
لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل سے داروغہ والا انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور مسعود ٹیک انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ میں پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا۔

وفد میں ایگزیکٹو کمیٹی ممبر رانا شعبان اختر، رمیز دیوان اور دیگر صنعتکار شامل تھے۔وفد نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر واہگہ چند افراد کے ہمراہ فیکٹری میں داخل ہوئے اور انسپیکشن کا مطالبہ کیا۔
وفد کے مطابق جب فیکٹری انتظامیہ نے شناخت، اختیار اور انسپیکشن کی نوعیت کے بارے میں استفسار کیا تو کوئی واضح تعارف یا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ یہ تمام افراد جن گاڑیوں پر آئے ان کی نمبر پلیٹیں بھی واضح نہیں تھیں۔

بعد ازاں صورتحال کشیدہ ہوگئی اور فیکٹری مالک مسعود اختر اور متعدد ملازمین کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک اور تشدد کیا گیا جبکہ تین ملازمین کو حراست میں بھی لیا گیا۔
اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی صنعتی یونٹ کے خلاف کوئی شکایت، خلاف ورزی یا قانونی معاملہ موجود ہو تو ریاستی اداروں کے پاس باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔
کسی بھی کاروباری ادارے کو نوٹس جاری کیا جاسکتا ہے، وضاحت طلب کی جاسکتی ہے یا قانون کے مطابق انسپیکشن کی جاسکتی ہے، لیکن صنعتکاروں اور ملازمین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، تشدد اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے اور حکومت مسلسل مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی بات کر رہی ہے۔
ایسے واقعات نہ صرف کاروباری برادری کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے کاروباری ماحول کے بارے میں منفی تاثر بھی پیدا کرتے ہیں۔فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ہم ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر صنعتکاروں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا جائے گا تو ملک میں نئی سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟
ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں، انہیں خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کی بات کرتے ہیں، لیکن اگر صنعتی یونٹس میں بغیر مناسب وضاحت، بغیر واضح قانونی جواز اور بغیر شفاف طریقہ کار کے اس نوعیت کے واقعات ہوں گے تو اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد شدید متاثر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی فیکٹری یا صنعتکار کے خلاف کوئی شکایت موجود تھی تو نوٹس جاری کیا جاتا، قانونی نکات سے آگاہ کیا جاتا اور انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا۔ صنعتی برادری قانون کا احترام کرتی ہے اور قانون کے مطابق ہر جائز کارروائی میں تعاون کے لیے تیار رہتی ہے، لیکن تشدد، دھونس، دھمکیوں اور غیر ضروری طاقت کے استعمال کی کسی مہذب معاشرے یا کاروباری نظام میں کوئی گنجائش نہیں۔
صدر لاہور چیمبر نے پنجاب حکومت اور اعلیٰ انتظامی حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور اگر اختیارات سے تجاوز یا غیر قانونی اقدامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ صنعتکار ملک کی معیشت، برآمدات، روزگار اور ٹیکس آمدن میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے تحفظات کو سننا اور انہیں محفوظ، باوقار اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری صنعتی برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ قانون کی حکمرانی، شفافیت اور باہمی احترام ہی پائیدار معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کی ضمانت ہیں ۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مطالبہ کرتا ہے کہ متاثرہ فریق کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، گرفتار ملازمین کے معاملے کا جائزہ لیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ صنعتی شعبہ خوف کے بجائے اعتماد کے ماحول میں کام کرسکے۔



