کا خاتمہ نہیں بلکہ عوام، بجلی کے نظام اور قومی املاک کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button