پاکستانتازہ ترین

’’کاکروچ‘‘ اکٹھے ہوگئے تو سب الٹ دیں گے، نظام درست کریں، نئے انتظامی یونٹس اور صوبے بنائیں: وزیر داخلہ محسن نقوی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں مزید انتظامی یونٹس یا نئے صوبے بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام فرسودہ ہو چکا ہے، اسے جمہوریت کی روح کے مطابق بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی خواہشات بروقت پوری نہ کی گئیں تو حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی پہلی معاشی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں سے آئے تاجروں نے اپنے مسائل کے ساتھ ساتھ ملک میں موجود ترقی کے مواقع کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال تک پہنچانے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے اور اگر 70 سے 80 برس سے کوئی نظام مؤثر انداز میں نہیں چل رہا تو اس کی بنیادی وجوہات کو تسلیم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں سیاست کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ بھی یہی مسائل اور یہی بحثیں جاری رہیں گی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں، تاہم دنیا میں جمہوریت کے مختلف ماڈلز موجود ہیں اور پاکستان کو بھی اپنے حالات کے مطابق مؤثر نظام اپنانا چاہیے۔ ان کے مطابق زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم اور دیگر زرعی مصنوعات درآمد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پالیسی سازی میں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے سربراہ اور دیگر ذمہ داران دن رات محنت کر رہے ہیں، تاہم صرف "فائر فائٹنگ” سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جب تک جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے بنیادی نظام میں اصلاحات نہیں کی جاتیں، ملک کے مسائل برقرار رہیں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے چیمبرز آف کامرس، کاروباری برادری اور سیاسی قیادت کو مل کر نظام میں بہتری لانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کا نظام درست کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے تو اصلاحات ممکن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں عام شہری کو بروقت انصاف، بنیادی سہولیات اور حکومت تک رسائی میسر نہیں۔ نئی عدالتوں کے قیام کے باوجود انصاف کے حصول میں مشکلات برقرار ہیں، اس لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید انتظامی یونٹس یا نئے صوبے بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جب تک نئے انتظامی یونٹس قائم نہیں ہوں گے، انہیں اختیارات نہیں دیے جائیں گے اور نئی قیادت سامنے نہیں آئے گی، عوامی مسائل ختم نہیں ہوں گے۔

انہوں نے نوجوانوں سے متعلق کہا کہ انہیں چند ہزار روپے یا ٹیبلیٹ دے کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوان صرف میرٹ، انصاف اور روزگار کے مساوی مواقع چاہتے ہیں۔ محسن نقوی نے کہا، "اس نوجوان کو نوجوان کہیں یا کاکروچ، اگر یہ اکٹھا ہو گیا تو سب کچھ الٹ سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے مطالبات اس مرحلے سے پہلے پورے کیے جائیں۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ماہانہ ہزاروں ڈالر کما سکتے ہیں، ضرورت صرف انہیں بہتر مواقع فراہم کرنے اور نظام کو شفاف بنانے کی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ وفاقی مالیاتی نظام بھی اصلاحات کا متقاضی ہے کیونکہ حکومت ہر سال خسارے کا بجٹ بناتی ہے اور قرضے لے کر معاملات چلاتی ہے، جبکہ بنیادی نظام کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر نئے صوبوں، انتظامی اصلاحات، معاشی استحکام، گورننس اور دیگر قومی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق صرف سیمینارز اور تقاریر سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی فیصلے ناگزیر ہیں۔

محسن نقوی نے کاروباری برادری کو بھی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری شخصیات صرف سیاسی جماعتوں کی مالی معاونت تک محدود نہ رہیں بلکہ خود بھی ملکی پالیسی سازی میں حصہ لیں۔

صدر آصف علی زرداری سے ملاقات، امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تبادلہ خیال

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے صدر مملکت کو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیش رفت پر بریفنگ دی۔

صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف پاک افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد اور ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، داخلی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم قومی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button