اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو جدید، آسان اور شفاف سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے بلنگ سسٹم کا ٹیکنیکل آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں سہولیات، دستاویزات کی تصدیق کے عمل کی ڈیجیٹلائزیشن، شکایات کے نظام اور بیرون ملک سے پاکستان میں مختلف ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزارت خارجہ، مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفرا، وزارت داخلہ، ایف آئی اے، وزارت آئی ٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کے فوری حل اور سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کیو آر کوڈ کے ذریعے شکایات درج کرانے کے نظام سے متعلق بیرون ملک پاکستانیوں میں بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے اور تمام پاکستانی سفارتخانوں میں یہ سہولت نمایاں طور پر آویزاں کی جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاور آف اٹارنی، جائیداد کی خرید و فروخت اور دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو آسان بنانے کے لیے کیو آر کوڈ متعارف کرایا جا چکا ہے، جبکہ وزارت خارجہ اسلام آباد میں شام کی شفٹ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں دستاویزات کی تصدیق کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور کورئیر سروس کے ذریعے بھی تصدیقی عمل ممکن بنا دیا گیا ہے۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ وزارت خارجہ کا نظام ہائر ایجوکیشن کمیشن، انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے تصدیقی عمل مزید تیز اور مؤثر ہو گیا ہے۔ اپوسٹائل نظام کے تحت تصدیقی عمل کو ون اسٹیپ بنایا جا چکا ہے، جبکہ موبائل ایپلی کیشن پر بھی کام جاری ہے، جس کے ذریعے برتھ، ڈیتھ، میرج اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس سمیت دیگر دستاویزات کی آن لائن تصدیق ممکن ہوگی۔
بجلی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت
دریں اثنا وزیراعظم کی زیر صدارت پاور ڈویژن کا الگ جائزہ اجلاس بھی ہوا، جس میں بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور بجلی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے ہر سطح پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ملک بھر میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بلنگ سسٹم کا ٹیکنیکل آڈٹ کرانے اور ان کی کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریے (KPIs) مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام اہداف واضح ٹائم لائن کے ساتھ مقرر کیے جائیں، جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والی ڈسکوز کو اعزاز سے نوازا جائے۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے گاؤں کی سطح پر شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے منصوبے تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے 100 فیصد ریکوری حاصل کی، جبکہ تکنیکی اور کمرشل نقصانات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ بجلی چوری کی روک تھام اور ریکوری بہتر بنانے کے لیے حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان اور ہزارہ میں ڈسکو سپورٹ یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ ملتان، لاہور، پشاور، ہزارہ اور کوئٹہ ریجنز میں 1 کروڑ 62 لاکھ سنگل فیز اے ایم آئی میٹرز نصب کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
وزیر صحت سے ملاقات، انسانی سمگلنگ کے خاتمے پر زور
بعد ازاں وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور وزارت صحت کے جاری منصوبوں اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ ملاقات میں مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
علاوہ ازیں انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انسانی سمگلنگ ایک سنگین اور مکروہ جرم ہے، جس کے خاتمے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ، مؤثر اور غیر متزلزل حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔



