پاکستانتازہ ترین

سورنج مائن سانحہ: شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے، سلطان محمد خان

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کا وفد عبدالستار کی قیادت میں جائے حادثہ پہنچ گیا، زخمی اور متاثرہ کان کنوں سے اظہارِ یکجہتی

کوئٹہ (ویب ڈیسک): پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان نے بلوچستان کے علاقے سورنج میں کوئلہ کان کے المناک حادثے میں 36 کان کنوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

اپنے مشترکہ بیان میں سلطان محمد خان، محمد زمین، ساجد کھوکھر، سعید اللہ، سفر مری، شاکر سمالانی اور حاجی سیف اللہ خان نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

اس دوران پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کا ایک وفد مرکزی چیئرمین عبدالستار کی قیادت میں، جس میں شاہ علی بگٹی، منظور احمد بلوچ اور عبدالحلیم خان شامل تھے، سورنج میں جائے حادثہ پہنچا۔ وفد نے زخمی اور محفوظ رہنے والے کان کنوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت و ہمدردی کیا۔

واضح رہے کہ سورنج میں علی بھائی کول کمپنی کی کان میں پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں آخری اطلاعات تک 36 کان کن جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ متعدد مزدور زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سلطان محمد خان نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر کی کوئلہ کانوں میں آئے روز پیش آنے والے حادثات تشویشناک ہیں، جن کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے کانوں میں حفاظتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث کوئلہ کانیں مزدوروں کے لیے موت کے کنویں بنتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غریب کان کن اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر روزگار کماتے ہیں، مگر ناقص حفاظتی انتظامات انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں، اس لیے مائنز میں جدید حفاظتی نظام اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

مرکزی چیئرمین عبدالستار نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے فقدان اور صحت و سلامتی سے متعلق بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث کوئلہ کانوں میں حادثات معمول بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں فٹ گہری کانوں میں مزدور جدید مشینری، سانس لینے کے ماسک، آکسیجن سلنڈرز اور گیس کی مقدار جانچنے والے آلات کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیشتر کانوں میں مناسب وینٹیلیشن اور میتھین و کاربن مونو آکسائیڈ جیسی خطرناک گیسوں کی مؤثر نگرانی کا نظام موجود نہیں۔ اگر جدید ڈیجیٹل گیس ڈیٹیکٹرز اور معیاری وینٹیلیشن سسٹم کا استعمال یقینی بنایا جائے تو متعدد جان لیوا حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرانے طریقہ کار ترک کرکے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کانوں کا معائنہ لازمی قرار دیا جائے۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن بلوچستان کے چیئرمین محمد زمین نے کہا کہ سورنج مائن حادثہ چیف ایریا انسپکٹر اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افسران سے بھی تحقیقات کی جائیں اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے، تمام کان کنوں کو ہیلمٹ، حفاظتی چشمے، ماسک اور آکسیجن سلنڈر فراہم کیے جائیں، روزانہ کی بنیاد پر کانوں کا معائنہ کیا جائے اور حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button