کسی درویش سے پوچھا گیا،حضور ذرا بتلائیں دنیا میں سب سے اچھا کون ہے؟ فرمانے لگے بیٹا جس کا”داؤ” نہ چلے بس وہی اچھا ہے۔عرصہ دراز سے لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنی رہنے والی لوکل پولیس کی دعائیں تب رنگ لائیں جب ٹریفک پولیس وارڈنز کو اختیار کی تلوار سونپی گئی،اسکے بعد چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا کہ عوام کی گالیاں،بددعائیں ٹریفک وارڈنز کی جھولیاں بھرنے لگیں مگر کمیشن کے لالچ میں اندھے وارڈنز کو کمیشن نے "ٹھنڈا” بنا کر رکھ دیا۔
وارڈنز کا”داؤ” لگا تو سمجھ میں آیا کہ انسان تب تک ہی اچھا ہے جب تک اسکا "داؤ” نہ لگے۔لوکل پولیس کو ٹریفک پولیس کا شکر گزار رہنا چاہئے جنھوں نے عوامی تقید،گالم گلوچ اور بد دعاؤں کا رخ اپنی طرف موڑ لیا۔ویسے اس کمیشن میں جادوئی تاثیر ہے،انسان کو”ٹھنڈا” بنا دیتی ہے بھلے وہ انسان سرکاری ملازم ہو یا سیاستدان۔
ہم اکثر سنتے آئے ہیں قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے آج نیا محاورہ بھی سن لیجئے کہ کمیشن اپنا راستہ خود بناتا ہے۔پہلے ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان شروع ہوئے جب لوگوں نے ٹریفک قوانین کی پاسداری عمل میں لاتے ہوئے ہیلمٹ پہننے شروع کئے عین اسی لمحے کمیشن نے اپنا راستہ خود بنایا اور ہیلمٹ پہننے والوں کو روک روک کر ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے کی صورت میں چالان شروع کر دئیے اور اگر کسی شریف النفس انسان کے پاس لائسنس نکل آیا تو اسی لمحے پھر کمیشن نے اپنا راستہ خود بنایا اور سرکار کی طرف سے جاری کردہ نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے چالان کر دیا۔
اسی دوران ایک اور دلچسپ واقع دیکھنے کو ملا کہ کمیشن کے لالچ نے ایسا نابینا کر دیا کہ سڑک کو پارلیمنٹ بنا کر وہیں قانون پاس کیا اور بغیر ہیلمٹ والوں پر ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کر دیا گیا۔کمیشن کے شوق نے وارڈنز کو ایسا شعور عطا کیا کہ شکار پکڑنے کے لئے بیرئیر ناکے تک لگا لئے گئے اور جھنڈ کی شکل میں شکار پکڑنے لگے۔چالان کرواتا شخص اس جھنڈ میں یوں نظر آنے لگا جیسے بھیڑیوں کے جھنڈ میں بکری۔عوامی حلقے میں چہ مگوئیاں کرتے پائے گئے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ وارڈنز کم اور ریوینیو ادارے کے اہلکار زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جتنا زور ہیلمٹ پر دیا جا رہا ہے ضرور اسکے پیچھے کسی طاقتور سرکاری یا سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے جو ہیلمٹ میں انویسٹ کر چکے ہیں اور اب اسے بیچنے کیلئے قانون بنا رہے ہیں۔کچھ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا خزانہ خالی ہو چکا ہے اور ریوینیو جنریٹ کرنے کیلئے ایسے عوام قاتل قانون بنائے جا رہے ہیں۔کچھ کا کہنا ہے کہ یہاں لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں اور وارڈنز لوگوں کے چالان کر کے انکے منہ سے نوالہ چھیننے کے درپے ہیں اور یہ زیادتی حکومت وقت کی طرف سے ہو رہی ہے یہ حکومت عوام دوست نہیں بلکہ عوام کی معاشی قاتل ہے۔
عوام میں اضطراب پایا جا رہا ہے مگر کمیشن چپ سادھے راستے پہ راستہ بنائے جا رہا ہے اور حکمران صاحبہ عوامی بے چارگی سے بے خبر اپنے اشتہاراتی تشہیری مہم میں مصروف ہیں۔دوسری جانب اپوزیشن عوامی مسائل سے بے پرواہ اپنی سیاسی ساکھ بچانے میں مصروف ہے اور اپنا لیڈر جیل سے باہر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔اپوزیشن جسے ہر دور میں عوام کی آواز سمجھا جاتا رہا اسں بار کی اپوزیشن نے حکمران جماعت کیلئے میدان خالی چھوڑ دیا ہے۔
صحافتی ادارے جنھیں ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے وہ عوامی مسائل سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے حکومت و اپوزیشن کے دنگل کی کمنٹری میں مصروف ہیں۔عوامی جماعت کا نعرہ لگانے والی پاکستان پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ بن کر اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے۔مذہبی جماعتیں ایک دوسرے کوالزام دینے میں مصروف ہیں۔ہر طرف عوامی مفاد بھلا کر ذاتی مفادات کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔حکمران جماعت اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی من مانی کرتے ہوئے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنانے میں مصروف ہے۔
کہیں تاجروں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے تو کہیں صاف ستھرا پنجاب کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے تجاوزات کی آڑ میں غریب لوگوں کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے۔سیاستدانوں کی بدولت قرضوں میں ڈوبا ایک مقروض ملک جس کا بچہ بچہ قرضے کی دلدل میں ڈوبا پڑا ہے،اس ملک کی صفائی ستھرائی کا خواب دیکھنے والوں کو چاہیے کہ لوگوں کے جسموں پر قرض سے جمی دھول پہلے صاف کریں اور قوم کے ہر فرد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کریں کیونکہ بے روزگاری جرائم کو جنم دیتی ہے اور جرائم معاشرتی ماحول میں آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔لوگوں کے ٹھیلے اٹھا کر انہیں بیروزگار کر کے پتا نہیں آپ صاف ستھرا پنجاب بنا پائیں گے یاں نہیں مگر اپنی سیاسی قبر ضرور کھدوا لیں گے۔



