7500 دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کی منظوری، وسائل پر سب کا حق ہے: مریم نواز
لاہور(سلمان حسین) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس میں صوبے بھر کے دیہات کو مثالی گاؤں میں تبدیل کرنے اور صاف پانی کے منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 485 دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کا منصوبہ تیزی سے جاری ہے جبکہ پہلے مرحلے کی تکمیل پر 59 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے دوسرے مرحلے میں مزید 7500 دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کی اصولی منظوری دے دی اور منصوبے کی تکمیل کے لیے ٹائم لائن طلب کر لی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہر گاؤں کی ترقی سے قبل اور بعد کی ویڈیوز پیش کی جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ہر گاؤں میں واٹر سپلائی، سولر سسٹم ٹیوب ویل، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور گندے پانی کے تالابوں کی صفائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے 30 جون تک دیہات میں گندے پانی کے تالابوں کی صفائی کا ہدف مقرر کیا۔
مزید برآں، 31 اگست تک سیپٹک ٹینک کی تعمیر مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے، جس کے ذریعے پانی کو صاف کر کے آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
مریم نواز نے خوشاب اور چشتیاں میں واٹر بوٹلنگ پلانٹس کی جلد تکمیل اور راجن پور میں واٹر سپلائی اسکیم 15 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے خراب واٹر فلٹریشن پلانٹس کی فوری مرمت کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور دیہی علاقوں میں بسنے والے افراد کو وسائل پر مساوی حق دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دیہات کو مثالی گاؤں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہر صورت مکمل کیا جائے گا تاکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ مریم نواز نے گوجرانوالہ کے نواح میں دو کمسن بھائیوں کے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔



